@hoi.tran014: #xuhuongtiktok #trendingvideo #trend bột ủ nhả nắng-trắng da✅sê ri nhà có gì quay đấy🎀

Quỳn nấm✅
Quỳn nấm✅
Open In TikTok:
Region: VN
Friday 12 June 2026 07:34:38 GMT
635
3
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @hoi.tran014, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

وزیرستان کی۔ پہاڑوں کے دامن میں بسا ہوا۔ وہاں منظور پشتین نامی ایک لڑکا تھا۔ آنکھوں میں آگ، لفظوں میں بجلی۔ سکول میں پڑھتا تھا۔ استاد کہتے:
وزیرستان کی۔ پہاڑوں کے دامن میں بسا ہوا۔ وہاں منظور پشتین نامی ایک لڑکا تھا۔ آنکھوں میں آگ، لفظوں میں بجلی۔ سکول میں پڑھتا تھا۔ استاد کہتے: "منظور، تیرے جیسا بولنے والا میں نے نہیں دیکھا۔" تقری مقابلے میں جب کھڑا ہوتا، پورا ہال خاموش ہو جاتا۔ وہ اپنے مظلوم علاقے کی بات کرتا۔ "ہمارے پہاڑوں میں معدنیات ہے، ہمارے دریاؤں میں سونا ہے... مگر ہم پیاسے ہیں۔" لوگ تالیاں مارتے، آنکھیں نم ہو جاتیں۔ ایک دن سکول میں مہمان آئے۔ وردی والے۔ بڑے افسر۔ منظور کی تقریر سنی۔ تالیاں بجائیں۔ بعد میں اسے بلایا۔ افسر مسکرا کر بولا: "بیٹا، تم میں آگ ہے۔ اپنے علاقے کی محبت ہے۔ تم ایک کام کرو... اپنی تقریروں میں آواز اٹھانے والوں کو سامنے لاؤ۔ جو جذباتی ہیں، جو بولتے ہیں... ان کی لسٹ بنا دو۔ ہم تمہاری مدد کریں گے۔ علاقے کی ترقی کریں گے۔ معدنیات تمہارے حوالے۔" منظور معصوم تھا۔ اسے لگا یہ ملک کی خدمت ہے۔ وہ سمجھا "آواز اٹھانے والے" مطلب ملک کے دشمن نہیں... ملک کے درد مند ہیں۔ پھر شروع ہوا کھیل۔ منظور سٹیج پر کھڑا ہوتا۔ نعرے لگاتا۔ "کون ہے جو اپنے علاقے کے لیے بولے گا؟ کون ہے جو حق مانگے گا؟" جذباتی لڑکے کھڑے ہو جاتے۔ سینہ تان کر بولتے: "میں!" منظور نوٹ کر لیتا۔ نام... پتہ... سب افسروں کو دے دیتا۔ ایک ایک کر کے وہ آوازیں خاموش ہو گئیں۔ رات کو دروازے کھٹکتے۔ صبح لاشیں ملتیں۔ وہ جذباتی لڑکے... وہ بولنے والے... وہ منظور کے ہم عمر... سب مٹی تلے سو گئے۔ منظور اب 40 سال کا ہو چکا تھا۔ بال سفید، کمر جھکی ہوئی۔ گاؤں والے اسے "منظور استاد" کہتے تھے۔ مگر وہ استاد نہیں تھا... وہ قاتل تھا۔ اپنے ضمیر کا قاتل۔ اس کے گھر کی دیوار پر ایک پرانی تصویر لگی تھی۔ اس کی گاؤں کی۔ 20 لڑکے کھڑے تھے۔ سب مسکرا رہے تھے۔ منظور بیچ میں، سب سے آگے۔ آج ان 20 میں سے 17 قبر میں تھے۔ باقی 3 ملک چھوڑ گئے۔ ہر جمعہ کو منظور مسجد جاتا۔ امام کے بعد کھڑا ہوتا۔ لرزتی آواز میں کہتا: "بھائیو، اگر کوئی مجھ سے ناراض ہے... مجھے معاف کر دے۔ میں نے انجانے میں اپنے لوگوں کا سودا کر دیا تھا۔" لوگ سر جھکا لیتے۔ کوئی معاف نہیں کرتا تھا۔ کیونکہ معافی مانگنے والا زندہ تھا... مگر جن کے لیے معافی مانگ رہا تھا، وہ مٹی ہو چکے تھے۔ ایک رات منظور نے چراغ جلایا۔ کاغذ قلم لیا۔ بیٹے کے نام خط لکھا: "بیٹا، جب تو یہ خط پڑھے گا، تیرا باپ قبر میں ہو گا۔ میں نے تجھے کبھی سکول نہیں بھیجا۔ ڈرتا تھا کہیں تو بھی سٹیج پر کھڑا ہو کر نعرہ نہ لگا دے۔ بیٹا، یاد رکھنا... وردی والے جب مٹھائی لے کر آئیں، جب تمہاری تعریف کریں، جب کہیں 'اپنوں کی نشاندہی کرو'... تو بھاگ جانا۔ میں بھاگ نہیں سکا تھا۔ میں نے سمجھا میں ملک بچا رہا ہوں۔ مگر میں نے اپنی روح بیچ دی تھی۔ آج بھی رات کو وہ 17 لڑکے آتے ہیں۔ کہتے ہیں: 'منظور بھائی، چائے پلاؤ گے؟' میں چائے بناتا ہوں... مگر وہ پیتے نہیں۔ بس مجھے دیکھتے رہتے ہیں۔ بیٹا، اگر کبھی تیرے دل میں آگ جلے اپنے علاقے کے لیے... تو اس آگ سے اپنوں کو مت جلانا۔ دشمن کو جلانا۔ تیرا گنہگار باپ، ۔

About