@syahrulramadhan123z: 𝗚𝗢𝗬𝗔𝗡𝗚 𝗕𝗔𝗡𝗚 𝗝𝗔𝗟𝗜 𝗗𝗜 𝗛𝗔𝗗𝗔𝗣𝗔𝗡 𝗕𝗔𝗡𝗚 𝗝𝗔𝗟𝗜😭 #bangjali #dennycagur #turkishboy #byoncombat #byoncombatshowbiz  @turkishboy

◥◣ KING RUL ◢◤
◥◣ KING RUL ◢◤
Open In TikTok:
Region: ID
Sunday 07 June 2026 10:30:43 GMT
25704
311
0
6

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @syahrulramadhan123z, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ہم بطورِ معاشرہ ناکام ہوئے ہیں، اس لیے نہیں کہ عمارتیں کم ہیں، یا سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، بلکہ اس لیے کہ دل ویران ہو گئے ہیں۔ کوئی کتنے دن سے بھوکا ہے، اس کے چولہے میں آخری بار آگ کب جلی تھی، اس کی ماں نے بچوں کو بہلانے کے لیے کتنی راتیں پانی پلا کر سلایا تھا، یہ کسی کو معلوم نہیں۔ کوئی بیماری کے بستر پر پڑا زندگی اور موت کے درمیان معلق ہے، اس کی دوا ختم ہو چکی ہے، اس کی امیدیں بھی شاید، مگر اس کی خبر لینے والا کوئی نہیں۔ لیکن حیرت دیکھیے، کون کہاں گیا، کس نے کیا پہنا، کس سے بات کی، اور کون کتنا گناہ گار ہے، اس کی تفصیل ہر زبان پر موجود ہے۔ ہم نے انسانوں کو نہیں، ان کی غلطیوں کو یاد رکھا۔ ہم نے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انگلیاں رکھ کر انہیں گننا سیکھ لیا۔ کسی کی آنکھ میں چھپا ہوا درد ہمیں نظر نہیں آتا، مگر اس کی لغزش دور سے بھی دکھائی دے جاتی ہے۔ ہم نے کردار کے محافظ بننے کا دعویٰ کیا، مگر انسانیت کی حفاظت بھول گئے۔ ہم نے عدالتیں تو بہت لگا لیں، مگر رحم کے دروازے بند کر دیے۔ ایک شخص روٹی مانگے تو سوالوں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے، مگر کسی کی عزت اچھالنے والے کو محفلوں میں داد ملتی ہے۔ کاش ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے کہ کون بھوکا ہے، کون تنہا ہے، کون اندر ہی اندر ٹوٹ رہا ہے، تو شاید آج اتنی نفرتیں نہ ہوتیں۔ معاشرے اس وقت نہیں مرتے جب ان کے خزانے خالی ہو جائیں، بلکہ اس وقت مرتے ہیں جب لوگوں کے دل دوسروں کے درد سے خالی ہو جائیں۔ اور افسوس... ہم اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں لوگوں کے عیب مشہور ہیں، مگر ان کی تکلیفیں گمنام۔ اسی لیے دل کہتا ہے:
ہم بطورِ معاشرہ ناکام ہوئے ہیں، اس لیے نہیں کہ عمارتیں کم ہیں، یا سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، بلکہ اس لیے کہ دل ویران ہو گئے ہیں۔ کوئی کتنے دن سے بھوکا ہے، اس کے چولہے میں آخری بار آگ کب جلی تھی، اس کی ماں نے بچوں کو بہلانے کے لیے کتنی راتیں پانی پلا کر سلایا تھا، یہ کسی کو معلوم نہیں۔ کوئی بیماری کے بستر پر پڑا زندگی اور موت کے درمیان معلق ہے، اس کی دوا ختم ہو چکی ہے، اس کی امیدیں بھی شاید، مگر اس کی خبر لینے والا کوئی نہیں۔ لیکن حیرت دیکھیے، کون کہاں گیا، کس نے کیا پہنا، کس سے بات کی، اور کون کتنا گناہ گار ہے، اس کی تفصیل ہر زبان پر موجود ہے۔ ہم نے انسانوں کو نہیں، ان کی غلطیوں کو یاد رکھا۔ ہم نے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انگلیاں رکھ کر انہیں گننا سیکھ لیا۔ کسی کی آنکھ میں چھپا ہوا درد ہمیں نظر نہیں آتا، مگر اس کی لغزش دور سے بھی دکھائی دے جاتی ہے۔ ہم نے کردار کے محافظ بننے کا دعویٰ کیا، مگر انسانیت کی حفاظت بھول گئے۔ ہم نے عدالتیں تو بہت لگا لیں، مگر رحم کے دروازے بند کر دیے۔ ایک شخص روٹی مانگے تو سوالوں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے، مگر کسی کی عزت اچھالنے والے کو محفلوں میں داد ملتی ہے۔ کاش ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے کہ کون بھوکا ہے، کون تنہا ہے، کون اندر ہی اندر ٹوٹ رہا ہے، تو شاید آج اتنی نفرتیں نہ ہوتیں۔ معاشرے اس وقت نہیں مرتے جب ان کے خزانے خالی ہو جائیں، بلکہ اس وقت مرتے ہیں جب لوگوں کے دل دوسروں کے درد سے خالی ہو جائیں۔ اور افسوس... ہم اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں لوگوں کے عیب مشہور ہیں، مگر ان کی تکلیفیں گمنام۔ اسی لیے دل کہتا ہے: "ہم واقعی بطورِ معاشرہ ناکام ہوئے ہیں، کیونکہ ہمیں لوگوں کے گناہوں کی خبر ہے، مگر ان کی بھوک، بیماری اور تنہائی کا علم نہیں۔"✨ #creatorsearchinsights2026 #foryou #tiktokvirl #followformorevideo #tiktokvirl

About