@masoomlover03: کونسے رشتے؟ کہاں کے رشتے؟ جب انسان اپنے اندر کی گھٹن، اداسی اور تکلیف سے آہستہ آہستہ مر رہا ہوتا ہے، تو اُس وقت اسے احساس ہوتا ہے کہ حقیقت میں اُس کے ساتھ کون ہے۔ بہت سے لوگ ہجوم کی صورت میں آس پاس موجود ہوتے ہیں، مگر دل کا بوجھ اٹھانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ جب رات کے آخری پہر آنکھوں سے نیند روٹھ جائے، جب دل بے شمار باتوں سے بھرا ہو مگر سننے والا کوئی نہ ہو، جب چیخنے کا دل چاہے مگر آواز گلے میں ہی دم توڑ دے، تب انسان سمجھ جاتا ہے کہ ہر رشتہ ہر درد کے وقت ساتھ نہیں کھڑا رہتا۔ کچھ لوگ صرف خوشیوں کے ساتھی ہوتے ہیں۔ وہ تب تک قریب رہتے ہیں جب تک آپ ہنستے رہیں، مسکراتے رہیں اور اُن کی توقعات پوری کرتے رہیں۔ مگر جیسے ہی آپ خود ٹوٹنے لگتے ہیں، وہ آہستہ آہستہ دور ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب انسان آئینے میں خود کو دیکھ کر یہ مان لیتا ہے کہ اس کی سب سے بڑی پناہ وہ خود ہے۔ اپنی ہمت، اپنی خاموشی، اپنے آنسو اور اپنے رب کے ساتھ تنہائی کے وہ لمحے، یہی اس کا سہارا بن جاتے ہیں۔ یہ دنیا اکثر مضبوط لوگوں کی تکلیف نہیں دیکھتی۔ لوگ آپ کی مسکراہٹ دیکھتے ہیں، مگر اُس مسکراہٹ کے پیچھے چھپے زخم نہیں دیکھتے۔ وہ آپ کی خاموشی کو سکون سمجھتے ہیں، حالانکہ بعض اوقات خاموشی درد کی آخری حد ہوتی ہے۔ تب دل سے ایک ہی سوال نکلتا ہے: کونسے رشتے؟ کہاں کے رشتے؟ جب روح تھک چکی ہو، دل زخمی ہو، اور اندر ہی اندر سانس لینا بھی مشکل لگنے لگے، تو انسان کے پاس حقیقت میں صرف وہی رہ جاتا ہے جو ہر حال میں اُس کے ساتھ ہوتا ہے — وہ خود، اور اُس کا رب۔ 🥀🖤