@ddianary: Hotel 1,6jt VS 300k di Sapa. Dapet view gunung, rekomendasi banget! Buat yang lagi cari rekomendasi hotel Sapa, ini dia review jujur dari aku: 📍Catcat Hills Resort & Spa Sapa 📍 Sapa Valley View Hotel Wajib banget masukin ke itinerary! Bisa disesuaikan sama budget dan kebutuhan kalian. Jangan lupa save video ini buat referensi jalan-jalan kalian nanti, ya! #hotelsapa #sapavietnam #rekomendasihotel #catcathillresortsapa #sapavaleyviewhotel

SiniFollowDulu
SiniFollowDulu
Open In TikTok:
Region: ID
Friday 12 June 2026 04:48:46 GMT
34064
1206
28
386

Music

Download

Comments

tuttuttu
oudi :
January kemarin aku ke sapa zonk berkabut 2 hari, kayaknya tahun depan harus kesana lagi
2026-06-18 10:04:34
4
pemberitahuantlktok
idntcrbtu :
kalau mau dekat sun plaza boleh chek in sapa centre hotel , kalau nyari best view bole try viettraking sapa hotel
2026-06-14 15:28:16
6
bella.besyeba
Bellabesyebaa🦋 :
2023 catcat hills sapa .. view from pool .. tapi sarapannya zonk😅😅 4hari3m stay disitu hahaha
2026-07-25 06:44:02
0
donnawanders
Donna | Solo Travel :
what room number? ☺️
2026-07-08 16:00:49
0
qaysluck11
Qaysluck :
makanan halal nya senang dapet tak kak?
2026-06-16 10:31:41
1
elisha_cookies
elisha cookies :
sapa valey jauh ga ka? dr sunworld
2026-06-13 01:34:05
1
jmflyn
☆ :
hai kak, mau tanya kalo book hotel di sapa lewat app apa ya?
2026-07-12 10:39:39
0
user296740217
Valentine :
pas check out dr Sapa Valley View aku dikasih air sama buah jg
2026-07-04 09:41:00
0
To see more videos from user @ddianary, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

1991 میں متحدہ عرب امارات کے شہر العین میں چار سالہ عمر ویبیر کو اسکول سے گھر لایا جا رہا تھا کہ ان کی گاڑی ایک اسکول بس سے ٹکرا گئی۔ عمر کی والدہ منیرہ عبداللہ نے حادثہ آتا دیکھ کر فوراً بیٹے کو سینے سے لپٹا لیا۔ عمر صرف معمولی چوٹ کے ساتھ محفوظ رہا، مگر اسے بچانے والی ماں کے دماغ پر ایسی شدید چوٹ آئی کہ وہ انتہائی محدود شعوری حالت میں چلی گئیں۔ منیرہ بول سکتی تھیں، نہ اپنی ضرورت بتا سکتی تھیں۔ انہیں خوراک ٹیوب کے ذریعے دی جاتی اور پٹھوں کو ناکارہ ہونے سے بچانے کے لیے فزیوتھراپی کروائی جاتی۔ ڈاکٹر عمر کو بار بار بتاتے رہے کہ شاید ان کی والدہ کبھی دوبارہ بات نہ کرسکیں، لیکن جس ماں نے حادثے کے وقت اپنے جسم کو بیٹے کی ڈھال بنایا تھا، عمر نے اسے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے سے انکار کردیا۔ وہ چار سالہ بچے سے ایک بالغ شخص بن گیا، مگر ماں سے ملنا اس کے روزمرہ معمول کا حصہ رہا۔ وہ کئی کلومیٹر پیدل چل کر ہسپتال پہنچتا، گھنٹوں ان کے پاس بیٹھتا اور ان کے خاموش چہرے کے معمولی تاثرات سے سمجھنے کی کوشش کرتا کہ انہیں کہاں درد یا تکلیف ہے۔ اس مسلسل ذمہ داری کے باعث عمر کے لیے باقاعدہ ملازمت کرنا بھی مشکل ہوگیا، مگر اسے کبھی اپنی خدمت پر پچھتاوا نہیں ہوا۔ منیرہ کو علاج اور انشورنس کی پابندیوں کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا جاتا رہا۔ بالآخر 2017 میں ابوظبی کے ولی عہد کی عدالت نے ان کا معاملہ سن کر جرمنی کے خصوصی بحالی مرکز میں جامع علاج کے اخراجات فراہم کیے۔ وہاں ان کے کمزور پٹھوں کی سرجری ہوئی، مرگی کو قابو کرنے کی کوشش کی گئی اور مسلسل جسمانی و ذہنی بحالی کا عمل شروع ہوا۔ جون 2018 میں جرمنی میں علاج کے آخری دنوں کے دوران عمر کی ہسپتال کے کمرے میں کسی سے تکرار ہوگئی۔ منیرہ نے بظاہر محسوس کیا کہ ان کا بیٹا خطرے میں ہے اور اچانک غیرمعمولی آوازیں نکالنے لگیں۔ تین دن بعد عمر سو رہا تھا کہ کسی نے اسے نام لے کر پکارا۔ آنکھ کھلی تو سامنے وہی ماں تھی جس کی آواز سننے کے لیے وہ 27 سال سے منتظر تھا۔ منیرہ کی زبان سے نکلنے والا پہلا واضح لفظ “عمر” تھا۔ بعد میں منیرہ نے اپنے بہن بھائیوں کے نام بھی لیے، اپنی تکلیف بتانے لگیں اور قرآن کی آیات پڑھنے میں عمر کا ساتھ دینے لگیں۔ عمر کا کہنا تھا کہ دنیا نے انہیں ایک ناامید مریض سمجھ لیا تھا، مگر اس نے کبھی اپنی ماں کو زندگی سے خارج نہیں کیا۔ 27 سال پہلے ماں نے ایک لمحے میں بیٹے کو بچایا تھا؛ پھر اسی بیٹے نے اپنی پوری جوانی ماں کی واپسی کی امید میں گزار دی—اور جب اس خاموشی نے آخرکار لفظ کا روپ لیا تو وہ لفظ بھی اسی وفادار بیٹے کا نام تھا۔
1991 میں متحدہ عرب امارات کے شہر العین میں چار سالہ عمر ویبیر کو اسکول سے گھر لایا جا رہا تھا کہ ان کی گاڑی ایک اسکول بس سے ٹکرا گئی۔ عمر کی والدہ منیرہ عبداللہ نے حادثہ آتا دیکھ کر فوراً بیٹے کو سینے سے لپٹا لیا۔ عمر صرف معمولی چوٹ کے ساتھ محفوظ رہا، مگر اسے بچانے والی ماں کے دماغ پر ایسی شدید چوٹ آئی کہ وہ انتہائی محدود شعوری حالت میں چلی گئیں۔ منیرہ بول سکتی تھیں، نہ اپنی ضرورت بتا سکتی تھیں۔ انہیں خوراک ٹیوب کے ذریعے دی جاتی اور پٹھوں کو ناکارہ ہونے سے بچانے کے لیے فزیوتھراپی کروائی جاتی۔ ڈاکٹر عمر کو بار بار بتاتے رہے کہ شاید ان کی والدہ کبھی دوبارہ بات نہ کرسکیں، لیکن جس ماں نے حادثے کے وقت اپنے جسم کو بیٹے کی ڈھال بنایا تھا، عمر نے اسے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے سے انکار کردیا۔ وہ چار سالہ بچے سے ایک بالغ شخص بن گیا، مگر ماں سے ملنا اس کے روزمرہ معمول کا حصہ رہا۔ وہ کئی کلومیٹر پیدل چل کر ہسپتال پہنچتا، گھنٹوں ان کے پاس بیٹھتا اور ان کے خاموش چہرے کے معمولی تاثرات سے سمجھنے کی کوشش کرتا کہ انہیں کہاں درد یا تکلیف ہے۔ اس مسلسل ذمہ داری کے باعث عمر کے لیے باقاعدہ ملازمت کرنا بھی مشکل ہوگیا، مگر اسے کبھی اپنی خدمت پر پچھتاوا نہیں ہوا۔ منیرہ کو علاج اور انشورنس کی پابندیوں کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا جاتا رہا۔ بالآخر 2017 میں ابوظبی کے ولی عہد کی عدالت نے ان کا معاملہ سن کر جرمنی کے خصوصی بحالی مرکز میں جامع علاج کے اخراجات فراہم کیے۔ وہاں ان کے کمزور پٹھوں کی سرجری ہوئی، مرگی کو قابو کرنے کی کوشش کی گئی اور مسلسل جسمانی و ذہنی بحالی کا عمل شروع ہوا۔ جون 2018 میں جرمنی میں علاج کے آخری دنوں کے دوران عمر کی ہسپتال کے کمرے میں کسی سے تکرار ہوگئی۔ منیرہ نے بظاہر محسوس کیا کہ ان کا بیٹا خطرے میں ہے اور اچانک غیرمعمولی آوازیں نکالنے لگیں۔ تین دن بعد عمر سو رہا تھا کہ کسی نے اسے نام لے کر پکارا۔ آنکھ کھلی تو سامنے وہی ماں تھی جس کی آواز سننے کے لیے وہ 27 سال سے منتظر تھا۔ منیرہ کی زبان سے نکلنے والا پہلا واضح لفظ “عمر” تھا۔ بعد میں منیرہ نے اپنے بہن بھائیوں کے نام بھی لیے، اپنی تکلیف بتانے لگیں اور قرآن کی آیات پڑھنے میں عمر کا ساتھ دینے لگیں۔ عمر کا کہنا تھا کہ دنیا نے انہیں ایک ناامید مریض سمجھ لیا تھا، مگر اس نے کبھی اپنی ماں کو زندگی سے خارج نہیں کیا۔ 27 سال پہلے ماں نے ایک لمحے میں بیٹے کو بچایا تھا؛ پھر اسی بیٹے نے اپنی پوری جوانی ماں کی واپسی کی امید میں گزار دی—اور جب اس خاموشی نے آخرکار لفظ کا روپ لیا تو وہ لفظ بھی اسی وفادار بیٹے کا نام تھا۔

About