آوارگی میں اپنا ٹھکانا کہیں نہ تھا
چلتے ہی جارہے تھے کہ جانا کہیں نہ تھا
ہاتھوں کی طشتری میں لیے پھر رہے تھے ہم
وہ آبلے کے جن کو دکھانا کہیں نہ تھا
کچھ دور جاکے خود سے پلٹ آۓ بار بار
ہم کو کس سے ملنا ملانا کہیں نہ تھا
پتے اڑے تو شاخ پہ واپس نہ آسکے
ایسا بھی نامراد گھرانہ کہیں نہ تھا
2026-06-30 04:14:25
2
Muhammad Rizwan :
شام سے آنکھ میں نمی سی ہے۔۔
آج پھر آپ کی کمی سی ہے۔۔
دفن کر دو ہمیں, کہ سانس آئے !
نبض کچھ دیر سے تھمی سی ہے۔۔
کون پتھرا گیا ہے آنکھوں میں !
برف پلکوں پہ کیوں جمی سی ہے۔۔
وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر !
عادت اس کی بھی آدمی سی ہے۔۔
آئیے, راستے الگ کر لیں !
یہ ضرورت بھی باہمی سی ہے۔۔
2026-08-05 18:32:57
0
To see more videos from user @aqdasbinfaisal77, please go to the Tikwm
homepage.