@ca.write: کچھ زخم لفظوں سے نہیں، رویّوں سے لگتے ہیں۔ سب سے زیادہ تکلیف تب ہوتی ہے جب ہمارا پسندیدہ شخص بار بار وہی بات، وہی انداز، یا وہی عمل دہراتا ہے جس کے بارے میں اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہمارے دل کو دکھاتا ہے۔ انسان دوسروں کی بے رخی تو برداشت کر لیتا ہے، مگر اپنے کسی عزیز کی جانب سے ملنے والی تکلیف روح تک اتر جاتی ہے۔ کبھی کبھی خاموشی اس لیے نہیں ہوتی کہ ہمارے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہوتا، بلکہ اس لیے ہوتی ہے کہ ہم بار بار اپنے دل کے ٹوٹنے کی آواز سن چکے ہوتے ہیں۔ عجیب بات ہے، جس شخص کی ایک مسکراہٹ سکون دیتی تھی، اسی کی بعض عادتیں آنکھوں میں نمی اور دل میں اداسی چھوڑ جاتی ہیں۔ اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب انسان شکایت کرنا چھوڑ دیتا ہے، کیونکہ اسے احساس ہو جاتا ہے کہ جو درد سمجھنے والا ہو، اسے بار بار سمجھانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بعض رشتے محبت کی کمی سے نہیں، احساس کی کمی سے تھک جاتے ہیں۔#growmyaccount