@gb_urdupoetry: زرد پتّوں کی کہانی میں نیا کُچھ نہ تھا بادِ صرصر میں درختوں پہ رہا کُچھ نہ تھا خواب میں آج ہوا یوں کہ مری موت ہوئی جب میں بیدار ہوا مجھ کی ہوا کُچھ نہ تھا جنگ کے بعد فریقین کو دُکھ تھا تو یہ تھا کہ اُنھیں مالِ غنیمت میں ملا کُچھ بھی ہے تھا ایک شاعر کی ہوئی موت تو دیکھا میں نے اُس کی میراث میں غزلوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا یہ بتا اے مری تقدیر کے لکھنے والے جو لکھ تھا وہ غلط تھا يا لکھا کچھ بھی نہ تھا اپنے یاروں سے یہ پوچھا مرے ساتھ ہو کیا دیکھنے یوں لگے جیسے سُنا کچھ بھی نہ تھا وقت حالات مرے بس میں نہیں تھے یاسرؔ اس لیے تم سے مجھے شکوہ گلہ کُچھ بھی نہ تھا یاسر پاروی @Yasir Parvi . . #gburdupoets