@sumaiya__islam_6: Deb da 🥰😍 #foryou #foryoupage #fyyyyyyyyyyyyyyyyyyy

𝑺𝒖𝒎𝒂𝒊𝒚𝒂♡ִֶָ  ࣪ ִֶָ🦋་༘࿐
𝑺𝒖𝒎𝒂𝒊𝒚𝒂♡ִֶָ ࣪ ִֶָ🦋་༘࿐
Open In TikTok:
Region: BD
Friday 12 June 2026 05:20:37 GMT
18536
1333
44
62

Music

Download

Comments

afrin.maya.69
রহস্যময়ী🦢 :
আমার ফাস্ট ক্রাশ ☺️। কিন্তু এখন সেও বুড়ো হয়ে গেল আমরাও বড় হয়ে গেলাম😞
2026-06-21 18:39:02
4
mst.arisa62
Mst Arisa :
same
2026-06-23 05:47:06
2
abuhanif4419
❤️❤️CUTE BABY❤️❤️ :
My first crush
2026-06-23 11:23:10
1
saymonsakin
🥰সাওদা ও সাকিন এর আম্মু 🥰 :
Amer o
2026-06-22 10:23:38
3
misnilaakter476
Mis Nila akter :
বইয়ের প্রত্যেকটা পাতায় পাতায় দেবের ছবিগুলো রাখা ছিল আজও মনে পড়ে সেই দিনগুলো🥰🥰
2026-06-22 14:33:22
3
md.mostakin753
MOSTAKIN !!🎀❤️‍🩹 :
যৌবনের প্রথম ভালোবাসা
2026-06-20 18:38:50
3
bondita727
anirud bondita :
আমার পছন্দের নায়ক
2026-06-23 05:24:30
2
sonali.2222
sonali :
amaro🥰🥰🥰🥰
2026-06-23 04:43:08
2
usear1122583
,,sad Queen,, :
পাশে থাকবেন এবং
2026-06-20 14:07:26
1
pagli7156
Your-pagli-🫶👀 :
same to me🥰
2026-06-14 04:22:37
1
mistybiswas767
Mr.& Mrs❤️ :
sm to me🥰🥰
2026-06-21 16:27:38
0
r9873753
*R* :
same
2026-06-21 16:25:11
0
user4628799828628
🖤না পাওয়া ভালোবাসা 🖤 :
My Favorite Hero🥰🥰🥰🥰🥰
2026-06-21 09:06:25
0
user416122218130
SN Toma :
amr fst lover
2026-06-23 02:51:00
1
afeboby5
🦋💝তোমার অপেক্ষায় 🥀✈️🦋 :
my fvt ❤️❤️
2026-06-21 05:28:00
0
md.said.prodhan.s
MD Said prodhan Said Prodhan :
হুন আমারো
2026-06-21 18:49:43
0
user077656817
Ruma Sultana🥰🥰 :
আমার কাশ🥰🥰🥰🥰
2026-06-12 05:25:55
0
miskolpana
miskolpana :
সেম
2026-06-18 03:47:22
1
kanizfatema345677
Kaniz Fatema :
"সেম"
2026-06-19 12:18:56
0
suhana.siddique
Sheikh Suhana Siddique :
Same to me 🥰🥰
2026-06-20 11:42:48
0
user338503593
Nusrat Jahan :
সেম🥰🥰
2026-06-21 05:14:34
0
attuted.queen0
🌺🌺🌺Attitude Queen 🪷🪷 :
সেম,, জাস্ট ওয়াও
2026-06-20 04:19:32
2
yaur.riyad10
꧁✿🌸🆁🅸🆈🅰🅳🌸✿꧂ :
hmm
2026-06-21 16:05:42
0
user5725116600939
bristy-Dev :
Sam to you 🥰🥰🥰🥰
2026-06-12 11:01:23
0
To see more videos from user @sumaiya__islam_6, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اپنی مشہور کتاب Exit, Voice and Loyalty میں Albert O. Hirschman نے ایک گہرا مشاہدہ پیش کیا تھا: جب ادارے زوال کا شکار ہوتے ہیں تو بہترین لوگ سب سے پہلے خرابی کو محسوس کرتے ہیں، اور اکثر وہی سب سے پہلے وہاں سے نکل جاتے ہیں۔ (Wikipedia⁠) یہ محض ایک معاشی نظریہ نہیں، بلکہ ریاستوں کے عروج و زوال کو سمجھنے کی ایک کلید ہے۔ جب کسی ملک میں اہل افراد، سرمایہ کار، سائنسدان، ڈاکٹر، اساتذہ اور نوجوان مسلسل باہر جانے لگیں تو عام طور پر حکمران اس کو کامیابی بنا کر پیش کرتے ہیں۔ وہ ترسیلاتِ زر کے اعداد و شمار دکھاتے ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر گنواتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ملک آگے بڑھ رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر سب کچھ درست چل رہا ہو تو پھر سب سے زیادہ قابل لوگ جانے پر کیوں آمادہ ہیں؟ ہر ہجرت کرنے والا شخص اپنے ساتھ صرف ایک سوٹ کیس نہیں لے جاتا۔ وہ اپنے ساتھ علم، تجربہ، خواب، توانائی، کاروباری صلاحیت اور آنے والی نسلوں کے امکانات بھی لے جاتا ہے۔ اس نقصان کا حساب کسی بجٹ، کسی جی ڈی پی رپورٹ اور کسی مرکزی بینک کے اعداد و شمار میں نظر نہیں آتا۔ ریاستوں کی اصل آزمائش اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے شہریوں کے جانے کی عادی ہو جاتی ہیں۔ پہلے ہجرت ایک عارضی رجحان ہوتی ہے، پھر معاشی حکمتِ عملی بن جاتی ہے، اور آخرکار قومی نفسیات کا حصہ بن جاتی ہے۔ بچے بڑے ہوتے ہیں تو ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ کیا بننا چاہتے ہیں؛ پھر ایک دن سوال بدل جاتا ہے: “تم کس ملک جانا چاہتے ہو؟” یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب بحران معیشت سے نکل کر تہذیب کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ اور تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ بے رحم ہوتا ہے۔ جو ریاستیں اپنے بہترین لوگوں کو برقرار رکھنے میں ناکام رہتی ہیں، وہ کچھ عرصہ پیسوں سے اپنی کمزوری چھپا سکتی ہیں، لیکن وہ علم، قیادت اور تخلیقی قوت کی کمی کو زیادہ دیر نہیں چھپا سکتیں۔ آخرکار ایک ایسا وقت آتا ہے جب عمارتیں موجود ہوتی ہیں مگر معمار نہیں، ادارے موجود ہوتے ہیں مگر اہل لوگ نہیں، اور سرحدیں موجود ہوتی ہیں مگر مستقبل غائب ہوتا ہے۔ کسی ریاست کے زوال کی سب سے خطرناک علامت غربت نہیں ہوتی؛ وہ دن ہوتا ہے جب اس کے نوجوان اپنے وطن کو اپنا مستقبل سمجھنا چھوڑ دیں۔ ##farrukhdall ##Lawyer##SecondPassport##portugal##IstanbulRealEstate
اپنی مشہور کتاب Exit, Voice and Loyalty میں Albert O. Hirschman نے ایک گہرا مشاہدہ پیش کیا تھا: جب ادارے زوال کا شکار ہوتے ہیں تو بہترین لوگ سب سے پہلے خرابی کو محسوس کرتے ہیں، اور اکثر وہی سب سے پہلے وہاں سے نکل جاتے ہیں۔ (Wikipedia⁠) یہ محض ایک معاشی نظریہ نہیں، بلکہ ریاستوں کے عروج و زوال کو سمجھنے کی ایک کلید ہے۔ جب کسی ملک میں اہل افراد، سرمایہ کار، سائنسدان، ڈاکٹر، اساتذہ اور نوجوان مسلسل باہر جانے لگیں تو عام طور پر حکمران اس کو کامیابی بنا کر پیش کرتے ہیں۔ وہ ترسیلاتِ زر کے اعداد و شمار دکھاتے ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر گنواتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ملک آگے بڑھ رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر سب کچھ درست چل رہا ہو تو پھر سب سے زیادہ قابل لوگ جانے پر کیوں آمادہ ہیں؟ ہر ہجرت کرنے والا شخص اپنے ساتھ صرف ایک سوٹ کیس نہیں لے جاتا۔ وہ اپنے ساتھ علم، تجربہ، خواب، توانائی، کاروباری صلاحیت اور آنے والی نسلوں کے امکانات بھی لے جاتا ہے۔ اس نقصان کا حساب کسی بجٹ، کسی جی ڈی پی رپورٹ اور کسی مرکزی بینک کے اعداد و شمار میں نظر نہیں آتا۔ ریاستوں کی اصل آزمائش اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے شہریوں کے جانے کی عادی ہو جاتی ہیں۔ پہلے ہجرت ایک عارضی رجحان ہوتی ہے، پھر معاشی حکمتِ عملی بن جاتی ہے، اور آخرکار قومی نفسیات کا حصہ بن جاتی ہے۔ بچے بڑے ہوتے ہیں تو ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ کیا بننا چاہتے ہیں؛ پھر ایک دن سوال بدل جاتا ہے: “تم کس ملک جانا چاہتے ہو؟” یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب بحران معیشت سے نکل کر تہذیب کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ اور تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ بے رحم ہوتا ہے۔ جو ریاستیں اپنے بہترین لوگوں کو برقرار رکھنے میں ناکام رہتی ہیں، وہ کچھ عرصہ پیسوں سے اپنی کمزوری چھپا سکتی ہیں، لیکن وہ علم، قیادت اور تخلیقی قوت کی کمی کو زیادہ دیر نہیں چھپا سکتیں۔ آخرکار ایک ایسا وقت آتا ہے جب عمارتیں موجود ہوتی ہیں مگر معمار نہیں، ادارے موجود ہوتے ہیں مگر اہل لوگ نہیں، اور سرحدیں موجود ہوتی ہیں مگر مستقبل غائب ہوتا ہے۔ کسی ریاست کے زوال کی سب سے خطرناک علامت غربت نہیں ہوتی؛ وہ دن ہوتا ہے جب اس کے نوجوان اپنے وطن کو اپنا مستقبل سمجھنا چھوڑ دیں۔ ##farrukhdall ##Lawyer##SecondPassport##portugal##IstanbulRealEstate

About