@poetryloversartis: یہ جملہ ایک تلخ مگر ناقابلِ انکار حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ علم، ادب اور شعور کی علامت سمجھی جانے والی کتاب بھی اُس وقت محض ایک چیز بن جاتی ہے جب بھوک دروازے پر دستک دے رہی ہو۔ انسان اپنے خواب، اپنی یادیں اور اپنی پسندیدہ کتابیں تک بیچ دیتا ہے تاکہ اپنے بچوں کے لیے چند وقت کی روٹی کا انتظام کر سکے۔ معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ جہاں ایک طرف کتابوں سے قوموں کی تقدیر بدلنے کی بات کی جاتی ہے، وہیں دوسری طرف بہت سے لوگ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے انہی کتابوں کو فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بھوک اکثر انسان کو اُس مقام پر لے آتی ہے جہاں جذبات، شوق اور علم بھی پیٹ کی آگ کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ یہ تصویر صرف ایک کتاب فروش کی نہیں، بلکہ اُن لاکھوں لوگوں کی داستان ہے جو زندگی کی سختیوں کے ہاتھوں اپنے قیمتی اثاثے بیچنے پر مجبور ہیں۔ یاد رکھیں، بھوک فلسفے نہیں سمجھتی، وہ صرف روٹی مانگتی ہے۔ اور جب حالات سنگین ہو جائیں تو انسان کتابوں سے علم نہیں، بلکہ کتابیں بیچ کر رزق تلاش کرتا ہے۔ یہی ہماری سماجی حقیقت کا سب سے کڑوا پہلو ہے۔ #motivation #inspiration #selfgrowth #mindset #positivity