@mehar_arslan_yasin: سیدہ ام البنین کی شان سیدہ فاطمہ الزہرہؓ کی وفات کے بعد حضرت علیؓ نے ان کی وصیت کے مطابق دوسری شادی کی حسنؓ حسینؓ زینبؓ ابھی چھوٹے تھے۔ آپ نے سیدنا عقیلؓ کو رشتہ دیکھنے کے لیے کہا تو کلبسی بنو قلاب کے قبیلے کا انتخاب ہوا۔ سیدنا علیؓ کی خواہش تھی کہ کوئی ایسی خاتون ہو جو شجاعت سخاوت اور ایثار کی خصوصیات سے مالا مال ہو بنو قلاب کی خاتون فاطمہ بنت حزم کے گھر رشتہ بھیجا تو سردار حزم اپنی بیوی کے پاس گئے اور پوچھا کہ سیدنا علیؓ کا بیٹی فاطمہ کے لیے رشتہ آیا ہے۔ کیا آپ نے اپنی بیٹی کی ایسی تربیت کی ہے جو نبیؐ کے خاندان میں بیاہی جا سکے۔ رشتہ قبول ہوتا ہے تو فاطمہ بنت حزم( سیدہ ام البنین) سیدنا علیؓ کے گھر جاتی ہیں تو سیدنا حسنؓ حسینؓ اور بی بی زینبؓ فاطمہ کو گلے لگا لیتی ہیں۔ سیدنا علیؓ سے درخواست کرتی ہیں کہ ان بچوں کے سامنے آپ مجھے کبھی فاطمہ مت کہئیے گا۔ انہیں اس سے ان کی ماں یاد آ جائے گی۔ میں اس گھر میں ان کی ماں بن کر نہیں آئی بلکہ کنیز بن کر آئی ہوں۔ میرا یہ مقام نہیں کہ ان کی ماں کی جگہ لے سکوں۔ ان کے چار بیٹے ہوئے اس لیے انہیں ام البنین بھی کہتے مطلب بیٹوں کی ماں۔ اپنے بیٹوں کو ہمیشہ حسنؓ حسینؓ کی اطاعت کا حکم دیا ادب سکھایا اور کہا جو وہ کہیں بس حکم بجا لانا ہے بحث نہیں کرنی۔ یہ اہلبیت ہیں ہم ان کے نوکر ہیں۔ چار بیٹوں میں عباس ابن علیؓ، عبداللہ ابن علیؓ، جعفر ابن علیؓ اور عثمان ابن علیؓ تھے۔ سیدنا عباسؓ لشکر حسین کے سپہ سالار بھی رہے۔ شجاعت میں یہ ایک مقام رکھتے تھے، دونوں ہاتھوں سے تلوار چلاتے تھے۔ جنگ صفین میں سیدنا علیؓ نے ان کو بھیجا تو محمد بن حنفیہ کہتے کہ مولا آپ صرف عباسؓ کو کیوں آگے بھیجتے ہیں تو سیدنا عباس کہنے لگے حسنؓ حسینؓ میرے ابا کی آنکھیں ہیں اور میں ان کا بازو اور بازو ہمیشہ آنکھوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ حالانکہ عمر میں حسنؓ و حسینؓ سے چھوٹے تھے۔ مطلب کہ یہ سوال بھی نہیں بنتا، ماں کی تربیت ہر مقام پر جھلکتی تھی۔ واقعہ کربلا میں جب ایک ایک کرکے لشکر حسینؓ کے سپاہی شہید ہوتے گئے تو سیدنا عباسؓ نے حضرت امام حسینؓ سے درخواست کی کہ مجھے جانے دیں۔ سیدنا امام حسینؓ ان سے تلواریں لے لیتے ہیں کہ بس عباسؓ تم پانی لے آؤ۔ آپ پانی لینے جاتے ہیں تو یزیدی لشکر ان پر حملہ کر دیتا ہے دونوں بازو کاٹ دئیے جاتے ہیں۔ امام عالی مقام کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔ سیدنا عباسؓ حضرت امام حسینؓ سے درخواست کرتے ہیں کہ میرے گھٹنے سے تیر نکال دیں اور کہتے ہیں کہ میری والدہ سے کہہ دیجئیے گا کہ عباسؓ کے دونوں بازو نہیں تھے۔ اس لیے صرف آپ کو تیر نکالنے کا کہا۔ یہ وہ ادب تھا وہ اطاعت تھی جو سیدہ ام البنین کی تربیت تھی جنہوں نے ساری زندگی نبیؐ کے اس گھرانے کی کنیز بن کر گزار دی۔ آپ کے چاروں بیٹے اس جنگ میں شہید ہو گئے۔ حضرت علیؓ کے پانچ بیٹوں نے میدان کربلا میں جام شہادت پائی۔ جس میں 4 سیدہ ام البین کے فرزندان تھے۔ جو لشکر حسینؓ کا نہ صرف حصہ بنے بلکہ امام عالی مقام پر اپنی جان تک قربان کر دی اور ساری عمر کبھی زبان پر کوئی سوال نہ لائے۔ سیدہ ام البنین کو جب بیٹوں کی شہادت کی خبر ملی تو کہا عباسؓ شہد ہوا جعفرؓ شہید ہوا عثمانؓ شہید ہوا عبداللہؓ بھی شہید ہو گیا۔ فرمانے لگی سب چھوڑیں میرے حسینؓ کا بتائیں تو بتایا کہ وہ بھی شہید ہو گئے۔ تو کہنے لگی کیا میرے بیٹے حسینؓ سے پہلے شہید ہوئے کہ بعد میں تو بتایا کہ نہیں وہ پہلے شہید ہوئے اور امام عالی مقام کی حفاظت کے لئے خوب لڑے تو شکر ادا کیا کہ انہوں نے بیشک حق ادا کر دیا۔ یہ وہ ماں تھی جو اہلبیت کے مقام کو سمجھتی تھی۔ جس نے اپنے سارے بیٹوں کو ساری عمر صرف اطاعت سکھائی ادب سکھایا خود کو اس گھر کی کنیز بنایا۔ خدا ہم سب کو اہلبیت کا مقام سمجھنے اور اس ادب و اطاعت کی ہدایت فرمائے جو سیدہ ام البینین نے اپنی اولاد کو سکھایا۔ ( آمین یارب العالمین) #islamic_video #viral #trending #mehar_arslan_yasin🖤🥀 #foryou