@mrbroken.01: @mrbroken.02 “ایک وقت ضرور آتا ہے جب آپ کچھ لوگوں کی نظر میں ‘ظالم’ بن جاتے ہیں، صرف اس لیے نہیں کہ آپ نے ظلم کیا ہوتا ہے، بلکہ اس لیے کہ آپ نے رعایتیں دینا چھوڑ دی ہوتی ہیں۔ آپ نے حدیں قائم کر لی ہوتی ہیں، آپ نے اپنے حق کے لیے ‘نہیں’ کہنا سیکھ لیا ہوتا ہے، اور آپ نے ہر کسی کو خوش رکھنے کی کوشش ترک کر دی ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کچھ لوگ عادتاً آپ کی نرمی کو آپ کی کمزوری سمجھ لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ آپ ہمیشہ سمجھوتے کریں گے، ہمیشہ خاموش رہیں گے، ہمیشہ برداشت کریں گے۔ لیکن جب آپ پہلی بار اپنے لیے کھڑے ہوتے ہیں، جب آپ پہلی بار اپنی عزت، اپنے وقت اور اپنی ذہنی سکون کی حفاظت کرتے ہیں، تو وہی لوگ آپ کو بدلتا ہوا یا سخت انسان کہنے لگتے ہیں۔ اصل میں آپ نہیں بدلے، بس لوگوں کی آپ سے توقعات بدل جاتی ہیں۔ وہ آپ کو اس حالت میں دیکھنے کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں جہاں آپ ہمیشہ ‘ہاں’ کرتے ہیں، ہمیشہ قربانی دیتے ہیں، ہمیشہ خود کو پیچھے رکھتے ہیں۔ جب آپ اپنی جگہ لینا شروع کرتے ہیں تو انہیں لگتا ہے کہ آپ نے رویہ بدل لیا ہے، حالانکہ آپ صرف اپنی خودی کو واپس لے رہے ہوتے ہیں۔ حدیں قائم کرنا ظالمانہ ہونا نہیں ہوتا، بلکہ خود احترام (self-respect) ہوتا ہے۔ ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی توانائی، اپنے وقت اور اپنے جذبات کو محفوظ رکھے۔ ہر رشتے، ہر تعلق اور ہر معاملے پر ایک حد تک ہی نرمی رکھی جاتی ہے، اس کے بعد وہ انسان کو توڑنے لگتا ہے۔جو لوگ آپ کی نرمی کو حق سمجھتے ہیں، وہ آپ کی سختی کو ظلم کہتے ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ہر انسان یہ سمجھ جاتا ہے کہ سب کو خوش رکھنا ممکن نہیں، اور ہر کسی کی توقع پر پورا اترنا بھی ضروری نہیں۔ کبھی کبھی اپنی ذہنی سکون کے لیے کچھ لوگوں کی رائے سے اختلاف کرنا اور خود کو ترجیح دینا ہی اصل مضبوطی ہوتی ہے