@operatorfiles: WE DIDNT COME TO PLAY 🇺🇸 || #fyp #militarylife #capcut #edit #training

𝘖𝘗𝘌𝘙𝘈☦︎𝘖𝘙
𝘖𝘗𝘌𝘙𝘈☦︎𝘖𝘙
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 02 June 2026 18:04:41 GMT
7864
1225
16
84

Music

Download

Comments

.milit4ry.specialforce
𝐌 𝐈 𝐋 𝐈 𝐓 𝐀 𝐑 𝐘 :
Tufff 🔥🔥
2026-06-02 18:08:57
5
mk.kxi
𝑲𝒂𝒊 :
gonna need that song buddy🙏
2026-06-08 13:15:20
0
military.archivez
FO.Archivez™ :
Tuff ash
2026-06-03 07:36:26
1
realtacticallegends
𝕿𝖆𝖈𝖙𝖎𝖈𝖆𝖑 𝖑𝖊𝖌𝖊𝖓𝖉 :
🔱🖤🤙
2026-06-03 01:14:00
4
lcugedits
𝑀𝑎𝑑𝑑𝑒𝑥℗ :
Im bricked bro holy🙌🥹
2026-06-02 18:14:08
1
unhappy.808
Nobody :
Просто имба💥
2026-06-02 18:24:56
1
bell7865339
lalala 2.0 :
💥💥
2026-06-05 17:31:02
1
To see more videos from user @operatorfiles, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

StopBlasphemyBusiness توہین مذہب گینگ کے سرغنہ راؤ عبدالرحیم کا دھندہ کتنا پرانا ہے یہ کیس اس دھندے کے حوالے سے ذہن بننے کی تقریبا شروعات تھی۔  رمشا مسیح ایک نوعمر مسیحی لڑکی تھی جس کی عمر اس وقت تقریباً 14 سال تھی (کچھ رپورٹس کے مطابق وہ ذہنی طور پر بھی کمزور تھی)۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ اسلام آباد کے نواحی علاقے مہران ٹاؤن، کوٹ رادھا کشن کے قریب ایک کچی بستی میں رہتی تھی۔ اس کا تعلق پاکستان کی مسیحی اقلیت سے تھا، جو پہلے ہی خوف اور تعصب کا سامنا کرتی ہے۔ اگست 2012 میں رمشا پر یہ سنگین الزام لگایا گیا کہ اُس نے مبینہ طور پر قرآن پاک کے صفحات کو نذرِ آتش کیا ہے۔ یہ الزام محلے کے ایک مقامی امام حافظ خالد جدون نے لگایا، جس کے بعد علاقے میں اشتعال پھیل گیا، اور کئی لوگوں نے رمشا اور اُس کے خاندان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ حالات اتنے بگڑ گئے کہ پولیس نے رمشا کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا تاکہ اسے مشتعل ہجوم سے بچایا جا سکے۔ چند روز بعد ایک حیران کن موڑ آیا جب مسجد کے ایک مؤذن نے عدالت میں گواہی دی کہ امام خالد جدون نے خود قرآن کے صفحات کو جلا کر رمشا پر جھوٹا الزام لگایا تاکہ مسیحی برادری کو علاقے سے نکالا جا سکے۔ اس انکشاف کے بعد امام کو گرفتار کر لیا گیا، اور رمشا کو عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا۔ بعد ازاں، اس کے خلاف مقدمہ ختم کر دیا گیا، اور عدالت نے اسے باعزت بری کر دیا یاد رہے راؤ عبدالرحیم وہی ہے جو اس کم سن غریب مسیحی بچی رمشا مسیح کو بلاسفمی کے جھوٹے الزام میں پھانسی کی سزا دلوانے کیلئے جھوٹے دلائل گھڑتا تھا یہ اس غلیظ امام مسجد ملا  کا وکیل تھا جس نے ایک کم عمر بچی کو توہین کے مقدمے میں  پھنسانے کی کوشش کی تھئ۔ تحقیقات  میں ثابت ہوا تھا کہ ایک خبیث مولوی نے اس مظلوم بچی پر جھوٹا پرچہ درج کروایا تھا۔ جس پر  اس مولوی کو گرفتار کر کیا گیا تھا۔ #blasphemy #pakistan #foryoupage #foryou #viral #highcourt
StopBlasphemyBusiness توہین مذہب گینگ کے سرغنہ راؤ عبدالرحیم کا دھندہ کتنا پرانا ہے یہ کیس اس دھندے کے حوالے سے ذہن بننے کی تقریبا شروعات تھی۔ رمشا مسیح ایک نوعمر مسیحی لڑکی تھی جس کی عمر اس وقت تقریباً 14 سال تھی (کچھ رپورٹس کے مطابق وہ ذہنی طور پر بھی کمزور تھی)۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ اسلام آباد کے نواحی علاقے مہران ٹاؤن، کوٹ رادھا کشن کے قریب ایک کچی بستی میں رہتی تھی۔ اس کا تعلق پاکستان کی مسیحی اقلیت سے تھا، جو پہلے ہی خوف اور تعصب کا سامنا کرتی ہے۔ اگست 2012 میں رمشا پر یہ سنگین الزام لگایا گیا کہ اُس نے مبینہ طور پر قرآن پاک کے صفحات کو نذرِ آتش کیا ہے۔ یہ الزام محلے کے ایک مقامی امام حافظ خالد جدون نے لگایا، جس کے بعد علاقے میں اشتعال پھیل گیا، اور کئی لوگوں نے رمشا اور اُس کے خاندان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ حالات اتنے بگڑ گئے کہ پولیس نے رمشا کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا تاکہ اسے مشتعل ہجوم سے بچایا جا سکے۔ چند روز بعد ایک حیران کن موڑ آیا جب مسجد کے ایک مؤذن نے عدالت میں گواہی دی کہ امام خالد جدون نے خود قرآن کے صفحات کو جلا کر رمشا پر جھوٹا الزام لگایا تاکہ مسیحی برادری کو علاقے سے نکالا جا سکے۔ اس انکشاف کے بعد امام کو گرفتار کر لیا گیا، اور رمشا کو عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا۔ بعد ازاں، اس کے خلاف مقدمہ ختم کر دیا گیا، اور عدالت نے اسے باعزت بری کر دیا یاد رہے راؤ عبدالرحیم وہی ہے جو اس کم سن غریب مسیحی بچی رمشا مسیح کو بلاسفمی کے جھوٹے الزام میں پھانسی کی سزا دلوانے کیلئے جھوٹے دلائل گھڑتا تھا یہ اس غلیظ امام مسجد ملا کا وکیل تھا جس نے ایک کم عمر بچی کو توہین کے مقدمے میں پھنسانے کی کوشش کی تھئ۔ تحقیقات میں ثابت ہوا تھا کہ ایک خبیث مولوی نے اس مظلوم بچی پر جھوٹا پرچہ درج کروایا تھا۔ جس پر اس مولوی کو گرفتار کر کیا گیا تھا۔ #blasphemy #pakistan #foryoupage #foryou #viral #highcourt

About