@eli_kry:

eli_kry
eli_kry
Open In TikTok:
Region: DE
Friday 05 June 2026 16:42:20 GMT
11572
410
10
68

Music

Download

Comments

manfred1999.0
Manfred :
Alhamdulilah ich habe Allah ❤️😍👍🙏🏻💯🤲🏻
2026-06-06 13:04:35
1
guerolzakire
Cimbombom :
Amin🤲❤️❤️🤲
2026-06-06 12:05:49
1
hamearbi1102
Halide Ardiana 🇦🇱🇦🇱🇦🇱 :
Amin 🤲
2026-06-06 11:25:38
1
die_sanfte
Sanfte_ Seele :
in shaa Allah 🤲
2026-06-06 11:43:03
1
mimi.styl33
Mimi Styl33 :
Allahumme Amin inshallah 🤲🤲
2026-06-06 10:49:03
1
pajaca0
Pa Ja Ca :
Amin
2026-06-06 12:56:41
0
user434020390807
balkanika :
Amin
2026-06-06 07:41:37
1
jusuf3112
jusuf :
amin
2026-06-06 04:50:24
1
mikiza1
miki :
🤲amin 🤲
2026-06-06 07:09:00
1
natasadjuric222
❤️natasa❤️ :
Amin
2026-06-06 06:24:14
1
To see more videos from user @eli_kry, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

REPOST REQUEST  میں نے کبھی اپنی انا کو رشتوں کے درمیان آنے نہیں دیا۔ ہمیشہ یہی کوشش کی کہ تعلق بچ جائے، چاہے مجھے خود کو کتنا ہی جھکانا پڑے۔ کبھی اپنے مؤقف پر اڑنے کے بجائے خاموشی اختیار کی، کبھی دل پر پتھر رکھ کر معافی مانگی، کبھی اپنی بے بسی کو مسکراہٹ کے پیچھے چھپا لیا۔ لوگوں نے شاید اسے میری کمزوری سمجھا، مگر حقیقت یہ تھی کہ میں رشتوں کو اپنی ذات سے زیادہ اہم سمجھتا تھا۔ ہر تعلق میں میں نے خود کو مکمل طور پر سچا رکھا۔ اپنی عزتِ نفس کو بارہا قربان کیا، اپنے احساسات کو نظر انداز کیا، اور اپنی خواہشات کو پسِ پشت ڈال دیا تاکہ اپنوں کے ساتھ تعلق برقرار رہے۔ میں نے دلیل سے زیادہ محبت کو اہمیت دی، حق سے زیادہ تعلق کو بچانے کی کوشش کی، اور اپنی انا کے بجائے اپنے دل کی سنی۔ لیکن افسوس، ہر بار میری خاموشی کو میری عادت سمجھ لیا گیا، میرے جھکنے کو میری مجبوری، اور میری محبت کو میری ضرورت۔ میں نے ہر رشتے میں مکمل طور پر ذلیل ہو کر بھی ساتھ نبھایا۔ یہ ذلت کسی کم ظرفی کی نہیں تھی، بلکہ اس خوف کی تھی کہ کہیں اپنا کوئی بچھڑ نہ جائے۔ میں نے وہ سب برداشت کیا جو شاید کسی اور کے لیے ناقابلِ قبول ہوتا۔ طنز، بے رخی، نظر انداز کیا جانا، اور بار بار دل کا ٹوٹنا—یہ سب کچھ صرف اس امید پر کہ شاید ایک دن میری خلوص کی قدر کی جائے گی۔ وقت نے مگر یہ سکھا دیا کہ ہر تعلق صرف ایک انسان کے جھکنے سے نہیں چلتا۔ اگر ایک طرف محبت ہو اور دوسری طرف بے حسی، تو رشتہ آہستہ آہستہ اپنی روح کھو دیتا ہے۔ میں نے اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کی، مگر جب احساس ہوا کہ میری موجودگی کی اہمیت ہی نہیں رہی، تب سمجھ آیا کہ کچھ رشتے بچائے نہیں جا سکتے، چاہے انسان اپنی پوری ذات ہی کیوں نہ قربان کر دے۔ آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو افسوس اس بات کا نہیں کہ میں جھکا، بلکہ اس بات کا ہے کہ میں نے ایسے لوگوں کے لیے خود کو توڑا جو میری قیمت نہ جان سکے۔ میں نے انا کو درمیان میں نہیں آنے دیا، مگر دوسروں نے میرے خلوص کو سمجھنے کی زحمت بھی نہ کی۔ میں نے ہر رشتے کو بچانے کے لیے خود کو مکمل طور پر مٹا دیا، مگر آخر میں ہاتھ میں صرف تنہائی، خاموشی اور چند تلخ یادیں رہ گئیں۔ اب یہ احساس دل میں گہرا نقش ہو چکا ہے کہ رشتے عزت، محبت اور باہمی احساس سے قائم رہتے ہیں۔ صرف ایک شخص کی قربانی کسی تعلق کو ہمیشہ زندہ نہیں رکھ سکتی۔ پھر بھی مجھے اپنے رویے پر ندامت نہیں، کیونکہ میں نے محبت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ میں نے اپنی انا نہیں، بلکہ اپنا دل درمیان میں رکھا تھا۔ اور یہی میری سب سے بڑی سچائی ہے۔ #deeplinespoetry🥀 #1millionviews #foryoupage #10millionviews #viewsproblem
REPOST REQUEST میں نے کبھی اپنی انا کو رشتوں کے درمیان آنے نہیں دیا۔ ہمیشہ یہی کوشش کی کہ تعلق بچ جائے، چاہے مجھے خود کو کتنا ہی جھکانا پڑے۔ کبھی اپنے مؤقف پر اڑنے کے بجائے خاموشی اختیار کی، کبھی دل پر پتھر رکھ کر معافی مانگی، کبھی اپنی بے بسی کو مسکراہٹ کے پیچھے چھپا لیا۔ لوگوں نے شاید اسے میری کمزوری سمجھا، مگر حقیقت یہ تھی کہ میں رشتوں کو اپنی ذات سے زیادہ اہم سمجھتا تھا۔ ہر تعلق میں میں نے خود کو مکمل طور پر سچا رکھا۔ اپنی عزتِ نفس کو بارہا قربان کیا، اپنے احساسات کو نظر انداز کیا، اور اپنی خواہشات کو پسِ پشت ڈال دیا تاکہ اپنوں کے ساتھ تعلق برقرار رہے۔ میں نے دلیل سے زیادہ محبت کو اہمیت دی، حق سے زیادہ تعلق کو بچانے کی کوشش کی، اور اپنی انا کے بجائے اپنے دل کی سنی۔ لیکن افسوس، ہر بار میری خاموشی کو میری عادت سمجھ لیا گیا، میرے جھکنے کو میری مجبوری، اور میری محبت کو میری ضرورت۔ میں نے ہر رشتے میں مکمل طور پر ذلیل ہو کر بھی ساتھ نبھایا۔ یہ ذلت کسی کم ظرفی کی نہیں تھی، بلکہ اس خوف کی تھی کہ کہیں اپنا کوئی بچھڑ نہ جائے۔ میں نے وہ سب برداشت کیا جو شاید کسی اور کے لیے ناقابلِ قبول ہوتا۔ طنز، بے رخی، نظر انداز کیا جانا، اور بار بار دل کا ٹوٹنا—یہ سب کچھ صرف اس امید پر کہ شاید ایک دن میری خلوص کی قدر کی جائے گی۔ وقت نے مگر یہ سکھا دیا کہ ہر تعلق صرف ایک انسان کے جھکنے سے نہیں چلتا۔ اگر ایک طرف محبت ہو اور دوسری طرف بے حسی، تو رشتہ آہستہ آہستہ اپنی روح کھو دیتا ہے۔ میں نے اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کی، مگر جب احساس ہوا کہ میری موجودگی کی اہمیت ہی نہیں رہی، تب سمجھ آیا کہ کچھ رشتے بچائے نہیں جا سکتے، چاہے انسان اپنی پوری ذات ہی کیوں نہ قربان کر دے۔ آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو افسوس اس بات کا نہیں کہ میں جھکا، بلکہ اس بات کا ہے کہ میں نے ایسے لوگوں کے لیے خود کو توڑا جو میری قیمت نہ جان سکے۔ میں نے انا کو درمیان میں نہیں آنے دیا، مگر دوسروں نے میرے خلوص کو سمجھنے کی زحمت بھی نہ کی۔ میں نے ہر رشتے کو بچانے کے لیے خود کو مکمل طور پر مٹا دیا، مگر آخر میں ہاتھ میں صرف تنہائی، خاموشی اور چند تلخ یادیں رہ گئیں۔ اب یہ احساس دل میں گہرا نقش ہو چکا ہے کہ رشتے عزت، محبت اور باہمی احساس سے قائم رہتے ہیں۔ صرف ایک شخص کی قربانی کسی تعلق کو ہمیشہ زندہ نہیں رکھ سکتی۔ پھر بھی مجھے اپنے رویے پر ندامت نہیں، کیونکہ میں نے محبت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ میں نے اپنی انا نہیں، بلکہ اپنا دل درمیان میں رکھا تھا۔ اور یہی میری سب سے بڑی سچائی ہے۔ #deeplinespoetry🥀 #1millionviews #foryoupage #10millionviews #viewsproblem

About