Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@tuvanluatlaodong: Cuộc hôn nhân tan vỡ vì vợ ham tiền, chê chồng nghèo #tuvanluat #luathonnhan #honnhan #lyhon
Thông tin luật BHXH - Lao Động
Open In TikTok:
Region: VN
Friday 12 June 2026 02:30:55 GMT
10631
128
1
8
Music
Download
No Watermark .mp4 (
1.06MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
1MB
)
Watermark .mp4 (
0MB
)
Music .mp3
Comments
Diễm :
🥰🥰🥰
2026-06-15 00:40:35
0
To see more videos from user @tuvanluatlaodong, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
طبع الوكت غدار ..😕💔| #عبارات_حزينه💔 . . . . #تصميم_فيديوهات🎶🎤 #مشاهدات #fyp #creatorsearchinsights
#الشعب_الصيني_ماله_حل😂😂 #الشمالية_محس_ودناقله_شوايقة_حلفا #تريند_التيك_توك #
#djremix #djmusic #bekai_
شناخت کا نوحہ" کشمیر... نام ہی کافی تھا پہچان کے لیے۔ شال، وادی، شاردہ، ہری پربت، جہلم کی لہریں - یہ ہماری شناخت تھی۔ پھر نقشے آئے۔ لکیریں کھنچیں۔ 1947 میں ریاست ٹوٹی تو پہلے زمین بٹی، پھر دل بٹے۔ آج ہمارا پاسپورٹ پوچھتا ہے: "انڈین ہو یا پاکستانی؟" کوئی نہیں پوچھتا: "کشمیری ہو؟" شناخت کیسے چھینی گئی: 1. نام سے: ہم "آزاد کشمیری"، "مقبوضہ کشمیری"، "گلگتی" بن گئے۔ "کشمیری" رہا ہی نہیں۔ 2. زبان سے: کشمیری زبان، شینا، بلتی، پہاڑی - سب کو اردو، ہندی، انگریزی کے نیچے دبا دیا گیا۔ 3. تاریخ سے: ہمیں پڑھایا گیا کہ ہماری تاریخ 1947 سے شروع ہوتی ہے۔ کلہن کی راجترنگی، شاہِ ہمدانؒ، یوسف شاہ چک - یہ سب "دوسروں" کی تاریخ بن گئی۔ 4. فیصلوں سے: ہماری زمین کا فیصلہ دہلی میں ہوا، اسلام آباد میں ہوا، بیجنگ میں ہوا۔ سرینگر میں نہیں۔ لیکن سچ یہ ہے: نقشے جلا دو، سرحدیں مٹا دو - کشمیری پھر بھی کشمیری رہے گا۔ کیونکہ شناخت پاسپورٹ سے نہیں بنتی۔ شناخت اس لہجے سے بنتی ہے جس میں ماں "بے بے" کہتی ہے۔ شناخت اس شال سے بنتی ہے جس میں دادا کا پسینہ رچا ہے۔ شناخت اس وادی سے بنتی ہے جس کی مٹی میں ہمارے آباؤ اجداد سوئے ہیں۔ اقبال نے کہا تھا: "خاکِ وطن کی مٹی، مٹی نہیں اکسیر ہے" تو ہم وہ اکسیر ہیں۔ ٹوٹ سکتے ہیں، مٹ نہیں سکتے۔ آج دنیا ہمیں "مسئلہ کشمیر" کہتی ہے۔ ہم "آزاد کشمیر" ہیں۔ ہماری اپنی زبان ہے، اپنی تہذیب ہے، اپنا درد ہے۔ ہم کوئی لکیر نہیں ہیں جو دو ملکوں کے بیچ کھینچ دی جائے۔ آخر میں بس یہ: شناخت چھین لینے سے شناخت ختم نہیں ہوتی۔ آگ میں جل کر سونا کندن بنتا ہے۔ ہم وہی کندن ہیں۔ اللہ کرے وہ دن آئے جب کشمیری کا مطلب صرف "کشمیری" ہو۔ نہ "پاکستانی کشمیری"، نہ "بھارتی کشمیری"۔ بس کشمیری۔ نقشے کا عنوان اور بنیادی معلومات عنوان: ”1947 سے پہلے کی ریاست جموں و کشمیر (نقشہ)“ کل رقبہ (نقشے کے نیچے): کل رقبہ: 2,22,236 مربع کلومیٹر۔ دارالحکومت کی تفصیل: دارالحکومت: سرینگر (گرمیوں میں)، جموں (سردیوں میں)۔ اطراف (سمتیں): نقشے کے چاروں کونوں پر شمال (اوپر)، جنوب (نیچے)، مشرق (دائیں) اور مغرق (بائیں) لکھا ہوا ہے۔ 3۔ نقشے کے اندر لکھے گئے تمام علاقوں کے نام (رنگوں کے لحاظ سے) 🟢 سبز حصہ (پاکستان کے پاس): گلگت ایجنسی گلگت نگر ہنزہ پنزلہ تند بلتستان سکردو گانچھے کھرمنگ مظفر آباد نیلم ہٹیاں بالا باغ حویلی پونچھ سدھنوتی کوٹلی میرپور بھمبر 🔵 نیلا حصہ (بھارت کے پاس): وادیِ کشمیر (بھارت کے پاس) سرینگر بارہ مولہ اننت ناگ جموں اور ادھم پور (بھارت کے پاس) کتھوعہ لداخ + کارگل (بھارت کے پاس) لیہ کارگل زانسکار 🔴 سرخ حصہ (چین کے پاس): شکسگام ویلی چائنا کے پاس (شکسگام کے ساتھ لکھا ہے) اکسائی چن (اس کے نیچے بریکٹ میں لکھا ہے: 'کوئی بڑا شہر نہیں') 4۔ نقشے کے نیچے موجود انڈیکس (اشاریہ) نیچے بائیں کونے میں تین رنگوں کے دائرے بنا کر وضاحت کی گئی ہے: 🟢 پاکستان 🔵 بھارت 🔴 چین #Foryoupage #آزاد_کشمیر #کشمیر_کی_آواز #مظلوم_کشمیر #مظلوم_کشمیر
you definitely can ring my bell 😉#dagestan #ringmybell
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy