عقل والوں کے لیے ایک دعوتِ فکر
جو لوگ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے دوبارہ دنیا میں آئے، قرآن نے ان کے واقعات محفوظ کر دیے تاکہ لوگ غور کریں۔
اصحابِ کہف جب بیدار ہوئے تو انہیں معلوم ہی نہ تھا کہ کتنا عرصہ گزر چکا ہے۔ انہوں نے کہا: "ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے ہیں۔" (سورۃ الکہف: 19)
وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے سو سال بعد زندہ کیا، اس نے بھی یہی سمجھا کہ وہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "بلکہ تم سو سال ٹھہرے رہے۔" (سورۃ البقرہ: 259)
یہ دونوں واقعات عقل والوں کے لیے بہت بڑا سبق ہیں۔
جو لوگ خود موت جیسی حالت سے واپس آ کر بتا رہے ہیں کہ انہیں گزرے ہوئے وقت کا بھی شعور نہ تھا، کیا ان کی گواہی زیادہ قابلِ قبول ہے، یا ان لوگوں کا دعویٰ جو کبھی مر کر واپس نہیں آئے مگر کہتے ہیں کہ قبروں والے دنیا بھر کی پکار سنتے ہیں؟
قرآن بار بار اہلِ عقل کو دعوت دیتا ہے کہ وہ تعصب کے بجائے اللہ کی آیات پر غور کریں۔
2026-08-01 14:08:29
2
imransajid 2917 :
beshak only allah pak madadgar hy sirf allah pak uska koi shareek ni hy
2026-08-02 13:14:32
1
😊 Muhammad Usman :
i love you bro
2026-06-04 19:51:02
0
To see more videos from user @usmanch1615, please go to the Tikwm
homepage.