@yukani697: Aqua - Butterfly Edit #konosubarashiisekai #aqua #konosuba #viral #fyp

Yukani
Yukani
Open In TikTok:
Region: FR
Saturday 06 June 2026 19:06:11 GMT
50442
5388
42
498

Music

Download

Comments

gotto499
Gotto :
Name
2026-08-28 22:51:47
24
g.h.ost19
G.h.ost.019 :
name artista
2026-08-29 17:53:11
3
neogoublakpor100
(。☬jhonatan☬。) :
héroe sin capa name
2026-08-29 11:41:57
0
dont_rin
HomeLand :
комент
2026-08-29 18:56:18
0
77prietokun77
༺ Kazuma satou༒ :
él nameeeeeeeeeeeeeee
2026-08-29 18:16:47
0
tokito__.com
ホセ・マヌエル :
name
2026-08-29 18:44:06
0
yoon.nilar.soe
Yoon Nilar Soe :
2026-08-29 06:48:11
0
brayan.collado.pe
Brayan Collado Pelicano :
pasen estrikers
2026-08-29 14:50:11
0
kazuma20258
kazuma2025 :
name name
2026-08-29 18:24:47
0
beratolc35
Beratolc. :
2026-08-29 00:59:46
0
thonyytgamer2015
ThonyYTgamer :
Name del H
2026-08-29 22:54:56
0
djmakanklutoy
PRICCOLO :
кстати ей хватит одной бутылки дорогого алкоголя чтобы отдаться кому угодно, она сама говорила это в аниме
2026-08-29 00:45:17
3
kc219273uot
KVC :
ya no disimulas bro, mejor quítale la censura de una vez xd
2026-08-29 09:10:45
1
fubuki01.r
Yuki :
2026-08-28 20:45:43
1
To see more videos from user @yukani697, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

لیپانتو: وہ دن جب عثمانی بحری طاقت کا غرور ڈوب گیا 7 اکتوبر 1571 بحیرۂ روم کے پرسکون پانی اچانک توپوں، چیخوں اور خون سے بھر گئے۔چند ہی گھنٹوں میں ایک ایسا بحری بیڑہ، جسے مشرقی بحیرۂ روم کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا تھا، تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا تھا۔ لیکن اصل حیرت یہ نہیں تھی کہ عثمانی ہار گئے۔ اصل سوال یہ تھا: اتنی بڑی شکست کے بعد عثمانی سلطنت اگلے ہی سال دوبارہ ایک نیا بحری بیڑہ کیسے کھڑا کرنے میں کامیاب ہوگئی؟ یہ کہانی ہے جنگِ لیپانتو کی۔ 1571 میں بحیرۂ روم پر دو بڑی طاقتیں آمنے سامنے تھیں۔ ایک طرف عثمانی بحری بیڑہ تھا، جس کی قیادت علی پاشا کر رہا تھا۔ دوسری طرف مقدس اتحاد تھا—اسپین، وینس، پوپل ریاستوں اور مالٹا سمیت مختلف یورپی طاقتوں کا اتحاد—جس کی کمان ڈان جوان آف آسٹریا کے ہاتھ میں تھی۔دونوں جانب دو سو سے زیادہ جنگی جہاز موجود تھے۔ یہ صرف ایک بحری جنگ نہیں تھی۔ یہ اس سوال کا فیصلہ تھا کہ بحیرۂ روم پر اصل طاقت کس کی ہوگی؟ پھر جنگ شروع ہوئی۔ توپیں گرجیں۔ جہاز ایک دوسرے سے ٹکرائے۔ تلواریں کھنچ گئیں۔ اور چند گھنٹوں کے اندر عثمانی صفیں ٹوٹنے لگیں۔ عثمانی بیڑے کا بڑا حصہ یا تو ڈوب گیا یا دشمن کے قبضے میں چلا گیا۔ ہزاروں ملاح اور سپاہی مارے گئے، کئی تجربہ کار کمانڈر ہلاک ہوئے، اور خود علی پاشا بھی میدانِ جنگ میں مارا گیا۔ لیکن اس تباہی کے درمیان ایک عثمانی کمانڈر اپنی قسمت بدلنے میں کامیاب ہوگیا۔ اولوچ علی ریس۔ وہ اپنے دستے کو نسبتاً محفوظ نکال لے گیا۔ تاریخ دان آج بھی اس کامیابی کی مکمل تشریح پر متفق نہیں—کیا یہ اس کی غیر معمولی فوجی مہارت تھی، یا اتحادی بیڑے کی صف بندی میں پیدا ہونے والی کمزوری کا فائدہ؟ جو بھی وجہ تھی، عثمانی بیڑا مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اور پھر کہانی نے ایسا موڑ لیا جس کی شاید یورپی طاقتوں نے توقع نہیں کی تھی۔ 1572 میں عثمانیوں نے ایک نیا بحری بیڑہ تیار کر لیا۔ صرف ایک سال بعد۔ یہ رفتار اس دور کے یورپی مبصرین کے لیے حیران کن تھی۔ اسی لیے عثمانی وزیر سے منسوب ایک مشہور جملہ تاریخ میں محفوظ ہوگیا:مسیحیوں نے عثمانی سلطنت کی صرف “داڑھی مونڈی ہے”—جو دوبارہ اگ آئے گی۔ اور اس جملے میں ایک اہم حقیقت چھپی تھی۔ لیپانتو عثمانیوں کے لیے ایک بہت بڑی بحری شکست تھی، مگر یہ سلطنت کے خاتمے کی جنگ نہیں تھی۔ بلکہ اسی مہم کے دوران فتح کیا گیا قبرص عثمانیوں کے قبضے میں برقرار رہا۔ تو پھر لیپانتو اتنی اہم کیوں تھی؟کیونکہ پہلی بار یورپ نے واضح طور پر دیکھ لیا تھا کہ عثمانی بحری طاقت ناقابلِ شکست نہیں۔اس فتح نے یورپی حوصلے بلند کیے اور بحیرۂ روم میں عثمانی بحری دباؤ کے مستقبل پر سوال کھڑے کر دیے۔ لیکن ایک بات واضح ہے۔یہ کسی ثابت شدہ اندرونی سازش یا غداری کی کہانی نہیں تھی۔ اصل کہانی اس سے بھی زیادہ حیران کن ہے:ایک عظیم بحری طاقت نے ایک ہی دن میں اپنی سب سے بڑی شکستوں میں سے ایک دیکھی—اور پھر صرف ایک سال بعد دوبارہ سمندر میں کھڑی ہوگئی لیپانتو نے عثمانیوں کو ختم نہیں کیا۔ لیکن اس نے دنیا کو ایک بات ضرور دکھا دی:سلطنتیں بھی ناقابلِ شکست نہیں ہوتیں۔ #MuslimHero #tareekheislam  #تاریخی_بکس #تاریخی #عتیق_المنظور
لیپانتو: وہ دن جب عثمانی بحری طاقت کا غرور ڈوب گیا 7 اکتوبر 1571 بحیرۂ روم کے پرسکون پانی اچانک توپوں، چیخوں اور خون سے بھر گئے۔چند ہی گھنٹوں میں ایک ایسا بحری بیڑہ، جسے مشرقی بحیرۂ روم کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا تھا، تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا تھا۔ لیکن اصل حیرت یہ نہیں تھی کہ عثمانی ہار گئے۔ اصل سوال یہ تھا: اتنی بڑی شکست کے بعد عثمانی سلطنت اگلے ہی سال دوبارہ ایک نیا بحری بیڑہ کیسے کھڑا کرنے میں کامیاب ہوگئی؟ یہ کہانی ہے جنگِ لیپانتو کی۔ 1571 میں بحیرۂ روم پر دو بڑی طاقتیں آمنے سامنے تھیں۔ ایک طرف عثمانی بحری بیڑہ تھا، جس کی قیادت علی پاشا کر رہا تھا۔ دوسری طرف مقدس اتحاد تھا—اسپین، وینس، پوپل ریاستوں اور مالٹا سمیت مختلف یورپی طاقتوں کا اتحاد—جس کی کمان ڈان جوان آف آسٹریا کے ہاتھ میں تھی۔دونوں جانب دو سو سے زیادہ جنگی جہاز موجود تھے۔ یہ صرف ایک بحری جنگ نہیں تھی۔ یہ اس سوال کا فیصلہ تھا کہ بحیرۂ روم پر اصل طاقت کس کی ہوگی؟ پھر جنگ شروع ہوئی۔ توپیں گرجیں۔ جہاز ایک دوسرے سے ٹکرائے۔ تلواریں کھنچ گئیں۔ اور چند گھنٹوں کے اندر عثمانی صفیں ٹوٹنے لگیں۔ عثمانی بیڑے کا بڑا حصہ یا تو ڈوب گیا یا دشمن کے قبضے میں چلا گیا۔ ہزاروں ملاح اور سپاہی مارے گئے، کئی تجربہ کار کمانڈر ہلاک ہوئے، اور خود علی پاشا بھی میدانِ جنگ میں مارا گیا۔ لیکن اس تباہی کے درمیان ایک عثمانی کمانڈر اپنی قسمت بدلنے میں کامیاب ہوگیا۔ اولوچ علی ریس۔ وہ اپنے دستے کو نسبتاً محفوظ نکال لے گیا۔ تاریخ دان آج بھی اس کامیابی کی مکمل تشریح پر متفق نہیں—کیا یہ اس کی غیر معمولی فوجی مہارت تھی، یا اتحادی بیڑے کی صف بندی میں پیدا ہونے والی کمزوری کا فائدہ؟ جو بھی وجہ تھی، عثمانی بیڑا مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اور پھر کہانی نے ایسا موڑ لیا جس کی شاید یورپی طاقتوں نے توقع نہیں کی تھی۔ 1572 میں عثمانیوں نے ایک نیا بحری بیڑہ تیار کر لیا۔ صرف ایک سال بعد۔ یہ رفتار اس دور کے یورپی مبصرین کے لیے حیران کن تھی۔ اسی لیے عثمانی وزیر سے منسوب ایک مشہور جملہ تاریخ میں محفوظ ہوگیا:مسیحیوں نے عثمانی سلطنت کی صرف “داڑھی مونڈی ہے”—جو دوبارہ اگ آئے گی۔ اور اس جملے میں ایک اہم حقیقت چھپی تھی۔ لیپانتو عثمانیوں کے لیے ایک بہت بڑی بحری شکست تھی، مگر یہ سلطنت کے خاتمے کی جنگ نہیں تھی۔ بلکہ اسی مہم کے دوران فتح کیا گیا قبرص عثمانیوں کے قبضے میں برقرار رہا۔ تو پھر لیپانتو اتنی اہم کیوں تھی؟کیونکہ پہلی بار یورپ نے واضح طور پر دیکھ لیا تھا کہ عثمانی بحری طاقت ناقابلِ شکست نہیں۔اس فتح نے یورپی حوصلے بلند کیے اور بحیرۂ روم میں عثمانی بحری دباؤ کے مستقبل پر سوال کھڑے کر دیے۔ لیکن ایک بات واضح ہے۔یہ کسی ثابت شدہ اندرونی سازش یا غداری کی کہانی نہیں تھی۔ اصل کہانی اس سے بھی زیادہ حیران کن ہے:ایک عظیم بحری طاقت نے ایک ہی دن میں اپنی سب سے بڑی شکستوں میں سے ایک دیکھی—اور پھر صرف ایک سال بعد دوبارہ سمندر میں کھڑی ہوگئی لیپانتو نے عثمانیوں کو ختم نہیں کیا۔ لیکن اس نے دنیا کو ایک بات ضرور دکھا دی:سلطنتیں بھی ناقابلِ شکست نہیں ہوتیں۔ #MuslimHero #tareekheislam #تاریخی_بکس #تاریخی #عتیق_المنظور

About