@itsudattekimini: which packaging do you like? 👀 #missha #kbeauty #koreanmakeup #tiktokshopcreatorpicks #bbcream

Nini 🌻 | Product Enthusiast
Nini 🌻 | Product Enthusiast
Open In TikTok:
Region: US
Wednesday 10 June 2026 23:10:48 GMT
511
2
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @itsudattekimini, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

شیخ القرآن والحدیث حضرت مولانا حمد اللہ جان ڈاگئی بابا جی رحمہ اللہ حیات و خدمات حضرت شیخ القرآن والحدیث مولانا حمد اللہ جان ڈاگئی بابا جی رحمہ اللہ برصغیر کے ممتاز محدث، مفسر، شیخِ طریقت اور عظیم دینی راہنما تھے۔ آپ نے ایک صدی سے زائد عمر پائی اور اپنی پوری زندگی قرآن و سنت کی اشاعت، تدریس، تصنیف، دعوت و اصلاح اور امتِ مسلمہ کی خدمت میں وقف کیے رکھی۔ پیدائش و خاندانی پس منظر حضرت مولانا حمد اللہ جان رحمہ اللہ کی ولادت 1909ء (بعض ذرائع میں 1914ء کا بھی ذکر ملتا ہے) خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے تاریخی گاؤں ڈاگئی میں ایک علمی و دینی گھرانے میں ہوئی۔ آپ کے والد مولانا عبدالحکیم رحمہ اللہ اور چچا مولانا محمد صدیق رحمہ اللہ برصغیر کے نامور علماء میں شمار ہوتے تھے۔ دونوں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے شاگرد اور حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے رفقائے درس تھے۔ ابتدائی تعلیم آپ نے قرآن کریم، ابتدائی عربی علوم، فقہ اور دیگر دینی علوم کی تعلیم اپنے والد اور چچا سے حاصل کی۔ بچپن ہی سے غیر معمولی ذہانت، شوقِ علم اور عبادت گزاری کی وجہ سے ممتاز تھے۔ اعلیٰ تعلیم ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے دارالعلوم دیوبند میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں مظاہر علوم سہارنپور تشریف لے گئے جہاں طالب علمی کے آخری تین سال گزارے اور 1947ء میں دورۂ حدیث مکمل کیا۔ اس دوران آپ نے اکابر علماء خصوصاً شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ اور دیگر جلیل القدر اساتذہ سے استفادہ کیا۔ تدریسی خدمات فراغت کے بعد آپ اپنے آبائی گاؤں ڈاگئی واپس آئے اور دارالعلوم مظہر العلوم ڈاگئی میں تدریس کا آغاز کیا۔ تقریباً پچاس برس تک مسلسل قرآن، حدیث، تفسیر، فقہ اور دیگر علومِ اسلامیہ پڑھاتے رہے۔ پاکستان، افغانستان اور دیگر ممالک سے ہزاروں طلبہ نے آپ سے علم حاصل کیا۔ دورۂ تفسیر رمضان المبارک میں آپ کا دورۂ تفسیرِ قرآن انتہائی مشہور تھا، جس میں پاکستان اور افغانستان سمیت مختلف ممالک سے علماء اور طلبہ شریک ہوتے تھے۔ آپ کا درسِ قرآن اپنی جامعیت، سادگی اور علمی گہرائی کی وجہ سے بہت مقبول تھا۔ افغانستان میں خدمات 1997ء میں افغانستان میں اسلامی امارت کے قیام کے بعد آپ کی دعوت پر کابل تشریف لے گئے، جہاں دارالعلوم فاروقیہ میں شیخ الحدیث اور شیخ التفسیر کی حیثیت سے تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس عرصے میں بھی ہزاروں علماء نے آپ سے استفادہ کیا۔ روحانی مقام حضرت مولانا حمد اللہ جان رحمہ اللہ صرف ایک محدث ہی نہیں بلکہ ایک صاحبِ نسبت بزرگ بھی تھے۔ آپ کو تصوف کے متعدد سلاسل میں خلافت حاصل تھی۔ آپ کی زندگی زہد، تقویٰ، اخلاص، اتباعِ سنت اور حسنِ اخلاق کا عملی نمونہ تھی۔ سیاسی و ملی خدمات آپ جمعیت علماء اسلام سے وابستہ رہے اور دینی و ملی معاملات میں ہمیشہ فعال کردار ادا کیا۔ آپ نے اسلامی نظام کے نفاذ، دینی مدارس کے تحفظ اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ شاگرد آپ کے ہزاروں شاگرد پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش، جنوبی افریقہ، برطانیہ، امریکہ اور دیگر ممالک میں تدریس، افتاء، دعوت اور اصلاح کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وفات تقریباً ایک صدی سے زائد عمر گزارنے کے بعد 12 جنوری 2019ء کو آپ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ آپ کی نمازِ جنازہ میں علماء، طلبہ اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی، اور آپ کو اپنے آبائی گاؤں ڈاگئی، ضلع صوابی میں سپردِ خاک کیا گیا۔ علمی ورثہ حضرت مولانا حمد اللہ جان ڈاگئی بابا جی رحمہ اللہ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، قرآن و حدیث کی تعلیم، اصلاحِ معاشرہ اور طلبہ کی تربیت میں صرف کی۔ آپ کا نام برصغیر کے عظیم شیوخِ حدیث میں ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ لیا جائے گا، اور آپ کے علمی و روحانی فیوض سے آنے والی نسلیں بھی مستفید ہوتی رہیں گی، ان شاء اللہ۔ اللّٰہ تعالیٰ حضرت شیخ القرآن والحدیث مولانا حمد اللہ جان ڈاگئی بابا جی رحمہ اللہ کی کامل مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے علمی و دینی مشن کو ہمیشہ زندہ رکھے۔ آمین۔
شیخ القرآن والحدیث حضرت مولانا حمد اللہ جان ڈاگئی بابا جی رحمہ اللہ حیات و خدمات حضرت شیخ القرآن والحدیث مولانا حمد اللہ جان ڈاگئی بابا جی رحمہ اللہ برصغیر کے ممتاز محدث، مفسر، شیخِ طریقت اور عظیم دینی راہنما تھے۔ آپ نے ایک صدی سے زائد عمر پائی اور اپنی پوری زندگی قرآن و سنت کی اشاعت، تدریس، تصنیف، دعوت و اصلاح اور امتِ مسلمہ کی خدمت میں وقف کیے رکھی۔ پیدائش و خاندانی پس منظر حضرت مولانا حمد اللہ جان رحمہ اللہ کی ولادت 1909ء (بعض ذرائع میں 1914ء کا بھی ذکر ملتا ہے) خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے تاریخی گاؤں ڈاگئی میں ایک علمی و دینی گھرانے میں ہوئی۔ آپ کے والد مولانا عبدالحکیم رحمہ اللہ اور چچا مولانا محمد صدیق رحمہ اللہ برصغیر کے نامور علماء میں شمار ہوتے تھے۔ دونوں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے شاگرد اور حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے رفقائے درس تھے۔ ابتدائی تعلیم آپ نے قرآن کریم، ابتدائی عربی علوم، فقہ اور دیگر دینی علوم کی تعلیم اپنے والد اور چچا سے حاصل کی۔ بچپن ہی سے غیر معمولی ذہانت، شوقِ علم اور عبادت گزاری کی وجہ سے ممتاز تھے۔ اعلیٰ تعلیم ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے دارالعلوم دیوبند میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں مظاہر علوم سہارنپور تشریف لے گئے جہاں طالب علمی کے آخری تین سال گزارے اور 1947ء میں دورۂ حدیث مکمل کیا۔ اس دوران آپ نے اکابر علماء خصوصاً شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ اور دیگر جلیل القدر اساتذہ سے استفادہ کیا۔ تدریسی خدمات فراغت کے بعد آپ اپنے آبائی گاؤں ڈاگئی واپس آئے اور دارالعلوم مظہر العلوم ڈاگئی میں تدریس کا آغاز کیا۔ تقریباً پچاس برس تک مسلسل قرآن، حدیث، تفسیر، فقہ اور دیگر علومِ اسلامیہ پڑھاتے رہے۔ پاکستان، افغانستان اور دیگر ممالک سے ہزاروں طلبہ نے آپ سے علم حاصل کیا۔ دورۂ تفسیر رمضان المبارک میں آپ کا دورۂ تفسیرِ قرآن انتہائی مشہور تھا، جس میں پاکستان اور افغانستان سمیت مختلف ممالک سے علماء اور طلبہ شریک ہوتے تھے۔ آپ کا درسِ قرآن اپنی جامعیت، سادگی اور علمی گہرائی کی وجہ سے بہت مقبول تھا۔ افغانستان میں خدمات 1997ء میں افغانستان میں اسلامی امارت کے قیام کے بعد آپ کی دعوت پر کابل تشریف لے گئے، جہاں دارالعلوم فاروقیہ میں شیخ الحدیث اور شیخ التفسیر کی حیثیت سے تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس عرصے میں بھی ہزاروں علماء نے آپ سے استفادہ کیا۔ روحانی مقام حضرت مولانا حمد اللہ جان رحمہ اللہ صرف ایک محدث ہی نہیں بلکہ ایک صاحبِ نسبت بزرگ بھی تھے۔ آپ کو تصوف کے متعدد سلاسل میں خلافت حاصل تھی۔ آپ کی زندگی زہد، تقویٰ، اخلاص، اتباعِ سنت اور حسنِ اخلاق کا عملی نمونہ تھی۔ سیاسی و ملی خدمات آپ جمعیت علماء اسلام سے وابستہ رہے اور دینی و ملی معاملات میں ہمیشہ فعال کردار ادا کیا۔ آپ نے اسلامی نظام کے نفاذ، دینی مدارس کے تحفظ اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ شاگرد آپ کے ہزاروں شاگرد پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش، جنوبی افریقہ، برطانیہ، امریکہ اور دیگر ممالک میں تدریس، افتاء، دعوت اور اصلاح کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وفات تقریباً ایک صدی سے زائد عمر گزارنے کے بعد 12 جنوری 2019ء کو آپ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ آپ کی نمازِ جنازہ میں علماء، طلبہ اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی، اور آپ کو اپنے آبائی گاؤں ڈاگئی، ضلع صوابی میں سپردِ خاک کیا گیا۔ علمی ورثہ حضرت مولانا حمد اللہ جان ڈاگئی بابا جی رحمہ اللہ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، قرآن و حدیث کی تعلیم، اصلاحِ معاشرہ اور طلبہ کی تربیت میں صرف کی۔ آپ کا نام برصغیر کے عظیم شیوخِ حدیث میں ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ لیا جائے گا، اور آپ کے علمی و روحانی فیوض سے آنے والی نسلیں بھی مستفید ہوتی رہیں گی، ان شاء اللہ۔ اللّٰہ تعالیٰ حضرت شیخ القرآن والحدیث مولانا حمد اللہ جان ڈاگئی بابا جی رحمہ اللہ کی کامل مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے علمی و دینی مشن کو ہمیشہ زندہ رکھے۔ آمین۔

About