@liquid.view: #daytrading #tradingcommunity #tradinglife #tradinghub #motivation

TRADING
TRADING
Open In TikTok:
Region: DE
Saturday 13 June 2026 10:55:07 GMT
33225
4784
15
215

Music

Download

Comments

liquid.view
TRADING :
Did you know about smart money before this? YES / NO in comments 👇
2026-06-13 10:55:35
4
noobsevou1
NOOBSEVOU :
bookmap hitmap
2026-08-01 18:06:00
0
xau_angel
Mahmudul Alam :
Only price action 😎
2026-07-28 20:50:56
0
christian_pkgpython16667
Christian_Pkgpython16667 :
orderflow
2026-06-22 12:40:14
0
bewafa.dunya588
🤴kingturi🇭🇲 :
🥰🥰🥰
2026-06-28 19:59:07
2
forex_station
Forex Station PLATFORM 9¾ :
😆
2026-07-08 01:42:21
0
samirranabhat2
Samir FX :
.....
2026-07-01 15:01:33
0
007ugyekka
007 Ug Yekka :
🥰🥰🥰
2026-06-20 23:06:43
0
cointrendinsider
DM TO BE AN INSIDER FREE 🆓 :
🔽🔽
2026-06-13 13:58:11
0
alphafuturesclips080
AlphaFuturesClips :
🔥🔥
2026-07-31 19:19:58
0
To see more videos from user @liquid.view, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ایک باپ کی بے گناہی اور ایک بیٹے کی شہادت ظلم و بربریت کی ایک جگر سوز داستان یہ صرف ایک تحریر یا کہانی نہیں ہے، یہ ایک مظلوم باپ کے آنسوؤں، ایک ماں کے صبر اور ایک نو عمر شہید کے لہو سے لکھی گئی وہ داستانِ غم ہے جسے پڑھ کر شاید پتھر کا دل بھی موم ہو جائے بے گناہی کا جرم اور تشدد کے سایے 5 اور 6 جون کی وہ سیاہ رات،جب ایک محنت کش باپ سردار فرید دن بھر کی کٹھن مزدوری کے بعد تھکا ہارا اپنے بچوں کی روزی روٹی کا سامان لیے گھر لوٹ رہا تھا، اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس کا راستہ ایک مظاہرے کے قریب سے گزرا۔ نہ وہ کسی احتجاج کا حصہ تھے اور نہ ہی کسی جرم میں ملوث۔ مگر قانون کے محافظوں نے بغیر کسی تفتیش اور بغیر کسی ثبوت کے انہیں اٹھا لیا۔ بار بار کہا گیا کہ تم ایکشن کمیٹی کے رکن ہو اور ہر انکار پر تشدد کے کوڑے برسائے گئے۔ تشدد کی وجہ سے ان کی 2 انگلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں اور پسلیوں پر گہرے نشانات موجود ہیں۔ انہیں طویل قید اور سخت خوف دلایا گیا، مگر اس بے گناہ باپ کا ایک ہی جواب تھا: اگر میرے رب نے میرے لیے کوئی سبب بنایا، تو میں ضرور باہر جاؤں گا۔ اس کے بعد بھی ان پر مسلسل دباؤ ڈالا گیا کہ ویڈیو بھی بناؤ جب انہوں نے انکار کیا، تو وہاں موجود شاہ نامی افسر نے جو میرپور کا مقامی تھا حکم دیا کہ اس کے منہ کے اندر ڈنڈے مارو منہ کھول کر ڈنڈے مارو تب جا کر یہ بولے گا۔ دوسری طرف ان کا 20-21 سالہ نوجوان بیٹا سردار عرفان (مون) جس کی آنکھوں میں اپنے باپ کی طرح باوقار زندگی کے خواب تھے وہ حقوق کی جنگ میں سب سے آگے رہتا تھا۔ پھر 28 اور 29 جون کی درمیانی شب راولاکوٹ میں فورسز کی فائرنگ سے (مون) ہمیشہ کے لیے سو گیا۔ بیٹا خاک و خون میں غلطاں ہو چکا تھا اور باپ جیل کی تاریک سلاخوں کے پیچھے اس بات سے بے خبر تھا کہ اس کی دنیا کا سب سے روشن چراغ بجھا دیا گیا ہے۔ وقت کے خلاف ایک دوڑ خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ جب دیگر فیملی ممبرز نے سردار زعیم سدوزئی کو بتایا کہ ان کے والد لاپتہ ہیں تو انہوں نے معاملے کی معلومات حاصل کیں پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ میرپور جیل میں قید ہیں۔ اس کے بعدان کی رہائی اور آخری دیدار کے لیے وقت کے خلاف ایک جنگ شروع ہوئی۔ راستوں پر 50 سے 60 مقامات پر بندشیں تھیں۔ 5 سے 6 مرتبہ گاڑیاں بدلنا اور رینجرز کا تعاقب اور جیل میں قید باپ جو سمجھ رہا تھا کہ اسے 10 سال کی سزا ہو چکی ہے سردار فرید صاحب! آپ کو دس سال کی سزا ہو گئی ہے۔ یہ سوچنا بھی چھوڑ دیں کہ آپ کی ضمانت ہوگی یا آپ کبھی باہر آ سکیں گے۔ اس پر انہوں نے جواب دیا اگر اللہ نے میرے لیے کوئی سبب بنایا تو میں ضرور باہر جاؤں گا۔ اس وقت شاید انہیں اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے دن ان کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان ثابت ہوں گے۔جبکہ باہر اس کے بیٹے کی تدفین کی تیاری ہو رہی تھی۔ اس کے بعد وقت کے خلاف ایک دوڑ شروع ہوئی۔ خاندان کے پاس صرف چوبیس گھنٹے تھے، جبکہ شہید مون کی والدہ کی صرف ایک خواہش تھی کہ ان کے شوہر اپنے بیٹے کا آخری دیدار کر سکیں۔ سردار زعیم سدوزئی نے خاندان کو یقین دلایا کہ وہ ہر ممکن کوشش کریں گے۔  قبرستان کا وہ منظر جو قیامت سے کم نہ تھا جب سردار فرید کو جیل سے آزاد کرا کے لایا جا رہا تھا تو گاڑی میں سردار زعیم صاحب نے باتوں باتوں میں غم کا اشارہ دیا۔ پوچھا سردار فرید خاموش ہو گئے وہ 5 منٹ کی خاموشی ایک باپ کے اندر ٹوٹتے ہوئے آسمان کی خاموشی تھی۔ قبرستان پہنچتے ہی جب ان کی نظر ایک تازہ نئی مٹی کی قبر پر پڑی تو ان کی ٹانگوں سے جان نکل گئی۔ وہ وہیں ڈھیر ہو گئے اور ڈیڑھ گھنٹے تک بے ہوش رہے۔ ہوش میں آنے کے بعد جب انہوں نے ارد گرد دیکھا، جہاں لوگ جنازہ پڑھ کر جا چکے تھے اور صرف اپنے بچے چارپائی کے گرد بیٹھے تھے، تو ایک باپ کے کانپتے ہوئے ہونٹوں سے صرف اتنا نکلا: تم نے میرا بیٹا کہاں چھوڑا ؟ اس پر اس شہید کی ماں نے جو جواب دیا اس نے عرش کو بھی ہلا دیا ہوگا... غم زدہ ماں نے ضبط کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے کہا: ہم اب شہید کے ماں باپ ہیں۔ سوچیں! اگر ان سانحات میں 90 سے زائد نوجوان شہید کر دیے گئے ہیں، تو ایسے کتنے باپ ہوں گے جن کی دنیا اجڑ گئی؟ کتنی مائیں ہوں گی جن کی گودیں سنسان ہو گئیں؟ خدارا! ہم ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتے ہیں... ہوش کے ناخن لیے جائیں! اپنے ہی لوگوں کا قتل عام بند کیا جائے، بے گناہوں پر تشدد بند کیا جائے! ہمارے بچوں سے ان کا جینے کا حق نہ چھینا جائے۔ انتہائی کوششوں اور آپ سب کی دعاؤں سے سردار فرید صاحب کو رہا کروایا گیا۔ ہم انٹرنیشنل میڈیا سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس اسٹوری کو کور کریں اور خود آ کر سردار فرید سے پوچھیں کہ ان کے ساتھ کیا ظلم و جبر ہوا ہے۔ ہم عالمی انسانی حقوق (Human Rights) کی تنظیموں سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں۔ جنہوں نے ابھی تک اس خاندان کی مکمل داستان نہیں سنی وہ ضرو
ایک باپ کی بے گناہی اور ایک بیٹے کی شہادت ظلم و بربریت کی ایک جگر سوز داستان یہ صرف ایک تحریر یا کہانی نہیں ہے، یہ ایک مظلوم باپ کے آنسوؤں، ایک ماں کے صبر اور ایک نو عمر شہید کے لہو سے لکھی گئی وہ داستانِ غم ہے جسے پڑھ کر شاید پتھر کا دل بھی موم ہو جائے بے گناہی کا جرم اور تشدد کے سایے 5 اور 6 جون کی وہ سیاہ رات،جب ایک محنت کش باپ سردار فرید دن بھر کی کٹھن مزدوری کے بعد تھکا ہارا اپنے بچوں کی روزی روٹی کا سامان لیے گھر لوٹ رہا تھا، اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس کا راستہ ایک مظاہرے کے قریب سے گزرا۔ نہ وہ کسی احتجاج کا حصہ تھے اور نہ ہی کسی جرم میں ملوث۔ مگر قانون کے محافظوں نے بغیر کسی تفتیش اور بغیر کسی ثبوت کے انہیں اٹھا لیا۔ بار بار کہا گیا کہ تم ایکشن کمیٹی کے رکن ہو اور ہر انکار پر تشدد کے کوڑے برسائے گئے۔ تشدد کی وجہ سے ان کی 2 انگلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں اور پسلیوں پر گہرے نشانات موجود ہیں۔ انہیں طویل قید اور سخت خوف دلایا گیا، مگر اس بے گناہ باپ کا ایک ہی جواب تھا: اگر میرے رب نے میرے لیے کوئی سبب بنایا، تو میں ضرور باہر جاؤں گا۔ اس کے بعد بھی ان پر مسلسل دباؤ ڈالا گیا کہ ویڈیو بھی بناؤ جب انہوں نے انکار کیا، تو وہاں موجود شاہ نامی افسر نے جو میرپور کا مقامی تھا حکم دیا کہ اس کے منہ کے اندر ڈنڈے مارو منہ کھول کر ڈنڈے مارو تب جا کر یہ بولے گا۔ دوسری طرف ان کا 20-21 سالہ نوجوان بیٹا سردار عرفان (مون) جس کی آنکھوں میں اپنے باپ کی طرح باوقار زندگی کے خواب تھے وہ حقوق کی جنگ میں سب سے آگے رہتا تھا۔ پھر 28 اور 29 جون کی درمیانی شب راولاکوٹ میں فورسز کی فائرنگ سے (مون) ہمیشہ کے لیے سو گیا۔ بیٹا خاک و خون میں غلطاں ہو چکا تھا اور باپ جیل کی تاریک سلاخوں کے پیچھے اس بات سے بے خبر تھا کہ اس کی دنیا کا سب سے روشن چراغ بجھا دیا گیا ہے۔ وقت کے خلاف ایک دوڑ خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ جب دیگر فیملی ممبرز نے سردار زعیم سدوزئی کو بتایا کہ ان کے والد لاپتہ ہیں تو انہوں نے معاملے کی معلومات حاصل کیں پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ میرپور جیل میں قید ہیں۔ اس کے بعدان کی رہائی اور آخری دیدار کے لیے وقت کے خلاف ایک جنگ شروع ہوئی۔ راستوں پر 50 سے 60 مقامات پر بندشیں تھیں۔ 5 سے 6 مرتبہ گاڑیاں بدلنا اور رینجرز کا تعاقب اور جیل میں قید باپ جو سمجھ رہا تھا کہ اسے 10 سال کی سزا ہو چکی ہے سردار فرید صاحب! آپ کو دس سال کی سزا ہو گئی ہے۔ یہ سوچنا بھی چھوڑ دیں کہ آپ کی ضمانت ہوگی یا آپ کبھی باہر آ سکیں گے۔ اس پر انہوں نے جواب دیا اگر اللہ نے میرے لیے کوئی سبب بنایا تو میں ضرور باہر جاؤں گا۔ اس وقت شاید انہیں اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے دن ان کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان ثابت ہوں گے۔جبکہ باہر اس کے بیٹے کی تدفین کی تیاری ہو رہی تھی۔ اس کے بعد وقت کے خلاف ایک دوڑ شروع ہوئی۔ خاندان کے پاس صرف چوبیس گھنٹے تھے، جبکہ شہید مون کی والدہ کی صرف ایک خواہش تھی کہ ان کے شوہر اپنے بیٹے کا آخری دیدار کر سکیں۔ سردار زعیم سدوزئی نے خاندان کو یقین دلایا کہ وہ ہر ممکن کوشش کریں گے۔ قبرستان کا وہ منظر جو قیامت سے کم نہ تھا جب سردار فرید کو جیل سے آزاد کرا کے لایا جا رہا تھا تو گاڑی میں سردار زعیم صاحب نے باتوں باتوں میں غم کا اشارہ دیا۔ پوچھا سردار فرید خاموش ہو گئے وہ 5 منٹ کی خاموشی ایک باپ کے اندر ٹوٹتے ہوئے آسمان کی خاموشی تھی۔ قبرستان پہنچتے ہی جب ان کی نظر ایک تازہ نئی مٹی کی قبر پر پڑی تو ان کی ٹانگوں سے جان نکل گئی۔ وہ وہیں ڈھیر ہو گئے اور ڈیڑھ گھنٹے تک بے ہوش رہے۔ ہوش میں آنے کے بعد جب انہوں نے ارد گرد دیکھا، جہاں لوگ جنازہ پڑھ کر جا چکے تھے اور صرف اپنے بچے چارپائی کے گرد بیٹھے تھے، تو ایک باپ کے کانپتے ہوئے ہونٹوں سے صرف اتنا نکلا: تم نے میرا بیٹا کہاں چھوڑا ؟ اس پر اس شہید کی ماں نے جو جواب دیا اس نے عرش کو بھی ہلا دیا ہوگا... غم زدہ ماں نے ضبط کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے کہا: ہم اب شہید کے ماں باپ ہیں۔ سوچیں! اگر ان سانحات میں 90 سے زائد نوجوان شہید کر دیے گئے ہیں، تو ایسے کتنے باپ ہوں گے جن کی دنیا اجڑ گئی؟ کتنی مائیں ہوں گی جن کی گودیں سنسان ہو گئیں؟ خدارا! ہم ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتے ہیں... ہوش کے ناخن لیے جائیں! اپنے ہی لوگوں کا قتل عام بند کیا جائے، بے گناہوں پر تشدد بند کیا جائے! ہمارے بچوں سے ان کا جینے کا حق نہ چھینا جائے۔ انتہائی کوششوں اور آپ سب کی دعاؤں سے سردار فرید صاحب کو رہا کروایا گیا۔ ہم انٹرنیشنل میڈیا سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس اسٹوری کو کور کریں اور خود آ کر سردار فرید سے پوچھیں کہ ان کے ساتھ کیا ظلم و جبر ہوا ہے۔ ہم عالمی انسانی حقوق (Human Rights) کی تنظیموں سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں۔ جنہوں نے ابھی تک اس خاندان کی مکمل داستان نہیں سنی وہ ضرو

About