@gehri_bateen: یہ جملہ ایک ایسے انسان کی سوچ کو ظاہر کرتا ہے جو تعلقات میں خودداری، خاموش عزتِ نفس اور جذباتی سمجھداری رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ: انسان کسی کو اپنی زندگی میں صرف اس لیے نہیں روکتا کہ وہ تنہا نہ رہ جائے۔ وہ محبت، دوستی یا تعلق کو زبردستی قائم رکھنے پر یقین نہیں رکھتا۔ جیسے ہی اسے محسوس ہوتا ہے کہ سامنے والا دل سے ساتھ نہیں ہے، یا اس جگہ پر اس کی اہمیت باقی نہیں رہی، تو وہ خاموشی سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ یہ رویہ کمزوری نہیں بلکہ خود احترام کی علامت ہے۔ کیونکہ بعض لوگ تعلق تو رکھتے ہیں، مگر دل نہیں رکھتے۔ اور حساس انسان یہ فرق جلد محسوس کر لیتا ہے۔ اس میں ایک درد بھی چھپا ہے: بار بار اپنی جگہ مانگنے سے بہتر ہے خاموشی سے ہٹ جانا۔ کیونکہ جہاں انسان کی قدر نہ ہو، وہاں موجود رہنا دل کو تھکا دیتا ہے۔ یہ الفاظ ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ: ہر تعلق زبردستی نہیں چلایا جا سکتا۔ محبت میں آزادی اور خلوص ضروری ہے۔ اپنی عزتِ نفس بچانا بھی ضروری ہوتا ہے۔ بعض اوقات خاموشی سے پیچھے ہٹ جانا، شور مچا کر رکنے کی کوشش کرنے سے زیادہ باوقار ہوتا ہے۔ #gehri_bateen