، یہ *انگریز دور کا ریلوے باؤنڈری پلر* یا *سروے پلر* ہے۔
*اصل مقصد:*
1. *ریلوے باؤنڈری مارکر*:
انگریزوں نے جب ریلوے لائن بچھائی تھی تو ریلوے کی زمین کی حد بندی کے لیے ایسے لوہے کے پلر لگائے جاتے تھے۔ ان پر GIPR، NWR یا ریلوے کا نام اور نمبر لکھا ہوتا تھا۔ یہ بتاتے تھے کہ "یہاں سے یہاں تک زمین ریلوے کی ملکیت ہے"۔
2. *Great Trigonometrical Survey کے پلر*:
1800s میں انگریزوں نے پورے برصغیر کا سروے کیا تھا۔ نقشے بنانے کے لیے اونچی جگہوں پر ایسے مستقل پلر لگائے گئے تھے۔ اوپر والا گول حصہ "تھیوڈولائٹ" مشین رکھنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
*پہچان:*
- *شکل*: آٹھ پہلو / چھ پہلو لوہے کا کھمبا، اوپر گول گیند نما
- *میٹیریل*: ڈھلا ہوا لوہا، اس لیے 100-150 سال بعد بھی کھڑا ہے
- *نشان*: اکثر ان پر "GTS"، "Railway" یا سال لکھا ہوتا تھا۔ آپ والے پلر پر سفید رنگ سے کچھ لکھا ہوا ہے جو مٹ گیا ہے
*اب کیوں ملتے ہیں؟*
ریلوے لائن بدل گئی یا سڑک بن گئی، لیکن یہ پلر وہیں چھوڑ دیے گئے۔ پاکستان اور انڈیا میں آج بھی پرانے ریلوے ٹریک کے ساتھ یا پہاڑی علاقوں میں مل جاتے ہیں۔
یہ "ورثہ" ہے۔ اگر آپ کو ایسا پلر ملے تو اسے خراب نہ کریں۔ محکمہ آثارِ قدیمہ کے لیے یہ تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔
2026-06-03 20:48:03
10
🌺🌺Rahmat wali.$🌹 :
de ta da kismat Mogi we😃😃😃😂😂😂😂😂
2026-06-09 04:32:07
3
👑Prince of Karak👑 :
آسمانی بجلی گرنے کیلیے
2026-06-13 18:44:11
1
S💫K Mohmand :
da ka zamong zaye wa no was ba nawa😅😂
2026-06-07 14:19:15
2
Choti si dunya :
zamong kali kai railway line hudood dapara di
2026-06-06 10:31:28
1
hina ali :
😂😂😂
2026-06-08 12:43:37
1
abidalikhan :
🥰
2026-06-08 14:08:23
1
Junaid Khan :
😂😂😂
2026-06-08 18:48:27
1
King👑 Arrssal :
❤️
2026-06-05 06:25:08
1
ᴍᴿ᭄ᴹᵘzᶻᵃmᵐⁱˡQuℝesђi🦁, メ࿐☆, :
❤️❤️❤️
2026-06-03 11:44:23
1
KHAYAM_MALIK_309 :
🥰🥰🥰
2026-06-03 11:50:32
1
👑 # $ K # 👑 :
🥰🥰🥰
2026-06-03 05:11:29
1
𒆜🆉🆄🅺🅰🆃🅰🅺🅸𒆜 :
🥰🥰🥰
2026-06-03 07:52:58
0
MUSA♠️ BOOS :
🥰🥰🥰
2026-07-10 18:32:52
0
ATTA ULLAH UTK :
❤️❤️❤️
2026-06-11 00:55:15
1
Babar 420 :
😳
2026-06-21 12:33:43
1
zeshan Khan :
یہ جو لوہے کے ستون یا پلرز آپ تصویر میں دیکھ رہے ہیں، انہیں Bollards (بولارڈز) کہا جاتا ہے۔ انگریز دورِ حکومت (British Raj) میں مالاکنڈ اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں سمیت برِصغیر کے مختلف حصوں میں انہیں نصب کرنے کے پیچھے چند اہم اور دلچسپ مقاصد تھے:
1۔ گھوڑوں اور بگیوں کو باندھنا (Tethering Posts)
اس دور میں آمدورفت کے لیے گھوڑے، خچر اور بگیاں استعمال ہوتی تھیں۔ سرکاری دفاتر، ڈاک بنگلوں، قلعوں اور چھاؤنیوں (Cantts) کے باہر یہ لوہے کے ستون اس لیے لگائے جاتے تھے تاکہ وہاں آنے والے افسران یا عام لوگ اپنے گھوڑوں اور خچروں کو ان کے ساتھ محفوظ طریقے سے باندھ سکیں۔
2۔ راستوں کی حد بندی (Traffic Control & Barriers)
ان کا ایک بڑا مقصد حد بندی کرنا تھا۔ یہ ستون ایسی جگہوں پر لگائے جاتے تھے جہاں وہ بگیوں، باربرداری والی گاڑیوں یا بعد میں آنے والی ابتدائی گاڑیوں کو کسی مخصوص پیدل چلنے والے راستے، سرکاری عمارت کی حدود، یا کھائی والے حساس راستوں پر جانے سے روک سکیں۔
3۔ پرانی توپوں کا دوبارہ استعمال (Cannon Bollards)
ایک بہت ہی دلچسپ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ انگریز فوج جب پرانی یا ناکارہ ہو جانے والی توپوں (Cannons) کو ریٹائر کرتی تھی، تو ان کے پچھلے حصے کو زمین میں الٹا گاڑ کر انہیں بطور حفاظتی پلرز یا بولارڈز استعمال کر لیتی تھی۔ تصویر میں موجود پلر کا ڈیزائن بھی روایتی پرانی توپوں یا اسی طرز کے بنے ہوئے وزنی لوہے کے حفاظتی ستونوں جیسا ہی ہے۔
خلاصہ: آسان الفاظ میں یہ اس دور کے "پارکنگ سٹینڈز" اور "حفاظتی رکاوٹیں" تھے جو گھوڑوں کو باندھنے اور راستوں کو منظم رکھنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ مالاکنڈ چونکہ ایک اہم فوجی اور سٹریٹجک علاقہ تھا، اس لیے وہاں انگریزوں نے اپنے انفراسٹرکچر کے ساتھ یہ ستون بڑی تعداد میں نصب کیے۔
2026-06-11 07:31:08
1
To see more videos from user @informativevideos18, please go to the Tikwm
homepage.