@rimsha_459: کھیتوں میں کھڑا پُتلا حقیقت میں بے جان اور بے ضرر ہوتا ہے، لیکن پرندے اسے انسان کی موجودگی کا "وہم" سمجھ کر ڈر جاتے ہیں۔ انسان نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اصل خطرے سے زیادہ اس کا ڈر یا تصور (وہم) انسان یا جانور کو زیادہ محتاط اور خوفزدہ رکھتا ہے۔ یہ استعارہ ہماری روزمرہ زندگی کے خوف، پریشانیوں اور ذہنی الجھنوں پر بھی بالکل پورا اترتا ہے، جہاں اکثر انجان خوف حقیقت سے زیادہ پریشان کرتے ہیں۔ پرندوں کے لیے وہ پتلا کوئی جاندار انسان نہیں ہوتا، لیکن ان کا وہم اور گمان اسے ایک حقیقی خطرہ بنا دیتا ہے۔ انسان اور حیوان دونوں اکثر اس چیز سے زیادہ ڈرتے ہیں جس کا وہ صرف تصور کرتے ہیں، بنسبت اس کے جو سامنے موجود ہو۔ وہم ذہن میں ایسے خطرات پیدا کرتا ہے جن کی کوئی مادی شکل نہیں ہوتی، اور یہی وجہ ہے کہ یہ انسان کو زیادہ مفلوج کرتا ہے۔ وہم انسان کے لاشعور میں ایسے خوفناک منظرنامے بناتا ہے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، اور یہی انجان خوف انسان کو اصل حقیقت سے زیادہ ڈرا دیتا ہے۔ حقیقت کی ایک حد ہوتی ہے، لیکن وہم اور منفی خیالات کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ ہمارا دماغ نہ دیکھے گئے خطرات کو سچ مان کر خود کو مسلسل اذیت میں مبتلا رکھتا ہے۔ حقیقت محدود ہوتی ہے سامنے موجود خطرہ عارضی ہوتا ہے اور اس کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ وہم لامتناہی ہوتا ہے یہ دماغ میں مستقبل کے بارے میں خود ساختہ ڈراؤنی کہانیاں بناتا رہتا ہے۔ دماغ وہم کو سچ سمجھ کر جسم میں اسٹریس ہارمونز (جیسے کورٹیسول) پیدا کرتا ہے، جس سے دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے۔ یہ انسان کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیتا ہے۔ دوسروں پر بلاوجہ شک کرنے سے خاندانی اور سماجی رشتے خراب ہوتے ہیں۔ مسلسل وہم اور اَن دیکھا خوف انسان کو ذہنی تناؤ اور بلڈ پریشر جیسے مسائل میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جب بھی کوئی منفی خیال آئے، تو خود سے پوچھیں کہ کیا اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود ہے۔ مستقبل کے بجائے حال میں جائیں۔ آنے والے وقت کا اَن دیکھا خوف پالنے کے بجائے آج پر توجہ مرکوز کریں۔ خود کو کسی تعمیری کام، ورزش یا کتابوں کے مطالعے میں مصروف رکھیں۔ #foryou #foryoupage #fypシ゚viral #viralvideo #trending