@mr._.khann777: اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے درمیان محبت، اخوت اور حسنِ تعلق کی عظیم فضیلت بیان فرمائی ہے۔ جب دو مسلمان اللہ کی رضا کے لیے ایک دوسرے سے ملتے ہیں، سلام کرتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور ان کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ مصافحہ دلوں کی دوریوں کو ختم کرتا، محبت بڑھاتا اور باہمی رنجشوں کو دور کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ملاقات کے وقت سلام اور مصافحہ کا اہتمام فرمایا کرتے تھے اور امت کو بھی اس کی ترغیب دی۔ حدیث میں گناہوں کی بخشش سے مراد عموماً صغیرہ (چھوٹے) گناہوں کی معافی ہے، جبکہ کبیرہ گناہوں کی معافی کے لیے سچی توبہ ضروری ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں معمولی نظر آنے والے اعمال بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت اجر و ثواب کا باعث بن سکتے ہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے مسلمان بھائی سے خندہ پیشانی، سلام اور مصافحہ کے ساتھ ملے تاکہ محبت بڑھے، _