Writing
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم بھائیو!
دین اسلام مکمل ہو چکا ہے، اس میں اپنی طرف سے کوئی نیا وظیفہ، مخصوص تعداد، مخصوص دن یا مخصوص وقت مقرر کرکے اسے ثواب کا ذریعہ بنانا بہت سنگین معاملہ ہے، جب تک اس کی دلیل قرآن یا صحیح سنت سے موجود نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿اَلْیَوْمَاَكْمَلْتُلَكُمْدِیْنَكُمْوَاَتْمَمْتُعَلَیْكُمْنِعْمَتِیْوَرَضِیْتُلَكُمُالْاِسْلَامَدِیْنًا﴾
"آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔"
📖 سورۃ المائدہ: 3
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس نے ہمارے اس دین میں ایسی نئی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے۔"
📖 صحیح بخاری: 2697، صحیح مسلم: 1718
اور فرمایا:
"بہترین بات اللہ کی کتاب ہے، بہترین ہدایت محمد ﷺ کی ہدایت ہے، اور بدترین کام دین میں نئی نئی باتیں پیدا کرنا ہیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔"
📖 صحیح مسلم: 867
نبی کریم ﷺ نے قیامت کے دن حوضِ کوثر پر کچھ لوگوں کے بارے میں فرمایا:
"میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ کچھ لوگ میرے پاس لائے جائیں گے، یہاں تک کہ جب میں انہیں پہچان لوں گا تو انہیں مجھ سے ہٹا دیا جائے گا۔ میں کہوں گا: 'یہ تو میرے امتی ہیں!' تو کہا جائے گا: 'آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا نئی باتیں ایجاد کیں۔' پھر میں کہوں گا: 'دور ہو، دور ہو وہ لوگ جنہوں نے میرے بعد دین کو بدل دیا۔'"
📖 صحیح بخاری: 6582، صحیح مسلم: 2297
لہٰذا خدارا! کوئی بھی وظیفہ، ذکر یا عمل صرف اس لیے شیئر نہ کریں کہ وہ مشہور ہے یا کسی بزرگ سے منسوب ہے۔
اگر کوئی شخص کسی مخصوص وظیفے، مخصوص تعداد، مخصوص دن یا مخصوص وقت کی فضیلت بیان کرتا ہے تو اس سے ادب کے ساتھ قرآن یا صحیح حدیث سے دلیل طلب کریں، اور یہ ثابت کرنے کو کہیں کہ یہ عمل رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے، یا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اسی طریقے سے کیا ہے۔ اگر صحیح دلیل موجود نہ ہو تو اسے دین کا حصہ سمجھ کر نہ کریں اور نہ ہی دوسروں تک پھیلائیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن و سنت پر چلنے، بدعات سے بچنے اور ہر عمل میں رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
2026-07-24 14:16:48
0
To see more videos from user @islamicoffical904, please go to the Tikwm
homepage.