@somaiya8452: @🎀Somaiya🎀

🎀Somaiya🎀
🎀Somaiya🎀
Open In TikTok:
Region: BD
Saturday 06 June 2026 01:44:53 GMT
66
21
3
1

Music

Download

Comments

sojibhasan43
꧁༒☬Sojib Hasan☬༒ :
🥰🥰🥰
2026-06-06 04:29:53
0
shetabkhan01
͞SHɪᴛꫝʙʙʙ ⚡️💗 :
🥰🥰🥰
2026-06-06 04:11:52
0
user7622476944834
Tamim :
❤️❤️❤️
2026-06-06 06:18:24
0
To see more videos from user @somaiya8452, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اگر کوئی کسی کی وفاداری سے کھیل جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی  وہاں سے پکڑ کرتے ہیں جہاں اس نے سوچا بھی نہیں ہوتا  اگرچہ یہ الفاظ لفظ بہ لفظ حدیثِ نبوی ﷺ کے طور پر کتبِ حدیث میں اسی ترتیب کے ساتھ نہیں ملتے، لیکن اس کا مفہوم قرآن کریم اور احادیثِ مبارکہ میں بیان کردہ
اگر کوئی کسی کی وفاداری سے کھیل جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی وہاں سے پکڑ کرتے ہیں جہاں اس نے سوچا بھی نہیں ہوتا اگرچہ یہ الفاظ لفظ بہ لفظ حدیثِ نبوی ﷺ کے طور پر کتبِ حدیث میں اسی ترتیب کے ساتھ نہیں ملتے، لیکن اس کا مفہوم قرآن کریم اور احادیثِ مبارکہ میں بیان کردہ "اللہ کی پکڑ" اور "وفاداری توڑنے (خیانت)" کی سخت ترین سزا کے عین مطابق ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت درج ذیل ہے: 1. وفاداری توڑنا منافقت اور خیانت ہے اسلام میں وعدہ پورا کرنا، امانت داری اور وفاداری بنیادی اخلاقی اقدار ہیں۔ کسی کی وفاداری کو پامال کرنا خیانت ہے، جسے اللہ سخت ناپسند کرتا ہے۔ قرآن کریم: "اے ایمان والو! اللہ اور رسول (ﷺ) کی امانتوں میں خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو، حالانکہ تم جانتے ہو۔" (سورۃ الانفال: 27) حدیثِ پاک: "جس نے کسی مسلمان کو نقصان پہنچایا، اللہ اسے نقصان پہنچائے گا اور جس شخص نے کسی مسلمان کو مشقت میں ڈالا، اللہ اسے مشقت میں مبتلا کرے گا۔" (سنن ترمذی) 2. "قسمت سے کھیلنے" کا مفہوم (اللہ کی سزا) جب کوئی شخص کسی دوسرے کے بھروسے اور وفاداری سے کھیلتا ہے تو اللہ تعالی اپنی غیرت کی وجہ سے اس کی تقدیر ایسے موڑ پر لے آتا ہے جہاں وہ خود رسوا ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے دن ہر دھوکہ باز (وفاداری توڑنے والے) کے لیے ایک جھنڈا ہوگا جس سے اسے پہچانا جائے گا کہ یہ فلاں کی دھوکہ دہی ہے۔" (صحیح بخاری: 6178) مفہوم: اللہ تعالیٰ وفادار لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور دھوکہ باز کو اس کے اپنے ہی جال میں پھنساتا ہے، جو اس کی زندگی اور آخرت کی "قسمت خراب" کرنے کے مترادف ہے۔ 3. اللہ کی بے نیازی "میں اس کی تقدیر سے کھیلتا ہوں" کا مطلب یہ بھی ہے کہ انسان اپنی تدبیروں پر نازاں ہوتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے سارے منصوبے خاک میں ملا دیتا ہے۔ قرآن کریم: "اور وہ (کافر) چال چلتے ہیں اور اللہ بھی چال چلتا ہے، اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے۔" (سورۃ آل عمران: 54) خلاصہ کسی کی وفاداری کے ساتھ کھیلنا اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ وفادار اور امانت دار لوگوں کا حامی و ناصر ہے اور خیانت کرنے والوں کو دنیا اور آخرت میں رسوائی کی سزا دیتا ہے۔ نوٹ: یہ بات ذہن میں رہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے "کھیلنا" کا لفظ (جو انسانوں کے لیے استعمال ہوتا ہے) اس کے شایانِ شان نہیں، اس لیے اس کا مفہوم اللہ کی "تدبیر" اور "پکڑ" ہی لیا جائے گا۔ #tiktok #Love #motivation #islamicvideo #share

About