@hassanvideo12: #foryoupage @Hassan video

HassanvideoOfficial
HassanvideoOfficial
Open In TikTok:
Region: PK
Friday 12 June 2026 05:51:38 GMT
1042
226
10
5

Music

Download

Comments

bilal.ahmed2557
Bilal Ahmed :
❤️❤️❤️
2026-06-12 08:24:18
0
ali.mlk22
💖💖کنگ بلبل پاکستان 💗💗 :
❤️❤️❤️
2026-06-12 07:17:28
0
aani_khan082
Aryan Malik :
💖💖💖
2026-06-12 06:59:44
0
zaheerahme786
Zaheer Ahmed :
🥰🥰🥰
2026-06-12 06:58:34
0
saeedsaqisaeedsaqi5
saeed saqi :
🥰🥰🥰
2026-06-12 06:57:56
0
husnayshazada
Azhar Iqbal :
🥰🥰🥰
2026-06-12 06:18:50
0
malik.asif07595
Asif Khan ❤️❤️ :
❤️❤️
2026-06-12 06:18:17
0
malikmoaz79
Moaz KFk🕊️ :
❣️❣️❣️
2026-06-12 06:14:22
0
ammar4261
AmmaR :
🥰🥰🥰
2026-06-12 05:52:58
0
mehtab_0111
G KHANI G 🧡💫 :
❤️❤️❤️
2026-06-12 10:28:49
0
To see more videos from user @hassanvideo12, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

بلوچستان کسٹمز ایک بار پھر سنگین الزامات اور سوالات کی زد میں آ چکا ہے۔ لکپاس کسٹم گودام میں لگنے والی پراسرار آگ نے نہ صرف کروڑوں روپے مالیت کے ضبط شدہ سامان کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا بلکہ اس واقعے نے محکمہ کسٹمز میں جاری مبینہ کرپشن، ملی بھگت اور شواہد مٹانے کے خدشات کو بھی مزید تقویت دے دی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ بلوچستان کسٹمز کسی بڑے اسکینڈل میں گھرا ہو۔ اس سے قبل اربوں روپے مالیت کی چاندی کی اینٹوں کی مبینہ تبدیلی کا معاملہ منظرعام پر آیا تھا، جس نے پورے محکمے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ اب لکپاس گودام میں اچانک بھڑکنے والی آگ نے عوامی حلقوں میں اس شبہے کو مزید گہرا کر دیا ہے کہ کہیں یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ کرپشن کے ثبوت مٹانے کی ایک منظم کوشش تو نہیں۔ ذرائع کے مطابق گودام میں موجود غیر ملکی سگریٹ، چھالیہ، چائے، خشک دودھ اور دیگر قیمتی اشیاء مبینہ طور پر پہلے ہی مارکیٹ میں فروخت کی جا چکی تھیں، جبکہ سرکاری ریکارڈ کو برابر ظاہر کرنے کے لیے یا تو ناقص سامان رکھا گیا یا پھر آگ لگا کر تمام شواہد ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صرف مالی بدعنوانی نہیں بلکہ قومی خزانے، ریاستی اداروں اور عوامی اعتماد کے ساتھ سنگین خیانت کے مترادف ہے۔ بلوچستان کے عوام پہلے ہی بدامنی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے میں اگر قومی وسائل کی حفاظت پر مامور اداروں کے اندر ہی کرپشن کا بازار گرم ہو تو عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس معاملے کی شفاف، غیر جانبدار اور اعلیٰ سطحی تحقیقات وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لکپاس گودام کی آگ کو چاندی کی اینٹوں کے اسکینڈل کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے اور ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے جس میں فرانزک ماہرین، حساس ادارے اور آڈیٹ حکام شامل ہوں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے کہ جلنے والا سامان واقعی وہی تھا جو سرکاری ریکارڈ میں درج تھا یا محض خانہ پری کے لیے بے کار اشیاء کو نذرِ آتش کیا گیا۔ اگر اس واقعے کو بھی ماضی کی طرح دبا دیا گیا تو یہ ایک خطرناک روایت بن جائے گی، جہاں ہر بڑے اسکینڈل کے بعد ریکارڈ جل جائیں گے، ثبوت غائب ہو جائیں گے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے عناصر قانون کی گرفت سے بچ نکلیں گے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ بلوچستان کسٹمز میں موجود کالی بھیڑوں کو بے نقاب کر کے سخت احتساب کیا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور قومی دولت کو لوٹنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا سکے۔#viral #post
بلوچستان کسٹمز ایک بار پھر سنگین الزامات اور سوالات کی زد میں آ چکا ہے۔ لکپاس کسٹم گودام میں لگنے والی پراسرار آگ نے نہ صرف کروڑوں روپے مالیت کے ضبط شدہ سامان کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا بلکہ اس واقعے نے محکمہ کسٹمز میں جاری مبینہ کرپشن، ملی بھگت اور شواہد مٹانے کے خدشات کو بھی مزید تقویت دے دی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ بلوچستان کسٹمز کسی بڑے اسکینڈل میں گھرا ہو۔ اس سے قبل اربوں روپے مالیت کی چاندی کی اینٹوں کی مبینہ تبدیلی کا معاملہ منظرعام پر آیا تھا، جس نے پورے محکمے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ اب لکپاس گودام میں اچانک بھڑکنے والی آگ نے عوامی حلقوں میں اس شبہے کو مزید گہرا کر دیا ہے کہ کہیں یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ کرپشن کے ثبوت مٹانے کی ایک منظم کوشش تو نہیں۔ ذرائع کے مطابق گودام میں موجود غیر ملکی سگریٹ، چھالیہ، چائے، خشک دودھ اور دیگر قیمتی اشیاء مبینہ طور پر پہلے ہی مارکیٹ میں فروخت کی جا چکی تھیں، جبکہ سرکاری ریکارڈ کو برابر ظاہر کرنے کے لیے یا تو ناقص سامان رکھا گیا یا پھر آگ لگا کر تمام شواہد ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صرف مالی بدعنوانی نہیں بلکہ قومی خزانے، ریاستی اداروں اور عوامی اعتماد کے ساتھ سنگین خیانت کے مترادف ہے۔ بلوچستان کے عوام پہلے ہی بدامنی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے میں اگر قومی وسائل کی حفاظت پر مامور اداروں کے اندر ہی کرپشن کا بازار گرم ہو تو عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس معاملے کی شفاف، غیر جانبدار اور اعلیٰ سطحی تحقیقات وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لکپاس گودام کی آگ کو چاندی کی اینٹوں کے اسکینڈل کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے اور ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے جس میں فرانزک ماہرین، حساس ادارے اور آڈیٹ حکام شامل ہوں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے کہ جلنے والا سامان واقعی وہی تھا جو سرکاری ریکارڈ میں درج تھا یا محض خانہ پری کے لیے بے کار اشیاء کو نذرِ آتش کیا گیا۔ اگر اس واقعے کو بھی ماضی کی طرح دبا دیا گیا تو یہ ایک خطرناک روایت بن جائے گی، جہاں ہر بڑے اسکینڈل کے بعد ریکارڈ جل جائیں گے، ثبوت غائب ہو جائیں گے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے عناصر قانون کی گرفت سے بچ نکلیں گے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ بلوچستان کسٹمز میں موجود کالی بھیڑوں کو بے نقاب کر کے سخت احتساب کیا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور قومی دولت کو لوٹنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا سکے۔#viral #post

About