@ladla.babu95: جہاں ایک طرف امریکہ ایران کشیدگی کا دور چل رہا ہے وہیں دوسری جانب روس صدر ولادمیر پیوٹن نے ایک انتہائی دلچسپ پریس بریفنگ دی ہے جہاں مختلف ممالک کے صحافیوں کے ساتھ سوال جواب کا سیشن بھی تھا۔ ایسے میں وہاں بھارتی صحافی بھی موجود تھے اور وہ بھارتی ہی کیا جو ہر مدع / موقع پہ پاکستان کو بیچ میں لانے یا پاکستان کے خلاف کوئی بیان دلوانے کی کوشش نا کرے ؟ ٹھیک ایسا ہی اس پریس بریفنگ میں بھی ہوا جہاں بھارتی صحافی نے پاکستان کے حوالے سے سوال پوچھتے ہوئے پاکستان کو چین کی کالونی یا مکمل چین کے زیر تسلط ریاست ثابت کرنے کی کوشش کی جس پہ جواباً ولادمیر پیوٹن مسکرایا اور اس احمقانه سوال کی۔ فوراً تردید کرتے ہوئے کہا کہ " پاکستان ایک بڑا ملک ہے جس کے دنیا میں کئی ممالک کے ساتھ تعلقات ہیں ، مجھے نہیں لگتا وہ چین کے زیر تسلط ہے " اس احمقانہ سوال کے بعد اگلا سوال روسی اسلحہ اور بھارتی مدد کا تھا جس پہ پیوٹن نے ایک کاری ضرب لگاتے ہوئے کہا '" ہم نے بھارت کو آفر کیا تھا کہ Su 57 جو ہمارا ففتھ جنریشن طیارہ ہے اس میں ٹیکنالوجی کی سطح پر ہمارے ساتھ ملکر کام کرے پر انڈیا نے انکار کردیا اور کہا کہ آپ اس پہ کام کریں اس کے بعد ہم دیکھیں گے کہ اس میں شامل ہونا ہے یا نہیں " اس جملے کی کاٹ گزشتہ سوال پر رکھی جاسکتی ہے جہاں پاکستان نے عالمی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود چین کے ساتھ مل کر JF 17 جیسے پروجیکٹ میں چین کے ساتھ ملکر کام کیا اور پاکستان میں جدید طیاروں کی تیاری کی بنیاد رکھی وہیں دوسری جانب بھارتی بس منہ کے فائر ہی مارنے تک محدود رہے۔ پیوٹن ، ڈونلڈ ٹرمپ ، شاہ محمد بن سلمان ، شی زی پنگ جیسے عالمی رہنما پاکستان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی کی بات کریں یا حال کا ذکر کریں ، جہاں بات پاکستان کے دفاع کی آتی ہے وہاں پاکستان کسی بھی عالمی طاقت کا کوئی دباؤ خاطر میں نہیں لاتا ہے ۔ اسکے ساتھ ہی ہمارے مغربی پڑوس کو بھی عقل آ چکی ہوگی جِسے یہ سستا مغالطہ تھا کہ امریکہ کے پاکستان کے خلاف جانے سے انکار اور زلمی خلیل زاد کی ناکامی کے بعد شاید روس پاکستان کے خلاف اُسکی مدد کرے گا ۔ ہمارا یہ والا نادان پڑوسی بھی بھارت کی طرح سوشل میڈیا کمپین کے مغالطے میں آ کر پاکستان کو کمزور سمجھنے کی غلطی کر بیٹھا تھا نتیجتاً گزشتہ ایک سال سے کھجل خوار بھی ہورہاہے اور امریکا ، مشرقِ وسطیٰ کی عرب ریاستوں کے بعد اب روس کی جانب سے بھی پاکستان کے خلاف سفید انکار سننے کے بعد کسی کونے کھدرے میں اپنے بھارتی اور اس ریئلی ساتھیوں کے ساتھ زخم چاٹتے دیکھا جاسکتا ہے