@chefaata6: غزوہ اُحد کا دن تھا۔ نبی کریم ﷺ نے تلوار اٹھا کر للکارا: "اسے کون لے گا اور اس کا حق ادا کرے گا؟" حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، آپ ﷺ نے تلوار روک لی۔ پھر حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اٹھے، آپ ﷺ نے پھر روک لی۔ پھر حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ سینہ تان کر کھڑے ہوئے اور عرض کیا: "یا رسول اللہ ﷺ! اس کا حق کیا ہے؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ کہ اس سے دشمن کے چہرے پر مارو یہاں تک کہ ٹیڑھی ہو جائے۔" حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے تلوار تھامی اور سرخ عمامہ باندھ لیا۔ یہ موت کو للکارنے کی نشانی تھی۔ پھر وہ اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے دشمن کی صفوں کو چیرتے ہوئے اکیلے گھس گئے۔ جدھر رخ کرتے دشمن کی لاشیں بچھتی جاتیں۔ تلوار کفار کے خون سے تر ہو گئی۔ اسی حالت میں ایک مشرک عورت ہند سامنے آئی جو مسلمانوں کی لاشوں کی بے حرمتی کر رہی تھی۔ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے وار کے لیے تلوار اٹھائی، پھر فوراً روک لی اور پیچھے ہٹ گئے۔ بعد میں صحابہ نے پوچھا تو غیرت سے فرمانے لگے: "مجھے رسول اللہ ﷺ کی تلوار کو کسی عورت پر چلانا گوارا نہ ہوا، چاہے وہ دشمن ہی کیوں نہ ہو ﷲ پاک ہمیں صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں اور ہمارے دلوں کو ایمان کے نور سے منور فرمائیں🤲 آمین #tiktokviral #spirituality #motivation #foryoupage #islamic