@general.knowledge453: ہم نے وقت سے بہت کچھ سیکھا ہے... سب سے اہم سبق یہ تھا کہ کوئی کسی کا نہیں ہوتا!! یہ جملہ لکھنے میں دو سیکنڈ لگتے ہیں، مگر اسے سمجھنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ برسوں کے دھوکے، برسوں کے ٹوٹے وعدے، برسوں کی تنہائی کے بعد انسان اس مقام پر پہنچتا ہے جہاں اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اس دنیا میں ہر رشتہ مطلب کا ہے۔ پہلے ہم سمجھتے تھے کہ ماں باپ کے بعد دنیا میں کچھ رشتے ایسے بھی ہیں جو بے لوث ہوتے ہیں۔ دوستی، محبت، بھائی چارہ۔ ہم سوچتے تھے کہ کوئی تو ہو گا جو بغیر غرض کے ہمارے ساتھ کھڑا رہے گا۔ جو ہمارے گرنے پر ہنسے گا نہیں، ہمارے رونے پر کندھا دے گا۔ مگر وقت نے ایک کر کے سب بھرم توڑ دیے۔ جس دوست کے لیے ہم نے راتیں جاگیں، وہی مصیبت میں فون بند کر گیا۔ جس سے ہم نے محبت کی حدیں پار کیں، وہی کسی اور کی محبت میں ہمیں اجنبی بنا گئی۔ جن رشتہ داروں کے لیے ہم نے اپنی خوشی قربان کی، وہی ہمارے جنازے پر بھی دیر سے پہنچے۔ وقت نے سکھایا کہ لوگ ساتھ تب تک ہیں جب تک آپ کے پاس دینے کو کچھ ہے۔ آپ کی ہنسی ہے، آپ کا پیسہ ہے، آپ کا عہدہ ہے، آپ کی ضرورت ہے۔ جس دن آپ خالی ہو جائیں گے، جس دن آپ ٹوٹ جائیں گے، جس دن آپ کے پاس صرف آپ بچیں گے، اس دن سب کے بہانے تیار ہوں گے۔ "مصروف ہوں"، "بعد میں بات کرتے ہیں"، "اب ہم بدل گئے ہیں"۔ یہ سبق کڑوا ہے، مگر آزادی دیتا ہے۔ جب آپ کو پتہ چل جائے کہ کوئی کسی کا نہیں ہوتا، تو آپ امید لگانا چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ کسی سے شکوہ نہیں کرتے، کسی سے گلہ نہیں کرتے۔ آپ خود اپنے ماں باپ بن جاتے ہیں، خود اپنا دوست بن جاتے ہیں، خود اپنا سہارا بن جاتے ہیں۔ پھر کوئی آئے تو شکر، نہ آئے تو صبر۔ ہاں، یہ بات بھی سچ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اپنا نہیں۔ وہی ہے جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ وہی ہے جو رات کے اندھیرے میں بھی سنتا ہے۔ وہی ہے جو بغیر بتائے دے دیتا ہے۔ باقی سب رشتے، سب تعلق، سب وعدے وقتی ہیں۔ آج ہیں، کل نہیں۔ اس لیے اب ہم جیتے تو خود کے لیے ہیں، روتے بھی خود کے لیے ہیں۔ کسی پر انحصار نہیں کرتے، کسی سے توقع نہیں رکھتے۔ کیونکہ ہم نے وقت سے سیکھ لیا ہے کہ دنیا میں سب سے وفادار رشتہ آپ کا اپنا ضمیر ہے۔ اسے سنبھال لو، باقی سب نے چلے جانا ہے۔#urduquotes