@usman.habib44: خاموشی کا کرب کبھی کبھی زندگی کی دوڑ میں بھاگتے بھاگتے انسان ایسی جگہ آ کھڑا ہوتا ہے جہاں تھکن جسم کی نہیں، روح کی ہوتی ہے۔ ہم مسکراتے ہیں، لوگوں سے ملتے ہیں، اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے، لیکن اندر ایک پورا شہر خاموشی سے ملبے میں تبدیل ہو رہا ہوتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہاں کوئی آپ کا درد بانٹنے نہیں آتا، بلکہ لوگ تو آپ کی ٹوٹی ہوئی ہمت کے ٹکڑے سمیٹنے کے منتظر رہتے ہیں۔ اس لیے اپنی کمزوری کو چھپا کر رکھنا ہی دانشمندی ہے، کیونکہ یہ دنیا صرف چمکتے ہوئے سورج کو سلام کرتی ہے، ڈھلتے ہوئے سائے کو نہیں۔ اپنے آنسوؤں کو اپنی طاقت بنائیں اور اپنی شکست کا شور اپنے دل تک ہی محدود رکھیں، کیونکہ آپ کی خاموشی ہی آپ کا سب سے بڑا بھرم ہے