@khakzada370: *قران پاک کی ایک ایت جو اپ کے اندر کو ایک دفعہ جھنجوڑ کے رکھ دے گی اور تم کو پتہ چل جائے گا حقیقت کیا ہے غور سے اس تحریر کو پڑھو۔۔۔۔❤️🔥🥀✨* یہ آیت قرآنِ پاک کی سورۃ التوبہ (آیت 24) میں ہے: عربی: قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ ٱقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَـٰرَةٌۭ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَـٰكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَجِهَادٍۭ فِى سَبِيلِهِۦ فَتَرَبَّصُوا۟ حَتَّىٰ يَأْتِىَ ٱللَّهُ بِأَمْرِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْفَـٰسِقِينَ ترجمہ: *“(اے نبی ﷺ) فرما دیجئے! اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارے خاندان، وہ مال جو تم نے کمائے ہیں، وہ تجارت جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو، اور وہ گھر جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ سب تمہیں اللہ، اس کے رسول ﷺ اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں، تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ لے آئے۔ اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔”* (سورۃ التوبہ، 9:24) علمِ معرفت و تصوف کے لحاظ سے مختصر روحانی تشریح۔۔۔۔ یہ آیت محبتِ الٰہی اور محبتِ رسول ﷺ کا پیمانہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سالک کا دل امتحان میں ڈالا جاتا ہے کہ اس کے دل میں محبوبِ حقیقی (اللہ) اور محبوبِ مجازیِ کامل (رسول ﷺ) کے مقابلے میں کوئی اور شے زیادہ محبوب تو نہیں۔ سورۃ البقرۃ، آیت 155 وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ اردو ترجمہ: *اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے، اور مالوں، جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور (اے نبی ﷺ) صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔* معرفت کی نگاہ سے: یہ آیت ظاہر میں محبت کی دعوت ہے، مگر باطن میں یہ فنا فی اللہ کی پکار ہے یعنی انسان اپنے نفس، اپنی خواہشات، اپنے رشتوں اور دنیاوی لذتوں کو قربان کر کے صرف اللہ اور اس کے محبوب ﷺ کی محبت میں گم ہو جائے۔♥️❤️🔥 صوفیانہ نقطۂ نظر سے: مرشدِ کامل فرماتے ہیں کہ "جس کے دل میں کسی شے کی محبت، اللہ و رسول ﷺ کی محبت سے بڑھ جائے، وہ ابھی محبت کی حقیقت تک نہیں پہنچا۔" یہ آیت سالک کو یہ سمجھاتی ہے کہ عشقِ حقیقی میں سب کچھ قربان ہو جاتا ہے حتیٰ کہ خود بھی۔❤️🔥 جب بندہ اپنے دل کو تمام دنیاوی محبتوں سے خالی کرتا ہے تو اس کے لطیفے منور ہو جاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ اس کے دل میں اپنا نور اتارتا ہے۔ تب وہ سالک مقامِ حق الیقین میں داخل ہوتا ہے جہاں اسے نہ صرف ایمان ہوتا ہے بلکہ مشاہدۂ محبوب نصیب ہوتا ہے۔ سورۃ العنکبوت، آیت 2 أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ اردو ترجمہ: *کیا لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ یہ کہہ کر چھوڑ دیے جائیں گے کہ "ہم ایمان لائے" اور اُنہیں آزمایا نہیں جائے گا؟*
سبحان اللّٰہ العظیم وبحمدہ ولا حول ولاقوۃ الاباللہ
2026-06-11 22:27:35
1
Haroon Ahmad :
حق باھو ❤️سچ باھو
2026-06-11 22:47:57
1
مہنگرال زادہ :
سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ
2026-06-11 19:00:52
1
🙏اَنَاتَخلِیقِ مُرتَجِزﷻ🖤 :
bahut khooob
jeooo🤲🤲🤲🤲🤲❤️❤️❤️❤️
2026-06-11 17:04:01
1
Waseem :
❤️❤️❤️
2026-06-11 17:26:35
1
MOHSIN JOIYA :
🥰🥰🥰
2026-06-11 20:08:37
1
Ammar Arain🇵🇰🤟🇦🇪 :
💞💞💞
2026-06-11 18:28:02
1
🙏اَنَاتَخلِیقِ مُرتَجِزﷻ🖤 :
🥰🥰🥰
2026-06-11 17:03:43
1
To see more videos from user @khakzada370, please go to the Tikwm
homepage.