@blinxnews: هل وصل القصف الأميركي لـ"مياه الشرب" في إيران؟ #مياه_الشرب #إيران #أميركا

blinxnews
blinxnews
Open In TikTok:
Region: AE
Thursday 11 June 2026 06:50:37 GMT
143821
3043
39
93

Music

Download

Comments

ass500489
Ass :
2026-06-11 07:44:57
9
hakan.murad.2.0
Tiger man 😡💪✝️ :
2026-06-12 02:49:07
2
sherin9526
🌷sherin🌷 :
2026-06-11 20:14:37
3
15347alhameedi
𝓐𝓝𝓐𝓓 :
2026-06-11 17:07:38
2
kalashnikov887ksa
kalashnikov880 :
2026-06-11 14:45:40
1
163_moha
محمد ال سعد 💠 :
2026-06-11 15:26:36
0
163_moha
محمد ال سعد 💠 :
2026-06-11 15:26:33
0
kalashnikov887ksa
kalashnikov880 :
2026-06-11 14:45:43
1
linhtruong5993
Trương Văn Linh :
2026-06-11 07:20:14
1
yassonafrican
𝐘 :
أول
2026-06-11 06:52:47
0
163_moha
محمد ال سعد 💠 :
2026-06-11 15:26:28
1
user8771225636161
والله يادنيا انسينا :
منظر يثلج القلب
2026-06-12 18:44:27
0
moiraq7777
moiraq7777 :
2026-06-12 00:14:10
1
themagiciansheikh
الشيخ :
زعفرانيه بدون ماء صار عشرة ايام
2026-06-11 19:34:31
1
marrahib
مرااحب :
منظر جميل 🥰🥰🥰
2026-06-11 07:21:51
2
user74312336561766
٠ :
كلهم أحباب
2026-06-11 15:50:27
2
taha.mahmood751
Taha Mahmood :
2026-06-11 08:04:57
1
user2488365142735
user2488365142735 :
2026-06-13 08:50:16
0
To see more videos from user @blinxnews, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

*تخیل شہادتِ سیدنا عمر ؓ ۔۔۔!!!* یہ چھبیس ذی الحجہ ہے ۔۔!!!  مدینے کے در و دیوار پر ایک عجیب سی خاموشی چھائی ہے ۔۔ کچھ بندگانِ خدا تہجد پڑھ کر کچھ دیر کے لئے آرام کرنے کی غرض سے لیٹے ہیں ۔۔ صبحِ نو تیزی سے اپنے پر پھڑپھڑاتے ہوئے مدینے کے مسلمانوں کے بوسے لیتی ہے ۔۔ مسجد نبویﷺ میں ہر سو خاموشی اور سکون کا راج ہے ۔۔ چند قدم کے فاصلے پر امت کی ماں عائشہ  ؓ کے حجرے میں دو یار قیامت تک کے لئے آرام فرما ہیں ۔۔ ہوائیں اس در کے بوسے لیتی مدینے کی گلیوں میں چلنے لگتی ہیں ۔۔ بظاہر معمول کا دن ہے ۔۔ عمر ؓ کا دور ہے ناں ۔۔!!! کسی کو کوئی پرواہ ہی نہیں ہے ۔۔  سب جانتے ہیں یہاں کسی کی لغت میں ظلم نہیں ہے ۔۔  ظلمت نہیں ہے ۔۔ بھوک نہیں ہے ۔۔ لوگ مطمئن ہیں ۔۔ مائیں تہجد میں ہاتھ اٹھا کر دعائیں عمر ؓ کے نام کرتی ہیں ۔۔ غرض ہر سو اطمینان ہے ۔۔  مگر کسے خبر تھی کہ آج یہ اطمینان آخری ہوگا ۔۔ آج کے بعد ویسا سکون قیامت تک نہیں ملے گا ۔۔ ویسا عدل ویسی مساوات کو اُس وقت کے بائیس لاکھ مربع میل کے مسلمان تو کجا قیامت تک آنے والے دنیا کے ہر گوشے کے مسلمان یاد کر کے آہیں بھرا کریں گے ۔۔!!! کسے خبر تھی آج عدل کا باب بند ہونے کو آیا ہے ۔۔ کون جانتا تھا محراب کے پیچھے چھپے ہوئے ابولولؤ فیروز ملعون کو کہ وہ اس وقت یہاں کیوں اور کس قبیح مقصد کے تحت بیٹھا ہے ۔۔ اس کے ناپاک عزائم پر تو فرشتوں نے بھی لعنت کی ہوگی ۔۔ وہ دشمن تھا ... منتقم مزاج تھا ... قاتل تھا ... بزدل تھا ... تبھی تو اسکو انتظارِ نماز تھا ... سامنے عمر ؓ کے آنے کی جرأت کہاں کر سکتا تھا بھلا ... ابلیس کی اولاد تھا تو ابلیس عمر ؓ کے سامنے کہاں ٹک سکتا ہے ...؟  لہٰذا اپنے زہر آلود خنجر اور دل سمیت چھپ کر موقع کی تاک میں رہا ...!! عمر ؓ آتے ہیں ... اپنے درّے سے سوتے ہوؤں کو جگاتے ہوئے .. اسی وقار اسی رعب اسی نرمی کے ساتھ جو ان کی ذات کے ساتھ ہی خاص ہے ... فجر کی امامت کے لئے مصطفیٰ ﷺ کے مصلے پر  مصطفٰی ﷺ کی امت کی امامت کے لئے ...  کھڑے ہوتے ہیں ،،،  تکبیرِ تحریمہ کہتے ہی ہیں کہ کائنات کے بدترین منتقم نے اپنے انتقام میں اندھے ہو کر اس عظیم الشان ہستی کے شکم مبارک پر پے در پے تین وار کئے جس کو اس امت کا محدث کہا گیا ۔۔ عبد الرحمن  ؓ بن عوف نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھتے ہیں ۔۔ قاتل بھاگنے کی کوشش کرتا ہے مگر نمازیوں کی صفیں اتنی ہیں کہ ان میں پھنس جاتا ہے لہذا جو جو سامنے نظر آتا ہے اسے شہید کر کے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے ۔۔ اس اثناء میں مسلمان نماز پوری کر لیتے ہیں اور قاتل کو پکڑتے ہیں قاتل سوچتا ہے کہ اب تو خیر نہیں اس سے پہلے کہ مسلمان مجھے جہنم میں پھینکیں  میں خود ہی چلا جاتا ہوں لہٰذا اس نے اسی خنجر کو اپنے جسم میں پیوست کیا جس خنجر سے مصطفیٰ ﷺ کے عمر ؓ کو زخمی کیا تھا ۔۔ قاتل تو واصلِ جہنم خود ہی ہوگیا تھا ۔۔!!! مگر ساتھ ہی سیدنا محمدﷺ کی امت کو وہ کاری زخم دے گیا جو قیامت تک نہ بھر سکے گا ۔۔ امت کے ہیرو عمر ؓ  اپنے مبارک وجود میں زخموں کی تاب نہ لا سکے تھے ۔۔ طبیبوں نے بہت کوششیں کیں مگر بے سود ۔۔ جو پیتے آنتوں سے باہر آ جاتا ۔۔ امت کے سالار مدینے میں اپنے محبوبین (محمد مصطفیٰ ﷺ اور ابو بکر صدیق ؓ) سے جلد ملاقات کی تمنا کر رہا تھا ۔۔۔ اور امت رو رہی تھی ۔۔!!! امیر المؤمنین آپ کے بعد آپ جیسا انصاف کون کرے گا ۔۔۔؟؟؟ بیواؤں کو پتہ چلا انکی سسکیاں نکل گئی تھیں ... یتیم پھر سے آج یتیم ہو گئے تھے ۔۔ دجلہ سے لے کر فرات تک .... عدل کا جہاں ویران ہوگیا تھا ۔۔!!! علی  ؓ رو رہے تھے ۔۔ صحابہ ؓ رو رہے تھے ۔۔۔ جانے والے کی مثال کہاں مل سکتی بھلا ؟؟؟؟  جو چلا گیا تھا وہ کوئی عام انسان تو نہ تھا ۔۔ وہ محمد عربی ﷺ کی دعاؤں کا حاصل تھا ۔۔  عثمان ؓ بن طلحہ تو کعبہ کے دروازے کے چابی بردار تھے مگر عمر ؓ تو کعبہ کے در کھلوانے والا تھا ۔۔۔ جانے والا وہ تھا جن کو عرشوں سے سلام آتے تھے ۔۔ جانے والا وہ تھا جن سے رشتہ داری قائم کرنے کے لیے علی ؓ نے اپنی بیٹی انہیں سونپی تھی ۔۔ جانے والا ہر امتی کے دل کی دھڑکن تھا ۔۔۔ جانے والا قرآن کا عاشق صادق تھا ۔۔ جانے والا منبرِ نبوی ﷺ کا وارث تھا ۔۔ جانے والا وہ تھا جسکے رومال سے آتش فشاں شرما کر بھاگ جاتے تھے ۔۔ جانے والے کے درّے سے زمین اپنی کپکپاہٹ روک لیتی تھی ۔۔ جانے والے کے خط سے دریا پانی کی موجیں بہانے لگتا تھا ۔۔۔ جانے والا تورات و انجیل میں مذکور تھا ۔۔ جانے والا سسرِ مصطفیٰ ﷺ تھا ۔۔!!!!! وہ ایسا تھا کہ ان جیسا پھر کبھی نہ آیا ۔۔ نہ آ سکتا ۔۔ محبوبﷺ نے دعا مانگی تھی : اللہ جو آپ کو پسند ہو وہی دینا ۔۔  عمر ؓ یا ابوجہل میں سے !!! اور رب کو تو عمر  ؓ پسند تھا ۔۔ رب کا انتخاب  مصطفیٰ ﷺ کی دعا  سیدی عمر  ؓ۔۔!!!!  آپ کی شہادت پر آج بھی مدینے کے در و دیوار روتے ہیں ۔۔۔ آپ کی شہادت سے آج بھی میرے محمد ﷺ کا اسلام روتا ہے ۔۔ جہاں کہیں دنیا میں ظلم و بربریت کا دور دور
*تخیل شہادتِ سیدنا عمر ؓ ۔۔۔!!!* یہ چھبیس ذی الحجہ ہے ۔۔!!! مدینے کے در و دیوار پر ایک عجیب سی خاموشی چھائی ہے ۔۔ کچھ بندگانِ خدا تہجد پڑھ کر کچھ دیر کے لئے آرام کرنے کی غرض سے لیٹے ہیں ۔۔ صبحِ نو تیزی سے اپنے پر پھڑپھڑاتے ہوئے مدینے کے مسلمانوں کے بوسے لیتی ہے ۔۔ مسجد نبویﷺ میں ہر سو خاموشی اور سکون کا راج ہے ۔۔ چند قدم کے فاصلے پر امت کی ماں عائشہ ؓ کے حجرے میں دو یار قیامت تک کے لئے آرام فرما ہیں ۔۔ ہوائیں اس در کے بوسے لیتی مدینے کی گلیوں میں چلنے لگتی ہیں ۔۔ بظاہر معمول کا دن ہے ۔۔ عمر ؓ کا دور ہے ناں ۔۔!!! کسی کو کوئی پرواہ ہی نہیں ہے ۔۔ سب جانتے ہیں یہاں کسی کی لغت میں ظلم نہیں ہے ۔۔ ظلمت نہیں ہے ۔۔ بھوک نہیں ہے ۔۔ لوگ مطمئن ہیں ۔۔ مائیں تہجد میں ہاتھ اٹھا کر دعائیں عمر ؓ کے نام کرتی ہیں ۔۔ غرض ہر سو اطمینان ہے ۔۔ مگر کسے خبر تھی کہ آج یہ اطمینان آخری ہوگا ۔۔ آج کے بعد ویسا سکون قیامت تک نہیں ملے گا ۔۔ ویسا عدل ویسی مساوات کو اُس وقت کے بائیس لاکھ مربع میل کے مسلمان تو کجا قیامت تک آنے والے دنیا کے ہر گوشے کے مسلمان یاد کر کے آہیں بھرا کریں گے ۔۔!!! کسے خبر تھی آج عدل کا باب بند ہونے کو آیا ہے ۔۔ کون جانتا تھا محراب کے پیچھے چھپے ہوئے ابولولؤ فیروز ملعون کو کہ وہ اس وقت یہاں کیوں اور کس قبیح مقصد کے تحت بیٹھا ہے ۔۔ اس کے ناپاک عزائم پر تو فرشتوں نے بھی لعنت کی ہوگی ۔۔ وہ دشمن تھا ... منتقم مزاج تھا ... قاتل تھا ... بزدل تھا ... تبھی تو اسکو انتظارِ نماز تھا ... سامنے عمر ؓ کے آنے کی جرأت کہاں کر سکتا تھا بھلا ... ابلیس کی اولاد تھا تو ابلیس عمر ؓ کے سامنے کہاں ٹک سکتا ہے ...؟ لہٰذا اپنے زہر آلود خنجر اور دل سمیت چھپ کر موقع کی تاک میں رہا ...!! عمر ؓ آتے ہیں ... اپنے درّے سے سوتے ہوؤں کو جگاتے ہوئے .. اسی وقار اسی رعب اسی نرمی کے ساتھ جو ان کی ذات کے ساتھ ہی خاص ہے ... فجر کی امامت کے لئے مصطفیٰ ﷺ کے مصلے پر مصطفٰی ﷺ کی امت کی امامت کے لئے ... کھڑے ہوتے ہیں ،،، تکبیرِ تحریمہ کہتے ہی ہیں کہ کائنات کے بدترین منتقم نے اپنے انتقام میں اندھے ہو کر اس عظیم الشان ہستی کے شکم مبارک پر پے در پے تین وار کئے جس کو اس امت کا محدث کہا گیا ۔۔ عبد الرحمن ؓ بن عوف نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھتے ہیں ۔۔ قاتل بھاگنے کی کوشش کرتا ہے مگر نمازیوں کی صفیں اتنی ہیں کہ ان میں پھنس جاتا ہے لہذا جو جو سامنے نظر آتا ہے اسے شہید کر کے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے ۔۔ اس اثناء میں مسلمان نماز پوری کر لیتے ہیں اور قاتل کو پکڑتے ہیں قاتل سوچتا ہے کہ اب تو خیر نہیں اس سے پہلے کہ مسلمان مجھے جہنم میں پھینکیں میں خود ہی چلا جاتا ہوں لہٰذا اس نے اسی خنجر کو اپنے جسم میں پیوست کیا جس خنجر سے مصطفیٰ ﷺ کے عمر ؓ کو زخمی کیا تھا ۔۔ قاتل تو واصلِ جہنم خود ہی ہوگیا تھا ۔۔!!! مگر ساتھ ہی سیدنا محمدﷺ کی امت کو وہ کاری زخم دے گیا جو قیامت تک نہ بھر سکے گا ۔۔ امت کے ہیرو عمر ؓ اپنے مبارک وجود میں زخموں کی تاب نہ لا سکے تھے ۔۔ طبیبوں نے بہت کوششیں کیں مگر بے سود ۔۔ جو پیتے آنتوں سے باہر آ جاتا ۔۔ امت کے سالار مدینے میں اپنے محبوبین (محمد مصطفیٰ ﷺ اور ابو بکر صدیق ؓ) سے جلد ملاقات کی تمنا کر رہا تھا ۔۔۔ اور امت رو رہی تھی ۔۔!!! امیر المؤمنین آپ کے بعد آپ جیسا انصاف کون کرے گا ۔۔۔؟؟؟ بیواؤں کو پتہ چلا انکی سسکیاں نکل گئی تھیں ... یتیم پھر سے آج یتیم ہو گئے تھے ۔۔ دجلہ سے لے کر فرات تک .... عدل کا جہاں ویران ہوگیا تھا ۔۔!!! علی ؓ رو رہے تھے ۔۔ صحابہ ؓ رو رہے تھے ۔۔۔ جانے والے کی مثال کہاں مل سکتی بھلا ؟؟؟؟ جو چلا گیا تھا وہ کوئی عام انسان تو نہ تھا ۔۔ وہ محمد عربی ﷺ کی دعاؤں کا حاصل تھا ۔۔ عثمان ؓ بن طلحہ تو کعبہ کے دروازے کے چابی بردار تھے مگر عمر ؓ تو کعبہ کے در کھلوانے والا تھا ۔۔۔ جانے والا وہ تھا جن کو عرشوں سے سلام آتے تھے ۔۔ جانے والا وہ تھا جن سے رشتہ داری قائم کرنے کے لیے علی ؓ نے اپنی بیٹی انہیں سونپی تھی ۔۔ جانے والا ہر امتی کے دل کی دھڑکن تھا ۔۔۔ جانے والا قرآن کا عاشق صادق تھا ۔۔ جانے والا منبرِ نبوی ﷺ کا وارث تھا ۔۔ جانے والا وہ تھا جسکے رومال سے آتش فشاں شرما کر بھاگ جاتے تھے ۔۔ جانے والے کے درّے سے زمین اپنی کپکپاہٹ روک لیتی تھی ۔۔ جانے والے کے خط سے دریا پانی کی موجیں بہانے لگتا تھا ۔۔۔ جانے والا تورات و انجیل میں مذکور تھا ۔۔ جانے والا سسرِ مصطفیٰ ﷺ تھا ۔۔!!!!! وہ ایسا تھا کہ ان جیسا پھر کبھی نہ آیا ۔۔ نہ آ سکتا ۔۔ محبوبﷺ نے دعا مانگی تھی : اللہ جو آپ کو پسند ہو وہی دینا ۔۔ عمر ؓ یا ابوجہل میں سے !!! اور رب کو تو عمر ؓ پسند تھا ۔۔ رب کا انتخاب مصطفیٰ ﷺ کی دعا سیدی عمر ؓ۔۔!!!! آپ کی شہادت پر آج بھی مدینے کے در و دیوار روتے ہیں ۔۔۔ آپ کی شہادت سے آج بھی میرے محمد ﷺ کا اسلام روتا ہے ۔۔ جہاں کہیں دنیا میں ظلم و بربریت کا دور دور

About