@aliamingandapurpti: مبارک ہو! عمران خان کی رہائی پر بات کرنے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ صوبائی صدر جنید اکبر کی ہدایت پر جنرل سیکرٹری علی اصغر نے نوٹس جاری کر دیا۔ سابق وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کے دور میں ورکرز کو استعمال کرکے اُن پر تنقید کرنے والے آج خود اپنے اوپر ہونے والی تنقید برداشت نہیں کر پا رہے۔ جب اُن کے اقدامات پر جائز اور حق پر مبنی تنقید ہوئی تو فوراً نوٹس جاری کر دیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ نوٹس جاری کرنے والے خود ماضی میں سابق وزیرِ اعلیٰ پر کھل کر تنقید کیا کرتے تھے۔ آج اگر کوئی عمران خان کی رہائی کے لیے عملی اقدامات، یا بجٹ پاس ہونے سے پہلے عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ کرے تو اسے نوٹس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لگتا ہے دوسروں کے لیے تنقید جمہوریت ہے، لیکن اپنے لیے تنقید ناقابلِ برداشت۔ عوامی حلقوں میں شاید اسی رویے کے لیے کہا جاتا ہے: "خود ناچے تو فیشن، دوسرا ناچے تو مجرا۔"