@mindsetrise88: اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی شخص ایسے ماحول میں رہتا ہے جہاں لوگ علم، شعور، منطق اور حقیقت پسندی سے دور ہوں، اور وہاں ایک فرد گہری سوچ، فہم و فراست اور سچائی پر مبنی نظریات رکھتا ہو، تو اسے اکثر مخالفت، تنقید اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جاہل لوگ عموماً نئی سوچ کو قبول کرنے کے بجائے اس کا مذاق اڑاتے ہیں یا اسے خطرہ سمجھتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے دانشور، مفکر اور مصلحین اپنے دور میں لوگوں کی سمجھ سے بلند سوچ رکھتے تھے، لیکن معاشرے نے انہیں دیوانہ، باغی یا غیر معمولی قرار دیا۔ وجہ یہ تھی کہ ان کی باتیں عام سوچ سے مختلف ہوتی تھیں۔ جب ایک باشعور انسان مسلسل ایسے لوگوں کے درمیان رہے جو حقیقت سننے یا سمجھنے کے لیے تیار نہ ہوں، تو وہ ذہنی دباؤ، مایوسی اور تنہائی محسوس کرنے لگتا ہے۔ بعض اوقات اسے واقعی یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید وہی غلط ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ یہ قول ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ شعور رکھنے والے افراد کو اپنی سوچ پر قائم رہنا چاہیے اور لوگوں کی ناسمجھی سے دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر سچ بولنے والا ہر مخالفت سے گھبرا جائے تو معاشرے میں کبھی مثبت تبدیلی نہیں آ سکتی۔ دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے علم اور شعور کو صبر، برداشت اور حکمت کے ساتھ استعمال کرے۔ مختصراً، یہ قول اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ شعور اور جہالت کا ٹکراؤ ہمیشہ سے موجود رہا ہے، اور اکثر باشعور لوگوں کو اپنی سوچ کی قیمت تنہائی، مخالفت یا غلط فہمی کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔#inspiration #motivation #viral #foryou #fyp