@real.love968: #ဘဝ #foryourpage

♥Real Love♥
♥Real Love♥
Open In TikTok:
Region: TH
Saturday 13 June 2026 09:32:06 GMT
582
29
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @real.love968, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

سورہ المائدہ کی آیات 12 سے 17 کا موضوع بنی اسرائیل اور عیسائیوں سے لیا گیا عہد، اس کی خلاف ورزی، اور پھر نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت ہے۔ آیت 12 وَلَقَدْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا... ترجمہ: اور بیشک اللہ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ہم نے ان میں سے بارہ نقیب (سردار) مقرر کیے، اور اللہ نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، اگر تم نماز قائم رکھو گے، زکوٰۃ دیتے رہو گے، میرے رسولوں پر ایمان لاؤ گے، ان کی مدد کرو گے اور اللہ کو قرضِ حسنہ دو گے، تو میں تم سے تمہاری برائیاں ضرور مٹا دوں گا اور تمہیں ضرور ان باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، پھر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔ تفسیر: یہاں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کا پرانا میثاق یاد دلا رہا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ہر قبیلے سے ایک نقیب مقرر کیا گیا تھا تاکہ وہ اپنے قبیلے کو اللہ کے احکام پر قائم رکھے۔  عہد کی 5 شرطیں تھیں: اقامتِ صلوٰۃ - اللہ سے تعلق قائم رکھنا ایتائے زکوٰۃ - مخلوق سے تعلق اور مال کی پاکیزگی رسولوں پر ایمان - جو یکے بعد دیگرے آئیں گے ان کی تعظیم و نصرت انفاق فی سبیل اللہ کو قرض حسنہ کہا گیا، یعنی اخلاص سے خرچ کرنا اس کے بدلے دو انعام: گناہوں کی معافی اور جنت۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی نصرت مشروط ہے اطاعت کے ساتھ۔ آیت 13 فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً... ترجمہ: پھر ان کے اپنے عہد کو توڑنے کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا، وہ کلام کو اس کی جگہ سے بدل دیتے ہیں اور جو نصیحت انہیں کی گئی تھی اس کا بڑا حصہ بھول گئے، اور تم ان میں سے کسی نہ کسی خیانت پر ہمیشہ مطلع ہوتے رہو گے سوائے تھوڑے سے لوگوں کے، سو انہیں معاف کر دو اور درگزر کرو، بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ تفسیر: عہد شکنی کا نتیجہ تین صورتوں میں نکلا: 1. لعنت: یعنی اللہ کی رحمت سے دوری۔ 2. قساوتِ قلبی: ان کے دل اتنے سخت ہو گئے کہ حق بات اثر ہی نہیں کرتی۔ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں قساوت کی وجہ سے ہی وہ تورات میں تحریف کرنے لگے۔ 3. تحریفِ کلام: يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ کے دو مطلب ہیں، الفاظ کو بدل دینا جیسے نبی ﷺ کی صفات کو چھپانا، اور مطلب کو بدل دینا یعنی غلط تاویلیں کرنا۔ پھر فرمایا کہ یہ قوم خیانت باز ہے، حضرت محمد ﷺ کے دور میں بھی یہ سازشیں کرتے رہے، جیسے بنو نضیر کا واقعہ۔ اس لیے نبی ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ درگزر سے کام لیں جب تک وہ کھلی جنگ پر نہ اتر آئیں۔ آیت 14 وَمِنَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ أَخَذْنَا مِيثَاقَهُمْ... ترجمہ: اور جن لوگوں نے کہا ہم نصاریٰ ہیں ان سے بھی ہم نے عہد لیا تو وہ بھی اس نصیحت کا بڑا حصہ بھول گئے جو انہیں کی گئی تھی، تو ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے عداوت اور بغض ڈال دیا، اور عنقریب اللہ انہیں بتائے گا جو کچھ وہ کرتے تھے۔ تفسیر: یہ عیسائیوں کے عہد کا ذکر ہے۔ انہوں نے بھی وہی کیا جو یہودیوں نے کیا - انجیل کے احکام، خاص طور پر توحید اور نبی آخر الزماں کی آمد کی بشارت کو فراموش کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے فرقوں کے درمیان ہمیشہ کی دشمنی ڈال دی۔ آج تک دیکھ لیں، کیتھولک، پروٹسٹنٹ، آرتھوڈوکس آپس میں صدیوں تک لڑتے رہے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے سزا ہے اتحاد کی نعمت کو ضائع کرنے کی۔ آیات 15-16 يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ... ترجمہ: اے اہل کتاب! تحقیق تمہارے پاس ہمارا رسول آگیا ہے جو بہت سی ان باتوں کو تمہارے لیے ظاہر کرتا ہے جو تم کتاب میں سے چھپاتے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر بھی کرتا ہے، بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور واضح کتاب آگئی ہے۔ جس کے ذریعے اللہ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور انہیں سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے۔ تفسیر: یہ آیات ان دونوں گروہوں کے بعد نبی کریم ﷺ کی آمد کا اعلان ہیں۔ نور سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک خود نبی کریم ﷺ ہیں اور کتاب مبین سے مراد قرآن کریم ہے۔ بعض نے نور سے بھی قرآن ہی مراد لیا ہے۔ آپ ﷺ کا کام کیا تھا؟ یہود رجم کی سزا، اور نبی کی صفات جیسی چیزیں چھپاتے تھے، آپ نے انہیں کھول کر بیان کر دیا۔ اور بہت سی غیر ضروری بحثوں سے درگزر فرمایا جن کا پوچھنا ان کے لیے نقصان دہ تھا۔ قرآن کے دو بڑے کام یہاں بیان ہوئے: سبل السلام: سلامتی یعنی دنیا میں امن اور آخرت میں جنت کے تمام راستے دکھانا۔ ظلمات سے نور کی طرف: کفر، شرک، جہالت اور تفرقہ کے اندھیروں سے نکال کر توحید اور علم کی روشنی میں لانا۔ آ
سورہ المائدہ کی آیات 12 سے 17 کا موضوع بنی اسرائیل اور عیسائیوں سے لیا گیا عہد، اس کی خلاف ورزی، اور پھر نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت ہے۔ آیت 12 وَلَقَدْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا... ترجمہ: اور بیشک اللہ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ہم نے ان میں سے بارہ نقیب (سردار) مقرر کیے، اور اللہ نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، اگر تم نماز قائم رکھو گے، زکوٰۃ دیتے رہو گے، میرے رسولوں پر ایمان لاؤ گے، ان کی مدد کرو گے اور اللہ کو قرضِ حسنہ دو گے، تو میں تم سے تمہاری برائیاں ضرور مٹا دوں گا اور تمہیں ضرور ان باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، پھر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔ تفسیر: یہاں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کا پرانا میثاق یاد دلا رہا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ہر قبیلے سے ایک نقیب مقرر کیا گیا تھا تاکہ وہ اپنے قبیلے کو اللہ کے احکام پر قائم رکھے۔ عہد کی 5 شرطیں تھیں: اقامتِ صلوٰۃ - اللہ سے تعلق قائم رکھنا ایتائے زکوٰۃ - مخلوق سے تعلق اور مال کی پاکیزگی رسولوں پر ایمان - جو یکے بعد دیگرے آئیں گے ان کی تعظیم و نصرت انفاق فی سبیل اللہ کو قرض حسنہ کہا گیا، یعنی اخلاص سے خرچ کرنا اس کے بدلے دو انعام: گناہوں کی معافی اور جنت۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی نصرت مشروط ہے اطاعت کے ساتھ۔ آیت 13 فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً... ترجمہ: پھر ان کے اپنے عہد کو توڑنے کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا، وہ کلام کو اس کی جگہ سے بدل دیتے ہیں اور جو نصیحت انہیں کی گئی تھی اس کا بڑا حصہ بھول گئے، اور تم ان میں سے کسی نہ کسی خیانت پر ہمیشہ مطلع ہوتے رہو گے سوائے تھوڑے سے لوگوں کے، سو انہیں معاف کر دو اور درگزر کرو، بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ تفسیر: عہد شکنی کا نتیجہ تین صورتوں میں نکلا: 1. لعنت: یعنی اللہ کی رحمت سے دوری۔ 2. قساوتِ قلبی: ان کے دل اتنے سخت ہو گئے کہ حق بات اثر ہی نہیں کرتی۔ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں قساوت کی وجہ سے ہی وہ تورات میں تحریف کرنے لگے۔ 3. تحریفِ کلام: يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ کے دو مطلب ہیں، الفاظ کو بدل دینا جیسے نبی ﷺ کی صفات کو چھپانا، اور مطلب کو بدل دینا یعنی غلط تاویلیں کرنا۔ پھر فرمایا کہ یہ قوم خیانت باز ہے، حضرت محمد ﷺ کے دور میں بھی یہ سازشیں کرتے رہے، جیسے بنو نضیر کا واقعہ۔ اس لیے نبی ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ درگزر سے کام لیں جب تک وہ کھلی جنگ پر نہ اتر آئیں۔ آیت 14 وَمِنَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ أَخَذْنَا مِيثَاقَهُمْ... ترجمہ: اور جن لوگوں نے کہا ہم نصاریٰ ہیں ان سے بھی ہم نے عہد لیا تو وہ بھی اس نصیحت کا بڑا حصہ بھول گئے جو انہیں کی گئی تھی، تو ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے عداوت اور بغض ڈال دیا، اور عنقریب اللہ انہیں بتائے گا جو کچھ وہ کرتے تھے۔ تفسیر: یہ عیسائیوں کے عہد کا ذکر ہے۔ انہوں نے بھی وہی کیا جو یہودیوں نے کیا - انجیل کے احکام، خاص طور پر توحید اور نبی آخر الزماں کی آمد کی بشارت کو فراموش کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے فرقوں کے درمیان ہمیشہ کی دشمنی ڈال دی۔ آج تک دیکھ لیں، کیتھولک، پروٹسٹنٹ، آرتھوڈوکس آپس میں صدیوں تک لڑتے رہے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے سزا ہے اتحاد کی نعمت کو ضائع کرنے کی۔ آیات 15-16 يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ... ترجمہ: اے اہل کتاب! تحقیق تمہارے پاس ہمارا رسول آگیا ہے جو بہت سی ان باتوں کو تمہارے لیے ظاہر کرتا ہے جو تم کتاب میں سے چھپاتے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر بھی کرتا ہے، بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور واضح کتاب آگئی ہے۔ جس کے ذریعے اللہ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور انہیں سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے۔ تفسیر: یہ آیات ان دونوں گروہوں کے بعد نبی کریم ﷺ کی آمد کا اعلان ہیں۔ نور سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک خود نبی کریم ﷺ ہیں اور کتاب مبین سے مراد قرآن کریم ہے۔ بعض نے نور سے بھی قرآن ہی مراد لیا ہے۔ آپ ﷺ کا کام کیا تھا؟ یہود رجم کی سزا، اور نبی کی صفات جیسی چیزیں چھپاتے تھے، آپ نے انہیں کھول کر بیان کر دیا۔ اور بہت سی غیر ضروری بحثوں سے درگزر فرمایا جن کا پوچھنا ان کے لیے نقصان دہ تھا۔ قرآن کے دو بڑے کام یہاں بیان ہوئے: سبل السلام: سلامتی یعنی دنیا میں امن اور آخرت میں جنت کے تمام راستے دکھانا۔ ظلمات سے نور کی طرف: کفر، شرک، جہالت اور تفرقہ کے اندھیروں سے نکال کر توحید اور علم کی روشنی میں لانا۔ آ

About