@egyptresolvesofficial: The Pelusium Fortress was a key defensive stronghold located near the eastern frontier of ancient Egypt, strategically positioned close to the Sinai Peninsula and the routes connecting Egypt with the Levant. As part of the broader city of Pelusium, the fortress played a crucial role in protecting the Nile Delta from invasions and controlling trade and military movement across the region. Over centuries, it witnessed numerous conflicts involving Egyptians, Persians, Greeks, Romans, Byzantines, and early Islamic forces, reflecting its importance as a gateway into Egypt. Archaeological remains indicate a complex defensive system that included massive walls, towers, gates, and military installations designed to withstand sieges and monitor approaching armies. The fortress’s location on the edge of fertile delta lands and desert terrain made it both a military and economic asset, helping to secure Egypt’s borders while supporting communication and commerce. Today, the ruins of Pelusium Fortress provide valuable evidence of ancient military architecture and offer insights into the strategic challenges faced by one of the ancient world’s most significant civilizations.
Egypt Resolves
Region: IT
Thursday 04 June 2026 10:40:49 GMT
Music
Download
Comments
Jemytisss :
Terbaik sahabat 😂😂😂😂😂😂😂😂
2026-06-23 15:11:04
1
Martim_F :
Bem melhor antes
2026-06-04 11:52:50
0
Flori :
Încă exista ceva ,ce despre Poartă și ce despre ,e acolo
2026-06-08 15:44:47
0
Martim_F :
Bem
2026-06-04 11:52:35
0
Дмитрий Тхор :
the light?! 😂ether
2026-06-05 14:05:23
0
Екатерина Денежкина :
вот еслибы они это подерживали бы это все бы еще стояло бы
2026-06-23 09:15:02
0
KYOJIN 🎯 :
پیلوسیئم قلعے کے کھنڈرات مصر کا مشرقی دروازہ ہیں جو نیل دریا کے مشرقی بازو کے کنارے واقع ہے جسے قدیم زمانے میں پیلوسیئک بازو کہا جاتا تھا اب وہ بازو سوکھ چکا ہے لیکن کھنڈرات کے پاس دلدل اور ریت میں اس کے نشانات پائے جاتے ہیں اس کے پاس عظیم دریا بہتا ہے یہ مقام تل الفرما کے نام سے جانا جاتا ہے جو سینا جزیرہ نما کے شروع میں مصر کی سرحد سے تیس کلومیٹر مغرب میں واقع ہے یہاں موجود موٹی مٹی کی دیواریں پیلوسیئم کی مشہور حفاظتی دیواریں ہیں جن کی چوڑائی تیس فٹ تک تھی اور جنہیں رومیوں اور بازنطینیوں نے وقت کے ساتھ مضبوط بنایا تھا اس اہم دفاعی مقام کو مصریوں فارسیوں سکندر اعظم رومیوں اور بازنطینیوں کے بعد حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے چھ سو انتالیس عیسوی میں فتح کیا اور یہیں سے وہ مصر میں داخل ہوئے یہ مصر کی کنجی ہے پیلوسیئم اور فلسطین کے شہر لد کا راستہ قدیم تجارتی اور فوجی شاہراہ سے جڑا ہوا تھا جسے سمندر کا راستہ کہا جاتا تھا یہ دونوں مقامات سرحدوں پر واقع قلعے تھے اور حملہ آوروں کو مصر پہنچنے کے لیے طویل جدوجہد کرنی پڑتی تھی آج یہ علاقہ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے اور طویل عرصے تک ملٹری زون رہنے کے بعد اس کے قریب ترین شہر العریش ہے لیکن قلعے کے ارد گرد صرف صحرا اور قدیم آثار ہی باقی بچے
پیلوسیئم صرف ایک فوجی چوکی نہیں بلکہ شام اور مصر کے درمیان ہونے والی عظیم ترین تجارتی شاہراہ کا مرکز ہے شام کے قیمتی کپڑے ریشم زیتون کا تیل اور شیشے کا سامان اسی راستے سے مصر لایا جاتا رہا جبکہ مصر کا مشہور اناج کپاس اور پپائرس اسی تجارتی گزرگاہ سے شام اور آگے کی منڈیوں تک پہنچتا تھا پیلوسیئم اس تجارتی راستے پر ایک کسٹم ہاؤس اور بندرگاہ کا کام کرتا رہا جہاں سے گزرنے والے قافلوں اور بحری جہازوں سے ٹیکس اکٹھا کیا جاتا تھا اور ان کے مال کی حفاظت کا انتظام ہوتا تھا شام اور مصر کے مضبوط معاشی تعلقات کی وجہ سے یہ شہر دولت اور کاروباری گہما گہمی کا مرکز بننا چاہیے اور فوری اس کی جغرافیائی اہمیت کو دگنا کر دیا جاے
2026-06-22 19:15:39
0
KYOJIN 🎯 :
اس تاریخی مقام کی بحالی اور مسلمانوں کی بہتری کے لیے علم اور تاریخ کو زندہ کرنا ہے اس جگہ کو عظیم اسلامی فتح مصر میں تبدیل کیا جاے جہاں دنیا بھر کے مسلمان تاریخ سے روشناس ہونے کے لیے آئیں جبکہ مختلف ممالک کی جامعات اور محققین مل کر یہاں کھدائی اور تحقیق کا کام کر سکتے ہیں کیونکہ علم کے ذریعے ہی قوموں کا نام زندہ رہتا ہے راستہ معاشی بحالی اور سینا کی ترقی سے جڑا ہے جہاں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے سوکھے ہوئے نیل کے بازو کے آس پاس کی زمین کو کھجور اور زیتون کے باغات سے آباد کیا جا سکتا ہے اور صحرا کی تپتی دھوپ سے سولر انرجی کے ذریعے سستی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے جب زمین آباد ہوگی تو وہاں لوگ آئیں گے اور نئے بازار اور مسجدیں قائم ہوں گی امن اور اتحاد کا پیغام عام ہو گا پیلوسیئم کو پرامن تجارتی اور ثقافتی راہداری کی علامت بنایا جایا ایسے مقامات ماضی کا قصہ نہیں ہوتے بلکہ یہ موجودہ آنے والی نسلوں کے لیے بیداری کا پیغام ہوتے ہیں شام اور مصر کے پرانے تجارتی راستوں کو جدید معاشی راہداریوں کی شکل میں بحال کرنا اور صحراؤں کو جدید زراعت سے سرسبز بنانا ہی موجودہ دور کا مقابلہ ہے جو علم معیشت اور پائیدار ترقی سے جیتا جا سکتا ہے پیلوسیئم جیسے مقامات کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تجارتی ثقافتی سیاحت اور سائنسی تحقیق کا مرکز بنا کر اس جگہ کی پرانی تجارتی حیثیت کو دوبارہ بیدار کرنا ہی تقاضا ہے تاکہ اس کو مستقبل کے امن اور خوشحالی کا ضامن بنایا جا سکے
2026-06-22 19:15:48
0
greicy :
jesus tá voltar
2026-06-23 20:58:13
0
Abhay Bhai :
🥰🥰🥰
2026-07-04 05:34:45
0
seimkoumMagassouba :
🥰🥰🥰
2026-07-03 12:54:19
0
nuyza kana482 :
😁😁😁
2026-06-23 09:05:53
0
sidibe OUSENI :
🥰🥰🥰
2026-07-03 19:15:45
0
hasseb 786 :
🥰🥰🥰
2026-06-16 07:31:10
0
Mubashir jutt :
💪💪💪
2026-07-05 10:06:09
0
md Aabas12 :
🥰🥰🥰
2026-07-08 02:17:38
0
To see more videos from user @egyptresolvesofficial, please go to the Tikwm
homepage.