@mamer_khan1: کشمیری اپنے بنیادی حقوق اور انصاف کے لیے سڑکوں پر نکلے تھے، مگر بدلے میں ان کے کاروبار تباہ کیے جا رہے ہیں اور ان کی روزی روٹی چھینی جا رہی ہے۔ دکانوں کے ٹوٹے ہوئے شٹر اور ویران بازار اس درد کی خاموش گواہی دے رہے ہیں۔ گولیوں اور طاقت کے استعمال سے آوازوں کو دبایا جا سکتا ہے، لیکن حق اور انصاف کی طلب کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ہر تباہ ہونے والی دکان کے پیچھے ایک خاندان کے خواب وابستہ ہوتے ہیں۔ آج کشمیری صرف یہ سوال کر رہے ہیں کہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا آخر کب سے جرم بن گیا؟