@rana_u_me45: کیونکہ نشہ تو اُس کی یادوں کا ہے، جو ہر رات آنکھوں میں اتر آتی ہیں۔ لفظ لڑکھڑائیں یا نہ لڑکھڑائیں، دل کی کیفیت چھپائی نہیں جاتی۔ کبھی ہنستے ہوئے یاد آ جاتا ہے وہ، کبھی خاموشی میں نام اُس کا گونجتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں شاید میں بدل گیا ہوں، مگر حقیقت یہ ہے کہ میں اب بھی وہیں کھڑا ہوں، جہاں اُس نے آخری بار مُڑ کر دیکھا تھا۔ اگر رات گئے کوئی بے ترتیب سا پیغام ملے، تو اسے نشے کی بات مت سمجھنا... یہ اُن ادھوری یادوں کا اثر ہوتا ہے، جو انسان کو سونے نہیں دیتیں۔ کیونکہ بعض لوگ شراب سے نہیں، کسی ایک شخص کی یاد سے بھی مدہوش رہتے ہیں