@alihaq2537: محمد مصطفیٰ نورِ خدا نامِ خدا تم ہو شَہِ خَیْرُالْوَریٰ شانِ خدا صَلِّ عَلٰی تم ہو شکیبِ دل قرارِ جاں محمد مصطفی تم ہو طبیبِ دردِ دل تم ہو مِرے دل کی دوا تم ہو غریبوں درد مندوں کی دوا تم ہو دعا تم ہو فقیروں بے نواؤں کی صدا تم ہو نِدا تم ہو حبیبِ کبریا تم ہو اِمَامُ الْاَنْبِیَآء تم ہو محمد مصطفیٰ تم ہو محمد مجتبیٰ تم ہو ہمارے ملجا و ماوا ہمارا آسرا تم ہو ٹھکانہ بے ٹھکانوں کا شَہِ ہر دوسرا تم ہو غریبوں کی مدد بے بس کا بس رُوْحِیْ فِدَا تم ہو سہارا بے سہاروں کا ہمارا آسرا تم ہو نہ کوئی ماہ وَش تم سا نہ کوئی مہ جبیں تم سا حسینوں میں ہو تم ایسے کہ محبوبِ خدا تم ہو میں صدقے انبیا کے یوں تو محبوب ہیں، لیکن جو سب پیاروں سے پیارا ہے وہ محبوبِ خدا تم ہو حسینوں میں تمھیں تم ہو نبیوں میں تمھیں تم ہو کہ محبوبِ خدا تم ہو نَبِیُّ الْاَنْبِیَآء تم ہو تمھارے حُسنِ رنگیں کی جھلک ہے سب حسینوں میں بہاروں کی بہاروں میں بہارِ جاں فزا تم ہو زمیں میں ہے چمک کس کی فلک پر ہے جھلک کس کی مہ و خورشید، سیّاروں، ستاروں کی ضیا تم ہو وہ لاثانی ہو تم آقا نہیں ثانی کوئی جس کا اگر ہے دوسرا کوئی تو اپنا دوسرا تم ہو ھُوَالْاَوَّل ھُوَالْاٰخِر ھُوَالظَّاھِر ھُوَالْبَاطِن بِکُلِّ شَیْء عَلِیْم لوحِ محفوظِ خدا تم ہو نہ ہو سکتے ہیں دو اوّل، نہ ہو سکتے ہیں دو آخر تم اوّل اور آخر، ابتداء تم انتہا تم ہو خدا کہتے نہیں بنتی جدا کہتے نہیں بنتی خدا پر اِس کو چھوڑا ہے وہی جانے کہ کیا تم ہو اَنَا مِنْ حَامِد و حَامِد رضَا مِنِّی کے جلووں سے بِحَمْدِ اللہ رضا حامد ہیں اور حاؔمد رضا تم ہو تعارف مولانا حامد رضا خان بریلوی رحہ حضرت مولانا شاہ حامد رضا بریلوی رحہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحہ کے بڑے بیٹے تھے۔ مولانا محمد حامد رضا خان رحہ جن کا لقب حجۃ الاسلام تھا ماہ ربیع الاول 1292ھ بمطابق 1875ء میں اپنے دادا مولانا نقی علی خان رحہ کے گھر بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔ آباؤ اجداد کی شاندار روایات کےمطابق درسیات تمام وکمال والد ماجد سے پڑھی۔ 19 سال کی عمر میں تمام مروجہ درسیات کی کتب سے فارغ التحصیل ہوئے۔ علم وعمل میں باکمال والدِ ماجد کے جانشین، عربی نظم و نثر میں منفرد اسلوب رکھتے تھے۔ زمانۂ تعلیم میں ہی آپ نے درسیات کی امہات الکتب، خیالی، توضیح تلویح، ہدایہ اخیرین، صحیح بخاری پر حواشی لکھ کر اپنے والد کی خدمت میں پیش کیا تو اعلیٰ حضرت نے "قال الولد الاعز"لکھ کر اپنے صاحبزادے کو دادِ تحسین فرمائی۔ جب گلستانِ رضا کا یہ پھول ہر سو خوشبو پھیلانے لگا تو مولانا احمد رضا خان بریلوی نے اپنے اکابر خلفاء کی موجودگی میں "حامد منی و انا من حامد" فرما کر آپ کی عظمت و فضیلت پر مہر ثبت کر دی۔ آپ حضرت مخدوم شاہ ابو الحسن احمد نوری مارہروی قدس سرہٗ کے مرید و خلیفہ تھے۔ والد ماجد سے بھی تمام سلاسل میں اجازت و خلافت حاصل تھی۔ حسن معنوی کیساتھ ساتھ حُسن ظاہری میں بھی وحیدِ زمانہ تھے۔ صاف ستھری طبیعت کے مالک ،تلامذہ،مریدین اور ناداروں کی دستگیری آپ کا شیوہ تھا۔ آپ اُن تمام خوبیوں کے جامع تھے جو ایک عالم دین کے جانشین میں ہونی چاہئے تھیں۔ ۔ساری زندگی اپنے والد گرامی کے مشن کو پھیلاتے رہے۔ مولانا حامد رضا خان بریلوی رحہ نے 17 جمادی الاول1362ھ، بمطابق 23 مئی 1943 کو وصال فرمایا۔مزار شریف بریلی میں مرجعِ خلائق ہے #نعت #سفیرعشق #قوالی_محفل #پاکستان___زندہ___باد🇵🇰 #پاکستان