@.jihad.moghniyeh: الحاج (حاج قاسم) اور جہاد کی آخری ملاقات الحاج اور جہاد کی آخری ملاقات، جہاد کی شہادت سے دو دن پہلے ہوئی تھی۔ ہمیشہ کی طرح جہاد پُرجوش اور مسکراتا ہوا الحاج سے ملنے آیا۔ حاضرین نے ایک دوسرے کو خوش آمدید کہا۔ جب انہیں بتایا گیا کہ جہاد، الحاج سے ملنے آیا ہے تو الحاج نے شدید اشتیاق کے ساتھ فرمایا: "اسے میرے پاس آنے دو۔" جیسے ہی جہاد کمرے میں داخل ہوا، الحاج اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اسے مضبوطی سے گلے لگا لیا۔ جہاد نے بھی اسی محبت اور نرمی کے ساتھ جواب دیا جس انداز سے الحاج ہمیشہ اس کے ساتھ پیش آتے تھے۔ ان دونوں کے درمیان محبت بھری مسکراہٹ کا ایک پل قائم ہو گیا۔ جہاد نے الحاج کے کندھے پر بوسہ دیا اور کہا: "چچا جان! اللہ آپ کی تھکن دور فرمائے۔" پھر وہ الحاج کا ہاتھ چومنے کے لیے جھکا، لیکن الحاج نے اسے روک دیا۔ اس کے بعد جہاد نے دھیمی اور غمگین آواز میں کہا: "یہ بات ہمیشہ میرے دل میں ایک حسرت بن کر رہے گی..." اسی لمحے وہ بھائی، جو جہاد کے معاملات کے ذمہ دار تھے، کمرے میں داخل ہوئے۔ الحاج کی نظر جیسے ہی ان پر پڑی، انہوں نے فرمایا: "اے میرے بھائی! میں جہاد کو پہلے اللہ کے سپرد کرتا ہوں، پھر تمہارے حوالے کرتا ہوں۔ اس کا خیال رکھنا؛ اسے اگلی صفوں میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔" جہاد مسکرایا، ایک بار پھر الحاج کے کندھے کو بوسہ دیا، اپنا ہاتھ ان کے کندھے پر رکھا اور کہا: "چچا جان! میں آپ پر اپنی جان قربان کر دوں گا۔" الحاج نے محبت اور شفقت سے بھرپور نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا، پھر ذمہ دار بھائی کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا: "میرے بیٹے کا خیال رکھنا، اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔" اس لمحے وہاں موجود ہر شخص نے الحاج اور جہاد کے درمیان باپ بیٹے جیسی محبت اور گہرے جذبات کی شدت کو محسوس کیا۔ #𝙅𝙞𝙝𝙖𝙙 𝙈𝙪𝙜𝙝𝙣𝙞𝙮𝙚𝙝 #𝙃𝙖𝙟 𝙌𝙖𝙨𝙞𝙢 #𝙪𝙣𝙛𝙧𝙚𝙚𝙯 𝙢𝙮 𝙖𝙘𝙘𝙤𝙪𝙣𝙩