@meii_engg05:

Maii Annh
Maii Annh
Open In TikTok:
Region: VN
Thursday 04 June 2026 08:58:32 GMT
1664
16
0
2

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @meii_engg05, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

بعض راستے شور سے نہیں، خاموشی سے بند ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی انسان دروازے خود بند نہیں کرتا، بلکہ انتظار کی تھکن آہستہ آہستہ ہر راستہ بند کر دیتی ہے۔ شروع میں دل کو یقین رہتا ہے کہ شاید ایک دن سب پہلے جیسا ہو جائے گا، شاید وہ شخص پلٹ آئے، شاید ایک پیغام، ایک آواز، ایک معذرت برسوں کی خاموشی توڑ دے، مگر جب وقت مسلسل خالی گزرتا رہتا ہے تو اندر ایک عجیب سی سردی جمنا شروع ہو جاتی ہے۔ پھر انسان راستے اس لیے نہیں چھوڑتا کہ اسے نفرت ہو گئی ہوتی ہے، بلکہ اس لیے کہ امید مسلسل زندہ رکھنا بھی ایک اذیت بن جاتا ہے۔ یہاں ایک ایسی جذباتی تھکن محسوس ہوتی ہے جہاں دل کسی کو بھولتا نہیں، بس واپس آنے کے امکان پر یقین کھو دیتا ہے۔ بالکل اُس ریلوے ٹریک کی طرح جہاں اگر بہت عرصے تک کوئی ٹرین نہ گزرے تو آہستہ آہستہ گھاس، جھاڑیاں اور پھر درخت اُگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ وہ پٹڑی کو اس طرح ڈھانپ لیتے ہیں کہ راستہ پہچان میں ہی نہیں آتا۔ ٹریک اپنی جگہ موجود ہوتا ہے، مگر سفر رک جانے سے اُس پر زندگی کسی اور شکل میں قبضہ کر لیتی ہے۔ انسان کا دل بھی کچھ ایسا ہی ہے؛ جب کسی کی واپسی بہت دیر تک نہ ہو تو اندر خاموشیاں جڑیں پکڑ لیتی ہیں، اور پھر ایک وقت آتا ہے جب دل راستہ بند نہیں کرتا، راستہ خود بخود بند ہو جاتا ہے۔ کچھ تعلق ایسے ہوتے ہیں جن کے ختم ہونے کا اعلان کبھی لفظوں میں نہیں ہوتا، بس انسان آہستہ آہستہ اُن جگہوں پر جانا چھوڑ دیتا ہے جہاں کبھی انتظار کیا کرتا تھا۔ فون خاموش رہتا ہے، راتیں لمبی ہونے لگتی ہیں، اور اندر کہیں یہ احساس جنم لیتا ہے کہ بعض لوگ زندگی سے جاتے نہیں، بس انسان اُن کے واپس آنے کا دروازہ اندر ہی اندر بند کر دیتا ہے تاکہ مزید ٹوٹنے سے خود کو بچا سکے۔ سب سے زیادہ دردناک لمحہ وہ نہیں ہوتا جب کوئی چھوڑ کر جاتا ہے، بلکہ وہ ہوتا ہے جب انسان پہلی بار یہ مان لیتا ہے کہ اب کوئی واپس نہیں آئے گا۔ #viral #fyp #poetry #urdupoetry #deeplines_026 Post 46
بعض راستے شور سے نہیں، خاموشی سے بند ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی انسان دروازے خود بند نہیں کرتا، بلکہ انتظار کی تھکن آہستہ آہستہ ہر راستہ بند کر دیتی ہے۔ شروع میں دل کو یقین رہتا ہے کہ شاید ایک دن سب پہلے جیسا ہو جائے گا، شاید وہ شخص پلٹ آئے، شاید ایک پیغام، ایک آواز، ایک معذرت برسوں کی خاموشی توڑ دے، مگر جب وقت مسلسل خالی گزرتا رہتا ہے تو اندر ایک عجیب سی سردی جمنا شروع ہو جاتی ہے۔ پھر انسان راستے اس لیے نہیں چھوڑتا کہ اسے نفرت ہو گئی ہوتی ہے، بلکہ اس لیے کہ امید مسلسل زندہ رکھنا بھی ایک اذیت بن جاتا ہے۔ یہاں ایک ایسی جذباتی تھکن محسوس ہوتی ہے جہاں دل کسی کو بھولتا نہیں، بس واپس آنے کے امکان پر یقین کھو دیتا ہے۔ بالکل اُس ریلوے ٹریک کی طرح جہاں اگر بہت عرصے تک کوئی ٹرین نہ گزرے تو آہستہ آہستہ گھاس، جھاڑیاں اور پھر درخت اُگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ وہ پٹڑی کو اس طرح ڈھانپ لیتے ہیں کہ راستہ پہچان میں ہی نہیں آتا۔ ٹریک اپنی جگہ موجود ہوتا ہے، مگر سفر رک جانے سے اُس پر زندگی کسی اور شکل میں قبضہ کر لیتی ہے۔ انسان کا دل بھی کچھ ایسا ہی ہے؛ جب کسی کی واپسی بہت دیر تک نہ ہو تو اندر خاموشیاں جڑیں پکڑ لیتی ہیں، اور پھر ایک وقت آتا ہے جب دل راستہ بند نہیں کرتا، راستہ خود بخود بند ہو جاتا ہے۔ کچھ تعلق ایسے ہوتے ہیں جن کے ختم ہونے کا اعلان کبھی لفظوں میں نہیں ہوتا، بس انسان آہستہ آہستہ اُن جگہوں پر جانا چھوڑ دیتا ہے جہاں کبھی انتظار کیا کرتا تھا۔ فون خاموش رہتا ہے، راتیں لمبی ہونے لگتی ہیں، اور اندر کہیں یہ احساس جنم لیتا ہے کہ بعض لوگ زندگی سے جاتے نہیں، بس انسان اُن کے واپس آنے کا دروازہ اندر ہی اندر بند کر دیتا ہے تاکہ مزید ٹوٹنے سے خود کو بچا سکے۔ سب سے زیادہ دردناک لمحہ وہ نہیں ہوتا جب کوئی چھوڑ کر جاتا ہے، بلکہ وہ ہوتا ہے جب انسان پہلی بار یہ مان لیتا ہے کہ اب کوئی واپس نہیں آئے گا۔ #viral #fyp #poetry #urdupoetry #deeplines_026 Post 46

About