@officialjuipak: ہمارے بلوچستان ہو یا ہمارا خیبر پختونخواہ ہو اس کے پہاڑوں میں، صحراؤں میں جو معدنی ذخائر ہیں اس کو قبضے میں لیا جا رہا ہے، طاقتور قوتیں وہاں پر کھدائیاں کر رہی ہیں اور ہمارے صوبے کے غریب لوگوں کی ملکیت اس کو اپنے قبضے میں لے رہی ہے، ہم جانتے ہیں کہ ریاست وہ ان معدنی ذخائر کی حفاظت کے ذمہ دار ہے لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ وہاں کے عوام اور عام آدمی، وہاں کے بچوں کے حقوق کو غصب کر لے اور ان کو محروم کر دیں۔ اس حوالے سے بھی ہماری سوچ ایک ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے لیے ہماری ایک مشترکہ حکمت عملی ہونی چاہیے تاکہ ہم اپنے غریب صوبوں کے غریب بچوں کے وسائل کو ان کے حق میں استعمال کر سکیں اور ان کے منافع ہم ان کو دلا سکیں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان