@hamza.nazir73: ایک یہودی عورت نے عرفات میں مسلمانوں کے اجتماع کی تصویر شائع کی اور اس پر یہ الفاظ لکھے:کہ موجودہ مسلمانان عرب وعجم برایے نام اور بے حس ہیں، کیونکہ فلسطین میں انکے ماییں،بہنیں اوربچے انکے سامنے ذبح کیے جاتے ہیں،مگرانکوذرہ بھی فکرنہیں اور نہ غمگین ہیں اور"یہ سیلاب کے خس و خاشاک کی طرح ہیں۔" انہیں ظاہر ہونے، جمع ہونے اور اپنی تعداد دکھانے کا ہنر تو آتا ہے، لیکن اپنے مقدسات اور عزت کا دفاع نہیں کر سکتے۔ یہ نہ اپنی عورتوں کی مدد کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور نہ ہی اپنے بچوں کی چیخ و پکار پر لبیک کہتے ہیں۔ اس عورت نے پہلے اس حدیث کی طرف اشارہ کیا جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آخری زمانے میں تم سیلاب کے خس و خاشاک کی مانند ہو جاؤ گے۔ پھر اس نے مسلمانوں کو طعنہ دیا کہ تم عرفات جیسے مقام پر تو بہت اچھی طرح جمع ہو جاتے ہو، لیکن اپنے مقدسات کے دفاع اور مظلوموں کی مدد کے لیے اکٹھے نہیں ہوتے۔ اپنی عورتوں اور بچوں کی حفاظت کے معاملے میں بھی تم میں کوئی خاص مہارت اور قوت نظر نہیں آتی۔ پس افسوس ہے ہمارے حال پر کہ کافر عورتیں بھی ہمیں طعنے دیتی ہیں، اور پھر بھی ہمارے اندر اتنی غیرت پیدا نہیں ہوتی۔ #History #pakistan #islamic