@bishoujomom: I just get so nervous around you 🫦

Juliette Michele
Juliette Michele
Open In TikTok:
Region: US
Wednesday 03 June 2026 20:08:10 GMT
187188
6368
191
689

Music

Download

Comments

antonio.gabriel147
antonio.gabriel147 :
How is this build even possible 💔
2026-06-12 14:49:07
67
kyivstonerr
￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ ￴ :
uncrackable
2026-06-14 09:41:42
17
jasowan
Yuumi Gaming :
Jesus Christ
2026-06-06 21:40:45
19
mannthomas145
GhostCap2000 :
I wish i could hug you my queen 🥰🥰🥰🥰
2026-06-04 02:07:22
9
omon4k0
🔹дикобраз🔹 :
2026-06-22 17:04:35
2
zinnoyt
ZINnoYt :
это уже даже не привлккает
2026-06-14 03:06:41
18
demonplaysgames0
Demonplaysgames :
why am I rocked
2026-06-18 17:51:08
5
sch_8801
sch_08 :
❤️‍🔥
2026-06-09 00:12:49
15
callmerr7
slalala :
wow
2026-07-12 18:53:40
1
carlos.gonzalez4461
Loud_am :
eate yoshi baila mejor
2026-06-06 21:32:36
0
vsshaggy3
GameTactics12 :
2026-06-22 16:46:11
7
jay_brewski
☆JJ✔️Brewski☆ :
2026-06-06 10:06:20
1
muchachocheese
Muchachodude :
larp
2026-07-09 18:11:19
1
To see more videos from user @bishoujomom, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

20 جنوری 1978 کو پی آئی اے کی پرواز PK-453 سکھر سے کراچی جا رہی تھی کہ دورانِ پرواز نذیر محمد نامی ایک شخص ریوالور اور ڈائنامائٹ لے کر کاک پٹ میں داخل ہوگیا۔ اس نے پائلٹ کیپٹن خلدون غنی اور فرسٹ آفیسر قادر گبول کو حکم دیا کہ جہاز بھارت لے جائیں۔ ہائی جیکر کا دعویٰ تھا کہ وہ کینسر کا مریض ہے اور علاج کے لیے بھارت جانا چاہتا ہے۔ پائلٹ نے انتہائی سمجھ داری سے اسے بتایا کہ جہاز میں بھارت جانے کے لیے کافی ایندھن موجود نہیں اور اسے کراچی ہی اتارنا پڑے گا۔ کراچی ایئرپورٹ کو صبح ساڑھے دس بجے ہائی جیکنگ کی اطلاع دی گئی، جبکہ جہاز تقریباً 10 بج کر 55 منٹ پر بحفاظت کراچی ایئرپورٹ پر اتر گیا۔ ہائی جیکر نے مسافروں اور عملے کی رہائی کے بدلے ایک کروڑ روپے اور دس لاکھ امریکی ڈالر کا مطالبہ کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ کینسر کی وجہ سے اس کی زندگی کے چند ہی دن باقی ہیں اور وہ یہ رقم اپنی باقی زندگی گزارنے کے لیے چاہتا ہے۔ اس وقت پی آئی اے کے سربراہ ایئر مارشل نور خان خود مذاکرات کے لیے آگے آئے۔ انہوں نے ہائی جیکر کو یقین دلایا کہ پی آئی اے اس کے علاج کا انتظام کرسکتی ہے۔ نور خان نے یہاں تک پیشکش کی کہ وہ خود جہاز میں یرغمال بننے کے لیے تیار ہیں، بس مسافروں اور عملے کو آزاد کردیا جائے۔ ہائی جیکر نے یہ پیشکش قبول نہیں کی، تاہم اس نے جہاز میں موجود افراد کے لیے کھانا اور پانی پہنچانے کی اجازت دے دی۔ رات تک وہ چودہ مسافروں اور ایک ایئرہوسٹس کو رہا کرچکا تھا، لیکن باقی مسافر اور عملہ اب بھی اس کے قبضے میں تھے۔ رات کے وقت ہائی جیکر نے پیغام بھجوایا کہ وہ کسی اہم شخصیت سے بات کرنا چاہتا ہے۔ تقریباً 11 بج کر 50 منٹ پر ایئر مارشل نور خان ایک فوجی افسر کے ہمراہ جہاز کے اندر داخل ہوگئے۔ انہوں نے تقریباً ایک گھنٹے تک ہائی جیکر کو سمجھانے اور معاملہ پُرامن طریقے سے ختم کرنے کی کوشش کی۔ جب مذاکرات سے کوئی نتیجہ نہ نکلا تو نور خان نے بظاہر جہاز سے واپس جانے کا تاثر دیا، مگر اچانک مڑ کر ہائی جیکر کے ہاتھ سے ریوالور چھیننے کی کوشش کی۔ اسی دوران گولی چل گئی اور انتہائی قریب سے نور خان کے جسم میں پیوست ہوگئی۔ گولی ان کی ریڑھ کی ہڈی سے صرف تقریباً ایک سینٹی میٹر کے فاصلے پر جا کر رکی۔ نور خان کے حملہ کرتے ہی جہاز کے عملے نے بھی ہمت دکھائی اور ہائی جیکر پر قابو پالیا۔ نذیر محمد کو گرفتار کرلیا گیا، جبکہ زخمی نور خان کو فوری طور پر پی این ایس شفا ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ہائی جیکر میانوالی کا رہائشی تھا، سکھر کے ایک ہوٹل میں اسلم خان کے فرضی نام سے کام کرتا تھا اور خود کو پاکستان آرمی کی انجینئرنگ کور کا بھگوڑا اہلکار بتاتا تھا۔ ایئر مارشل نور خان نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر نہ صرف ہائی جیکر کو قابو کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا بلکہ جہاز میں موجود مسافروں اور عملے کی جانیں بھی بچائیں۔ اس غیر معمولی بہادری پر انہیں اسی سال ہلالِ شجاعت سے نوازا گیا۔ ان کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ وہ صرف ایک کامیاب منتظم اور فضائیہ کے سربراہ ہی نہیں بلکہ مشکل ترین لمحے میں خود میدان میں اترنے والے ایک بے خوف انسان بھی تھے۔ #highjacker  #pakarmy  #1978 #airmashalnoorkhan
20 جنوری 1978 کو پی آئی اے کی پرواز PK-453 سکھر سے کراچی جا رہی تھی کہ دورانِ پرواز نذیر محمد نامی ایک شخص ریوالور اور ڈائنامائٹ لے کر کاک پٹ میں داخل ہوگیا۔ اس نے پائلٹ کیپٹن خلدون غنی اور فرسٹ آفیسر قادر گبول کو حکم دیا کہ جہاز بھارت لے جائیں۔ ہائی جیکر کا دعویٰ تھا کہ وہ کینسر کا مریض ہے اور علاج کے لیے بھارت جانا چاہتا ہے۔ پائلٹ نے انتہائی سمجھ داری سے اسے بتایا کہ جہاز میں بھارت جانے کے لیے کافی ایندھن موجود نہیں اور اسے کراچی ہی اتارنا پڑے گا۔ کراچی ایئرپورٹ کو صبح ساڑھے دس بجے ہائی جیکنگ کی اطلاع دی گئی، جبکہ جہاز تقریباً 10 بج کر 55 منٹ پر بحفاظت کراچی ایئرپورٹ پر اتر گیا۔ ہائی جیکر نے مسافروں اور عملے کی رہائی کے بدلے ایک کروڑ روپے اور دس لاکھ امریکی ڈالر کا مطالبہ کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ کینسر کی وجہ سے اس کی زندگی کے چند ہی دن باقی ہیں اور وہ یہ رقم اپنی باقی زندگی گزارنے کے لیے چاہتا ہے۔ اس وقت پی آئی اے کے سربراہ ایئر مارشل نور خان خود مذاکرات کے لیے آگے آئے۔ انہوں نے ہائی جیکر کو یقین دلایا کہ پی آئی اے اس کے علاج کا انتظام کرسکتی ہے۔ نور خان نے یہاں تک پیشکش کی کہ وہ خود جہاز میں یرغمال بننے کے لیے تیار ہیں، بس مسافروں اور عملے کو آزاد کردیا جائے۔ ہائی جیکر نے یہ پیشکش قبول نہیں کی، تاہم اس نے جہاز میں موجود افراد کے لیے کھانا اور پانی پہنچانے کی اجازت دے دی۔ رات تک وہ چودہ مسافروں اور ایک ایئرہوسٹس کو رہا کرچکا تھا، لیکن باقی مسافر اور عملہ اب بھی اس کے قبضے میں تھے۔ رات کے وقت ہائی جیکر نے پیغام بھجوایا کہ وہ کسی اہم شخصیت سے بات کرنا چاہتا ہے۔ تقریباً 11 بج کر 50 منٹ پر ایئر مارشل نور خان ایک فوجی افسر کے ہمراہ جہاز کے اندر داخل ہوگئے۔ انہوں نے تقریباً ایک گھنٹے تک ہائی جیکر کو سمجھانے اور معاملہ پُرامن طریقے سے ختم کرنے کی کوشش کی۔ جب مذاکرات سے کوئی نتیجہ نہ نکلا تو نور خان نے بظاہر جہاز سے واپس جانے کا تاثر دیا، مگر اچانک مڑ کر ہائی جیکر کے ہاتھ سے ریوالور چھیننے کی کوشش کی۔ اسی دوران گولی چل گئی اور انتہائی قریب سے نور خان کے جسم میں پیوست ہوگئی۔ گولی ان کی ریڑھ کی ہڈی سے صرف تقریباً ایک سینٹی میٹر کے فاصلے پر جا کر رکی۔ نور خان کے حملہ کرتے ہی جہاز کے عملے نے بھی ہمت دکھائی اور ہائی جیکر پر قابو پالیا۔ نذیر محمد کو گرفتار کرلیا گیا، جبکہ زخمی نور خان کو فوری طور پر پی این ایس شفا ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ہائی جیکر میانوالی کا رہائشی تھا، سکھر کے ایک ہوٹل میں اسلم خان کے فرضی نام سے کام کرتا تھا اور خود کو پاکستان آرمی کی انجینئرنگ کور کا بھگوڑا اہلکار بتاتا تھا۔ ایئر مارشل نور خان نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر نہ صرف ہائی جیکر کو قابو کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا بلکہ جہاز میں موجود مسافروں اور عملے کی جانیں بھی بچائیں۔ اس غیر معمولی بہادری پر انہیں اسی سال ہلالِ شجاعت سے نوازا گیا۔ ان کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ وہ صرف ایک کامیاب منتظم اور فضائیہ کے سربراہ ہی نہیں بلکہ مشکل ترین لمحے میں خود میدان میں اترنے والے ایک بے خوف انسان بھی تھے۔ #highjacker #pakarmy #1978 #airmashalnoorkhan

About