@mohtar_maa03: : حضرت آدم علیہ السلام کی تنہائی دور کرنے اور جنت میں ان کے سکون و اطمینان کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت حواؑ کوآدم کی پسلی سے پیدا کیا، کیونکہ میاں بیوی کا رشتہ محبت، سکون اور نفسیاتی صحت کا ذریعہ ہے دوست احباب کے بجائے عورت کو ساتھی بنانا ، نہ کہ صرف وقت گزاری کے لیے۔ عورت کو مرد کے لیے سکون کا ذریعہ بنایا گیا اور ان کی تنہائی دور کرنے کے لیے صرف ایک عورت پیدا کی، جو یہ سکھاتی ہے کہ ایک رشتہ ہی زندگی کے لیے کافی ہے۔ جب آدم خود کو اکیلا محسوس کرتے تھے ، تو اللّٰہ نے صرف ایک عورت بھیجی ، چار نہیں ۔ جب آدم ایک ہی عورت کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے تو آج کا آدمی کیوں نہیں#fyp 😶