@gehri_bateen: یہ اقتباس انسانی رشتوں کی نزاکت اور اخلاقی ذمہ داری کی بہت خوبصورت یاددہانی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ انسان کو دوسروں کے مان، اعتماد، اعتبار اور یقین کی حفاظت کرنی چاہیے، کیونکہ یہی چیزیں تعلقات کی اصل بنیاد ہوتی ہیں۔ “مان رکھنا سیکھئے” یعنی دوسروں کی عزتِ نفس، جذبات اور اعتماد کا خیال رکھنا سیکھیں۔ کبھی کبھی ایک سخت جملہ، بے وفائی، جھوٹ یا بے رخی انسان کے دل پر ایسا اثر چھوڑ جاتی ہے جو برسوں نہیں مٹتا۔ اقتباس یہ بھی سمجھاتا ہے کہ: زندگی بہت مختصر ہے اس لیے نفرت، تکلیف اور دل آزاری پھیلانے کے بجائے محبت، نرمی اور احترام بانٹنا بہتر ہے۔ اعتماد ٹوٹ جائے تو دوبارہ جڑنا مشکل ہوتا ہے انسان شاید ظاہری طور پر معاف کر دے، مگر دل کے اندر پیدا ہونے والی خراش باقی رہ جاتی ہے۔ وقت گزر جاتا ہے مگر اثر باقی رہتے ہیں ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ بات ختم ہوگئی، لیکن ہماری دی ہوئی تلخیاں کسی کے دل میں خاموش زخم بن کر رہ سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سمجھدار انسان: بات کرنے سے پہلے سوچتا ہے، وعدہ کرے تو نبھاتا ہے، اور کسی کے احساسات کو معمولی نہیں سمجھتا۔ مختصر یہ کہ یہ اقتباس ہمیں نرم دل، بااعتماد اور بااخلاق انسان بننے کی تلقین کرتا ہے، کیونکہ اچھے رویے انسان کو لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھتے ہیں۔ #gehri_bateen