کیا تمہارا کوئی ایسا ہمسفر دوست ہے جس کے بارے میں تم یہ خواہش رکھتے ہو کہ اگر اللہ تعالیٰ نے جنت عطا فرمائی تو تم اسے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کرو گے؟
تم کہو گے: “یا رسول اللہ ﷺ، یہ وہ کندھا ہے جس پر میں نے سہارا لیا، یہ وہ شخص ہے جس نے مجھے سنبھالا، مجھے مضبوط کیا، اور مجھے نور کے راستوں اور جنت کے کناروں تک لے گیا۔ یہ وہی ہے جس نے مجھے قرآن کی طرف متوجہ کیا، اور مجھے آپ ﷺ کے نقشِ قدم یاد دلائے، یہاں تک کہ میں ڈگمگایا نہیں۔”
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿الأَخِلَاء يَومَئِذٍ بَعضهم لِبَعضٍ عَدوٌ إِلَا المتَقِينَ﴾
یعنی اس دن تمام دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے، سوائے متقی لوگوں کے۔
*اے اللہ! ہمیں نیک اور صالح صحبت عطا فرما* 🤍