@keithaa4n: dari dulu sampe sekarang,masih bertahan 😊 By : ikhsnn_zxy0 #minecraftbedrock #foryou #fyp #alightmotion_edit #4

Kenthaa4u
Kenthaa4u
Open In TikTok:
Region: ID
Wednesday 10 June 2026 14:12:27 GMT
5796
833
29
125

Music

Download

Comments

ndraa7734
￴ ￴ ￴ ￴ ￴￴ ￴ ￴ndraa🇵🇸 :
🗣️: kenapa pensi Minecraft me :hp leg+gda teman mbar bosan
2026-06-11 14:23:16
1
jawa820
SAL💤 :
sebelum tau cara Mabar sekarang gw minta temen gw idupin wifi gw yang hospot eh kok ga Nemu vitur Mabar 🥹🥹
2026-06-11 15:19:55
1
peopleyoumayknow550
💥💥💥 :
I miss the era
2026-06-11 07:50:55
1
usertidak.dikenal2
ArifHanzz🚀 :
versi berapa ya yg masih bisa mabar offline pakai hotspot wifi di minecraft
2026-06-11 15:15:08
1
saha_coba29
dra.we :
Alhamdulillah masih Mabar
2026-06-11 11:55:18
1
gusti.rimuru
画像 :
sama kak,ak juga gitu
2026-06-10 14:27:08
4
withlovee55
~•nina°~lusyuu💤 :
jadi kangen era Minecraft yangg duluu😭😭
2026-06-10 15:33:58
3
kenzzyxml
KenzyXml :
preset nya dong tante
2026-06-10 17:27:42
2
pernaungmansyah
pernaung mansah :
miniminitia
2026-06-11 13:59:15
0
shhhh9041
shhhh :
mana bisa tanpa kouta😹
2026-06-11 13:23:35
0
lezzykagenou
𝙇𝙚𝙯𝙯𝙮𝙆𝙖𝙜𝙚𝙣𝙤𝙪 :
lah adek aku masih pake hospot dan wifi 🗿
2026-06-11 11:16:54
1
gustindjhv
wannnsstraa)_? :
yang era minecraft dulu biar lah berlalu
2026-06-11 10:32:38
0
zufzuf05
𝗭𝘂𝗳𝗮𝗿`⚡ :
https://vt.tiktok.com/ZSQUf7L7g/
2026-06-11 01:04:17
0
jassa11_
J 44 GT :
me dan bro setelah menamatkan Minecraft 🤜🤛
2026-06-11 12:20:31
1
fs59779
FɪɴᴀʟSᴛʀɪᴋᴇ⸸. :
@★𝗧𝗵𝗲𝗥𝗲𝗽𝗽𝗲𝗿`~~ ngeri boy
2026-06-11 00:03:51
0
call.me.haikal.ok
Haikal 😹🫸 :
@mboh sopo ??🚔 keinget dulu jir
2026-06-10 16:14:57
0
a.b.c.d.e026
.- :
@☠ 亗 ꜱᴩᴄy_ᴊɪᴅᴢᴢ 亗 ☠ @MȺɈƗĐ_ȺNØMȺŁƗ
2026-06-11 09:10:09
0
To see more videos from user @keithaa4n, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

سردار ملی خان 19ویں صدی کے ایک عظیم حریت پسند اور جنگجو تھے، جنہوں نے سکھ سلطنت اور ڈوگرا راجہ گلاب سنگھ کے ظلم کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ سکھوں کے خلاف جنگ: جب 1819ء میں سکھ سلطنت نے کشمیر پر قبضہ کیا، تو پونچھ اور سدھنوتی کے پہاڑی قبائل نے سکھوں کی اطاعت دل سے قبول نہ کی۔ سردار ملی خان نے شروع ہی سے سکھ فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ 1819ء کی ایک لڑائی میں وہ سکھوں کی پہاڑی توپ کا گولا لگنے سے زخمی بھی ہوئے تھے۔ 1832ء کی مشہور بغاوت: پونچھ کی تاریخ کی سب سے خونریز اور بڑی بغاوت 1832ء سے 1837ء کے درمیان ہوئی۔ اس بغاوت کی قیادت سردار شمس خان کر رہے تھے، جبکہ ان کے سدا بہار ساتھی اور دستِ راست سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان تھے۔ ان مجاہدین نے ڈوگرا راجہ گلاب سنگھ کی فوج کے چھکے چھڑا دیے اور کئی قلعے آزاد کروا لیے۔ بغاوت کو کچلنا اور سازش: راجہ گلاب سنگھ ایک بہت بڑا لشکر لے کر پونچھ پر حملہ آور ہوا اور مقامی غداروں کو پیسے اور عہدوں کا لالچ دے کر مجاہدین کے ٹھکانوں کا پتہ لگایا۔ منگ (Mong) کے مقام پر ایک آخری اور فیصلہ کن معرکہ ہوا جہاں مجاہدین کو محصور کر لیا گیا۔ عبرتناک اور دردناک شہادت: سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان کو سکھ اور ڈوگرا فوج نے قیدی بنا لیا۔ راجہ گلاب سنگھ نے عبرت کا نشان بنانے کے لیے ان دونوں غیور سرداروں کو منگ کے مقام پر ایک درخت سے باندھا اور زندہ کھالیں کھینچنے (Flayed Alive) کا حکم دیا۔ سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان نے اپنی کھالیں تو اتروا دیں، لیکن ڈوگرا راج کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ منگ (آزاد کشمیر) میں آج بھی ان عظیم شہدا کی یادگار
سردار ملی خان 19ویں صدی کے ایک عظیم حریت پسند اور جنگجو تھے، جنہوں نے سکھ سلطنت اور ڈوگرا راجہ گلاب سنگھ کے ظلم کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ سکھوں کے خلاف جنگ: جب 1819ء میں سکھ سلطنت نے کشمیر پر قبضہ کیا، تو پونچھ اور سدھنوتی کے پہاڑی قبائل نے سکھوں کی اطاعت دل سے قبول نہ کی۔ سردار ملی خان نے شروع ہی سے سکھ فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ 1819ء کی ایک لڑائی میں وہ سکھوں کی پہاڑی توپ کا گولا لگنے سے زخمی بھی ہوئے تھے۔ 1832ء کی مشہور بغاوت: پونچھ کی تاریخ کی سب سے خونریز اور بڑی بغاوت 1832ء سے 1837ء کے درمیان ہوئی۔ اس بغاوت کی قیادت سردار شمس خان کر رہے تھے، جبکہ ان کے سدا بہار ساتھی اور دستِ راست سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان تھے۔ ان مجاہدین نے ڈوگرا راجہ گلاب سنگھ کی فوج کے چھکے چھڑا دیے اور کئی قلعے آزاد کروا لیے۔ بغاوت کو کچلنا اور سازش: راجہ گلاب سنگھ ایک بہت بڑا لشکر لے کر پونچھ پر حملہ آور ہوا اور مقامی غداروں کو پیسے اور عہدوں کا لالچ دے کر مجاہدین کے ٹھکانوں کا پتہ لگایا۔ منگ (Mong) کے مقام پر ایک آخری اور فیصلہ کن معرکہ ہوا جہاں مجاہدین کو محصور کر لیا گیا۔ عبرتناک اور دردناک شہادت: سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان کو سکھ اور ڈوگرا فوج نے قیدی بنا لیا۔ راجہ گلاب سنگھ نے عبرت کا نشان بنانے کے لیے ان دونوں غیور سرداروں کو منگ کے مقام پر ایک درخت سے باندھا اور زندہ کھالیں کھینچنے (Flayed Alive) کا حکم دیا۔ سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان نے اپنی کھالیں تو اتروا دیں، لیکن ڈوگرا راج کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ منگ (آزاد کشمیر) میں آج بھی ان عظیم شہدا کی یادگار "یادگارِ شہدا" کے نام سے موجود ہے، جو کشمیریوں کو ان کی قربانی کی یاد دلاتی ہے۔ ان دونوں شخصیات کا نام تاریخِ کشمیر میں سنہرے حروف سے لکھا گیا ہے—ایک نے خطے کو سدھنوتی کی پہچان دی اور دوسرے نے اسی مٹی کی آزادی کے لیے اپنی کھال کا نذرانہ پیش کیا۔

About