@flymx2010ify:

flymx2010ify
flymx2010ify
Open In TikTok:
Region: MX
Friday 12 June 2026 16:37:23 GMT
2160
65
4
2

Music

Download

Comments

user110455548553
Chema :
Que bella
2026-06-13 07:04:37
0
ramon.quiroz424
Ramon Quiroz :
🥰🥰😍🥰😇😇😇😇 hermosa
2026-06-12 16:53:20
0
nuez186
nuñez1 :
😋😋😋
2026-06-12 16:42:15
0
el_chicarcas2
EL_CHICARCAS☠️☠️ :
🥰🥰🥰
2026-06-12 16:43:40
0
To see more videos from user @flymx2010ify, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

سردار ملی خان 19ویں صدی کے ایک عظیم حریت پسند اور جنگجو تھے، جنہوں نے سکھ سلطنت اور ڈوگرا راجہ گلاب سنگھ کے ظلم کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ سکھوں کے خلاف جنگ: جب 1819ء میں سکھ سلطنت نے کشمیر پر قبضہ کیا، تو پونچھ اور سدھنوتی کے پہاڑی قبائل نے سکھوں کی اطاعت دل سے قبول نہ کی۔ سردار ملی خان نے شروع ہی سے سکھ فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ 1819ء کی ایک لڑائی میں وہ سکھوں کی پہاڑی توپ کا گولا لگنے سے زخمی بھی ہوئے تھے۔ 1832ء کی مشہور بغاوت: پونچھ کی تاریخ کی سب سے خونریز اور بڑی بغاوت 1832ء سے 1837ء کے درمیان ہوئی۔ اس بغاوت کی قیادت سردار شمس خان کر رہے تھے، جبکہ ان کے سدا بہار ساتھی اور دستِ راست سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان تھے۔ ان مجاہدین نے ڈوگرا راجہ گلاب سنگھ کی فوج کے چھکے چھڑا دیے اور کئی قلعے آزاد کروا لیے۔ بغاوت کو کچلنا اور سازش: راجہ گلاب سنگھ ایک بہت بڑا لشکر لے کر پونچھ پر حملہ آور ہوا اور مقامی غداروں کو پیسے اور عہدوں کا لالچ دے کر مجاہدین کے ٹھکانوں کا پتہ لگایا۔ منگ (Mong) کے مقام پر ایک آخری اور فیصلہ کن معرکہ ہوا جہاں مجاہدین کو محصور کر لیا گیا۔ عبرتناک اور دردناک شہادت: سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان کو سکھ اور ڈوگرا فوج نے قیدی بنا لیا۔ راجہ گلاب سنگھ نے عبرت کا نشان بنانے کے لیے ان دونوں غیور سرداروں کو منگ کے مقام پر ایک درخت سے باندھا اور زندہ کھالیں کھینچنے (Flayed Alive) کا حکم دیا۔ سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان نے اپنی کھالیں تو اتروا دیں، لیکن ڈوگرا راج کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ منگ (آزاد کشمیر) میں آج بھی ان عظیم شہدا کی یادگار
سردار ملی خان 19ویں صدی کے ایک عظیم حریت پسند اور جنگجو تھے، جنہوں نے سکھ سلطنت اور ڈوگرا راجہ گلاب سنگھ کے ظلم کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ سکھوں کے خلاف جنگ: جب 1819ء میں سکھ سلطنت نے کشمیر پر قبضہ کیا، تو پونچھ اور سدھنوتی کے پہاڑی قبائل نے سکھوں کی اطاعت دل سے قبول نہ کی۔ سردار ملی خان نے شروع ہی سے سکھ فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ 1819ء کی ایک لڑائی میں وہ سکھوں کی پہاڑی توپ کا گولا لگنے سے زخمی بھی ہوئے تھے۔ 1832ء کی مشہور بغاوت: پونچھ کی تاریخ کی سب سے خونریز اور بڑی بغاوت 1832ء سے 1837ء کے درمیان ہوئی۔ اس بغاوت کی قیادت سردار شمس خان کر رہے تھے، جبکہ ان کے سدا بہار ساتھی اور دستِ راست سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان تھے۔ ان مجاہدین نے ڈوگرا راجہ گلاب سنگھ کی فوج کے چھکے چھڑا دیے اور کئی قلعے آزاد کروا لیے۔ بغاوت کو کچلنا اور سازش: راجہ گلاب سنگھ ایک بہت بڑا لشکر لے کر پونچھ پر حملہ آور ہوا اور مقامی غداروں کو پیسے اور عہدوں کا لالچ دے کر مجاہدین کے ٹھکانوں کا پتہ لگایا۔ منگ (Mong) کے مقام پر ایک آخری اور فیصلہ کن معرکہ ہوا جہاں مجاہدین کو محصور کر لیا گیا۔ عبرتناک اور دردناک شہادت: سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان کو سکھ اور ڈوگرا فوج نے قیدی بنا لیا۔ راجہ گلاب سنگھ نے عبرت کا نشان بنانے کے لیے ان دونوں غیور سرداروں کو منگ کے مقام پر ایک درخت سے باندھا اور زندہ کھالیں کھینچنے (Flayed Alive) کا حکم دیا۔ سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان نے اپنی کھالیں تو اتروا دیں، لیکن ڈوگرا راج کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ منگ (آزاد کشمیر) میں آج بھی ان عظیم شہدا کی یادگار "یادگارِ شہدا" کے نام سے موجود ہے، جو کشمیریوں کو ان کی قربانی کی یاد دلاتی ہے۔ ان دونوں شخصیات کا نام تاریخِ کشمیر میں سنہرے حروف سے لکھا گیا ہے—ایک نے خطے کو سدھنوتی کی پہچان دی اور دوسرے نے اسی مٹی کی آزادی کے لیے اپنی کھال کا نذرانہ پیش کیا۔

About