Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@i9y_7: تبارك الرحمن 🤎. #ياسر_الدوسري #اكتب_شي_توجر_عليه #قران #quran
مُـــؤيـــد | 20k ⏳
Open In TikTok:
Region: SA
Thursday 11 June 2026 21:07:16 GMT
787
161
6
22
Music
Download
No Watermark .mp4 (
1.52MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
1.52MB
)
Watermark .mp4 (
3.18MB
)
Music .mp3
Comments
الدال على الخير🇸🇦 :
كلكم قولو معي سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم 👍
2026-06-11 21:10:58
4
717pgk :
سبحان الله وبحمده سبحان الله العضيم
2026-06-12 01:29:21
3
الدال على الخير🇸🇦 :
جزاك الله خير
2026-06-11 21:10:20
4
AL❣️ :
🥰🥰🥰
2026-06-12 16:05:38
1
A’🥇’Z :
🤍🤍🤍
2026-06-12 09:48:28
3
Lana Alshehri🌷 :
سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر 💗💗
2026-06-12 11:31:04
3
To see more videos from user @i9y_7, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
🥰♥️ #styleinspo #grwm #outfitinspiration
یہ ایک مکمل نفسیاتی جنگ تھی، جس کا مقصد میدانِ جنگ میں فتح نہیں بلکہ ذہنوں کی شکست تھا۔ این جی اوز، انسانی حقوق کے نام پر چلنے والی تنظیمیں، اور بیرونی فنڈنگ سے چلنے والے میڈیا پلیٹ فارمز اس جنگ کا حصہ بنے۔ مقصد واضح تھا: پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا تاکہ بیرونی دباؤ مؤثر ہو سکے۔ مگر ایک بار پھر دشمن کو وہ نتائج نہ مل سکے جن کی امید کی جا رہی تھی۔ پاکستان نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور سرحدی آمدورفت کو مکمل طور پر سیل کر کے ایک ایسا قدم اٹھایا جس نے پورے کھیل کا رخ موڑ دیا۔ یہ فیصلہ محض سیکیورٹی نہیں بلکہ اسٹریٹجک معیشت کا بھی تھا۔ افغانستان پر دباؤ بڑھا، دہشت گردوں کی نقل و حرکت محدود ہوئی، اور پیغام واضح ہو گیا کہ پاکستان اب یکطرفہ رعایتیں دینے کو تیار نہیں۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں عالمی اسکرپٹ ایک بار پھر دراڑوں کا شکار ہوا۔ اور یہ دراڑیں آگے چل کر ایک بہت بڑے انکشاف اور بڑی صف بندی کا پیش خیمہ بنیں—جس کا تعلق صرف افغانستان یا بھارت سے نہیں بلکہ پورے خطے، خصوصاً ایران سے جا ملتا ہے۔ جب افغانستان کے محاذ پر طے شدہ نتائج حاصل نہ ہو سکے اور بھارت کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی ناکام ہو گئی، تو عالمی اسٹیبلشمنٹ کی نظریں فطری طور پر ایک اور اہم مہرے پر جا ٹھہریں—ایران۔ ایران محض ایک ہمسایہ ملک نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کا ایک کلیدی ستون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کو کمزور کیے بغیر نہ تو مشرقِ وسطیٰ میں مکمل بالادستی ممکن ہے اور نہ ہی پاکستان کو گھیرنے کا منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہمیشہ سیدھے سادے نہیں رہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں ایسے شواہد ملتے ہیں کہ ایرانی سرزمین کو پاکستان کے خلاف بالواسطہ یا بلاواسطہ استعمال ہونے دیا گیا۔ بعض علیحدگی پسند عناصر کو پناہ، بعض کو خاموش سہولت، اور بعض کو نظر انداز کیا گیا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی یہ ادراک ہو گیا کہ پاکستان سے محاذ آرائی دراصل اپنے ہی مفادات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک عملی حقیقت پسندی نے جنم لیا۔ پاکستان نے اس مرحلے پر جذباتی ردِعمل کے بجائے اسٹریٹجک صبر کا مظاہرہ کیا۔ سفارتی چینلز کو فعال رکھا گیا، عسکری سطح پر واضح پیغامات دیے گئے، اور سب سے بڑھ کر یہ باور کرایا گیا کہ پاکستان اپنی سرزمین یا اپنے پڑوس کو کسی بھی صورت دشمن کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایران کی موجودہ قیادت نے، کم از کم عملی سطح پر، اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ کسی اخلاقی تبدیلی کا نتیجہ نہیں بلکہ خالص قومی مفاد کا تقاضا تھا۔ مگر یہی حقیقت عالمی طاقتوں کو سب سے زیادہ ناگوار گزری۔ ایران اگر پاکستان کے ساتھ ایک توازن میں آ جاتا ہے تو پورے خطے میں طاقت کا وہ خلا پیدا نہیں ہوتا جس کا فائدہ اسرائیل اور اس کے اتحادی اٹھانا چاہتے ہیں۔ اسی لیے ایران کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئیں۔ معاشی پابندیاں، کرنسی کا بحران، عوامی مشکلات، اور پھر ان مسائل کو سڑکوں پر احتجاج میں تبدیل کرنا—یہ سب ایک آزمودہ ماڈل ہے، جو اس سے پہلے شام، لیبیا اور یوکرین جیسے ممالک میں دیکھا جا چکا ہے۔ ایران میں ہونے والے حالیہ فسادات کو اگر محض عوامی غصے کا اظہار سمجھا جائے تو یہ ایک سطحی تجزیہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان مظاہروں کے پیچھے ایک واضح رجیم چینج ایجنڈا کارفرما ہے۔ وہی پرانا اسکرپٹ، وہی پرانے کردار، اور وہی پرانی فنڈنگ لائنز۔ مقصد صرف حکومت پر دباؤ ڈالنا نہیں بلکہ موجودہ ایرانی نظام کو مکمل طور پر بدل دینا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد ایک ایسی قیادت لانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو اسرائیل اور مغربی مفادات کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہو—جیسے رضا شاہ پہلوی۔ امریکہ اور اسرائیل اس مقصد کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایران کا ایٹمی پروگرام، اس کی علاقائی خودمختاری، اور اس کا مزاحمتی بیانیہ ناقابلِ قبول ہے۔ لیکن اس ساری تصویر میں ایک پہلو ایسا ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے: اگر ایران گرتا ہے تو اگلا دباؤ براہِ راست پاکستان پر آئے گا۔ پاکستان اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد ایران کے معاملے کو محض ایک ہمسایہ ملک کا داخلی مسئلہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک بڑے علاقائی شطرنج کا حصہ سمجھتا ہے۔ بھارت مشرق سے، افغانستان مغرب سے، اور اگر ایران کمزور ہوا تو جنوب مغرب سے—یہ ایک مکمل گھیراؤ ہوگا۔ اور اس گھیراؤ کا اصل ہدف پاکستان کی ایٹمی صلاحیت ہے۔ جاری ہے... #foryo #fyppp #fypシ #foru #trending
only real one will get it 😳😳😳😳😳#fleethefacility #fyp
VIBRAAAA! ☠️⚡️🚀 #pfem #sonho #policia #sereipolicial #motivacion
#afghanistanسمنگان #زنده_باد_افغانستان_متحد_با_تمام_اقوام
Mixte 1963❤ #mixte1963 #jeanpierre #mixte1963edit #pyf #paratiiiiii #videoviral #france #lanadelrey #vintage #foryou #institutovoltaire #jazz #party #60s #annicksabianiedit #josephdescamps
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy