@robi_aron: بیٹیوں کے معاملے میں آج بھی یہ معاشرہ اندھا ہے، چاہے زمانہ کتنا ہی پڑھ لکھ کیوں نہ جائے، سوچ وہی پرانی رہتی ہے۔ کتابوں کے ڈھیر تو بڑھ گئے مگر ذہنوں کی تنگی کم نہ ہوئی، بیٹی آج بھی عزت کے نام پر بوجھ سمجھی جاتی ہے۔ تعلیم نے ڈگریاں تو دیں مگر شعور نہ دے سکی، گھروں میں آج بھی بیٹی کی خوشی سے زیادہ لوگوں کی باتوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ وہی زمانہ جو خود کو مہذب کہتا ہے، بیٹی کے حق میں فیصلہ کرتے وقت جاہل بن جاتا ہے۔ بیٹی اگر ہنسے تو سوال، اگر روئے تو الزام، اس کے خواب ہمیشہ کسی اور کی مرضی کے تابع رہتے ہیں۔ پڑھا لکھا زمانہ ہونے کا دعویٰ کرنے والے لوگ، آج بھی بیٹی کو سمجھنے میں ناکام ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جہالت صرف ان پڑھ ہونے کا نام نہیں، بلکہ سوچ کا تنگ ہونا ہی اصل جہالت ہے، اور افسوس بیٹیوں کے معاملے میں یہ جہالت آج بھی زندہ ہے۔ #robi_aron